آلو کا نیا بھاؤ - سجاد بلوچ

(منٹو کے افسانے ”نیا قانون“ سے متاثر ہو کر لکھا گیا)\nگامے کا معمول تھا کہ وہ ہرروز صبح سویرے خبریں سن کر کام پر نکلتا، وہ رکشہ چلاتا تھا، اس کے لیے پہلی سواری کا انتظار بہت مشکل ہوتا، وہ ہمیشہ سوچتا کہ صبح ”بونی“ کرنے کے لیے کوئی ایسی سواری ملے جو زیادہ بھاؤ تاؤ کرنے والی نہ ہو، اس کے خیال میں اس طرح دن اچھاگزرتا، مالی طور پر بھی اور لوگوں سے بات چیت کے حوالے سے بھی، وہ اکھڑ مزاج تھا سوایسا خوش نصیب دن کم ہی ہوتا تھا کہ اس کی کسی سے تلخ کلامی نہ ہو، آج ایک اور اہم بات بھی تھی سو وہ کسی مناسب سواری کے انتظار میں تھا کہ جس سے وہ یہ بات کر سکے، اس نے خبروں میں وزیر اعظم کو کہتے سنا تھا کہ مہنگائی ختم ہو گئی ہے، آلو 5 روپے کلو ہیں، وہ یہ بات کسی سے شیئر کرنے کے لیے بے تاب تھا، اس نے اسی وزیر اعظم کو ووٹ دیا تھا، دوستوں اور لوگوں کے ساتھ اس کی اکثر بحث ہو تی تھی اور وہ حکومت کے کارنامے دہراتے نہیں تھکتا تھا، وہ ان کے ہر عمل کا زور وشور سے دفاع کرتا تھا، چوک کے رکشہ سٹینڈ تک پہنچنے میں تو وقت لگے گا جہاں اس کے دوست تھے، جن سے وہ سارادن سیاست سے لے کر ذاتی دلچسپی کے سب امور پرکھل کر بحث کر سکتاتھا، سٹینڈ پر جانے کا موقع کبھی کبھار ہی آتا تھا جب چوک کی کوئی سواری مل جاتی یا اس کے قریب کسی اورعلاقے کی تو وہ وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ چائے لسی پینے پہنچ جاتا۔ وہ اسی سوچ میں ڈوبا ہوا بیٹھا تھا کہ اس نے ایک خاتون کو اپنی طرف آتے دیکھا، وہ سمجھ گیا کہ اب خیر نہیں یہ بھاﺅ تاﺅ بھی کرے گی اور اگر بیٹھ گئی تو اس سے وہ کیا بات کرے گا، اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس سے زیادہ پیسے مانگے گا اور وہ خود ہی جان چھوڑ جائے گی۔\nسلام، خاتون نے سلام کیا\nوالسلام، جی باجی کہاں جانا ہے،گامے نے بے زاری سے پوچھا\nمال روڈ۔\nجی بیٹھیں، تین سو لوں گا۔\nخاتوں نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو اوررکشے میں گھس کر بیٹھ گئی،\nگامے نے حیرت سے پیچھے مڑ کر پوچھا ، جی باجی، چلیں؟\nہاں ہاں چلو، اس خاتون نے ایسے کہا جیسے اسے بہت جلدی ہو۔\nگاما ایک حیرت اور بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں رکشے کو سٹارٹ کر نے لگا۔\nرستے میں گامے نے ایک دو بار خاتون کی طرف دیکھا لیکن وہ اپنے سیل فون میں مصروف تھی۔اس نے پھر اسے دیکھا، وہ اب بھی مصروف تھی لیکن اس سے رہانہ گیا اور بول پڑا، میڈم جی ایک بات پوچھ سکتا ہوں آ پ سے؟\nکیا بات ہے؟ پوچھو!\nوہ میڈم جی آج صبح میں نے خبریں سنیں، وزیر اعظم نے کہا ہے مہنگائی بہت کم ہو گئی سب کچھ سستا ہے آلو 5 روپے کلو ہیں، کیا ایسا ہی ہے؟\nکیامطلب؟ تم کسی دکان سے پتہ کرو، سبزی والے سے پوچھو مجھے کیا پتہ،\nنہیں جی میں آلو کے علاوہ پوچھ رہا ہوں کیا سب کچھ سستا ہو گیاواقعی،\nبھائی مجھے کیا پتہ ، میں کوئی شاپنگ کر کے آ رہی ہوں، خاتون کی آواز تھوڑی اونچی اور لہجہ تلخ ہو گیا\nگاما جھینپ سا گیا اوراس کے بعد کچھ نہ بولا۔\nگامے کا اصلی نام ضرغام تھا ۔ رکشہ چلانے والے کو کوئی اصلی نام سے کیسے یادکر سکتا ہے۔گھر والے اسے شروع میں گام گام کہتے رہے لیکن جب وہ تعلیم سے محروم ہوا اور ایک چائے خانے پر ملازم ہو گیا تو گاماکہلایا۔تھوڑا بڑا ہوا تو ایک دوست کے توسط سے ایک استاد کے پاس کام پر لگ گیا، وہاں سے بھی مار کھاکھا کے تنگ آ گیا، اگرچہ اس کے دوست نے بہت سمجھایا کہ مکینک بن جائے گا تو مزے کرے گا لیکن اس کے مزاج کو یہ سب راس نہ آیا، وہ ہر وقت کی مار اور گالیاں برداشت نہ کر سکتا تھا سو اس نے یہ پیشہ بھی ترک کر دیا اور ایک سبزی منڈی پر مزدوری کرنے لگا۔ شادی بھی کر لی اور دو بچوں کا باپ بھی بن گیا، اس نے سوچا اس مزدوری میں گزاراکیسے ہو گا، اس لیے اس نے قسطوں پر ررکشہ لے لیا ۔\nاس خاتون کو اتار کر گامے کی بے چینی اور بڑھ گئی، پچھلے چوک میں ساتھ والی سڑک پر سبزی کی بڑی دکان تھی، اس نے رکشہ موڑلیا۔لیکن اس سے پہلے اسے ایک بڑا سٹور نظر آیا اس نے سوچا کیوں نہ یہاں سے بھی اشیاءخورد و نوش کی نئی قیمتیں پوچھتا چلوں۔\nاس نے کچھ دن پہلے ہی دال آٹا چینی وغیرہ خریدے تھے، پہلے وہ روز کے روز خریدتا تھا لیکن اس نے کچھ عرصہ سے اکٹھا سودا خریدنا شروع کر دیا تھا اسے اس کے یار ارشد نے کہا تھا اس طرح برکت نہیں رہتی، ایک بارمہینے کی اکٹھی خریداری کیا کرو۔\nوہ اس سٹور سے آٹے چینی اور دال کی قیمت دریافت کرنے اندر گھس گیا، دکان دار نے وہی قیمت بتائی جس پر کچھ دن پہلے اس نے خریداری کی تھی، اس نے مزید کچھ چیزوں کا بھی پوچھا ،وہی قیمتیں تھیں بلکہ ایک دو چیزوں کی کچھ زیادہ بھی تھیں،وہ پریشانی میں ڈوبا ہو اباہر نکل گیا۔اس نے رکشے تک پہنچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ اسے خبر سننے میں غلطی ہوئی ہے ، یہ صرف آلو سستا ہوا ہے ،باقی چیزوں کے سستے ہونے کی خبر کی اسے سمجھ نہیں آئی،اسے ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،کیونکہ وزیر اعظم تو جھوٹ نہیں بول سکتا،اسے اپنے دوست یاد آئے ، اس نے سوچا تھا سب دوستوںاورجن لوگوں سے بحث کرتا تھا،ان سب کو بتائے گا کہ چیزیںسستی ہو گئی ہیں،وہ خود چیک کر کے آیا ہے ،لیکن یہ تو۔۔۔۔۔\nخیر ویسے بھی وزیر اعظم ایک ہی بار سب کچھ کیسے سستا کر سکتا ہے، آلو یقینا سستا ہوا ہو گا، یہ سوچ کر اسے کچھ اطمینان سا محسوس ہوا۔\nوہ اب تیزی سے سبزی والی دکان پر پہنچنا چاہتا تھا،دکان کے پاس رکشہ روک کے وہ اترا اوردکان دار کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، دو گاہک اس وقت سبزی خرید رہے تھا، گامے نے ان کی باتوں کے بیچ میں دکان دار سے پوچھا بھائی آلو کیا بھاؤ ہیں۔\nبیس روپے بھائی۔\nبھائی میں ابھی خبریں سن کر آ رہا ہوں ، وزیر اعظم نے کہا ہے آلو پانچ روپے کلو ہیں۔\nدکاندار اور ان گاہکوں نے اس کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھا، دکاندار تو باقاعدہ سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے بڑبڑایا، پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں یہ لوگ۔ \nایک گاہک کی تو ہنسی چھوٹ گئی، اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے چھپانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکا ،گاما جو پہلے ہی کنفیوز تھا مزید پریشان ہو گیا اور اس گاہک سے بولا آپ ہنس رہے ہیں ، میں نے کوئی جھوٹ بولا ہے،آپ نے خبریں نہیںسنیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ۔وہ گاہک بھی کوئی ایسے ہی مزاج کا تھا ، اس مذاق اور ہنسی کو بھول کراسے گامے پر غصہ آگیا اور بازو کھولتے ہوئے اورہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا، جاؤ جاؤ دماغ نہ کھاؤ یار ۔\nگاہک کی اس بات پر دکاندار نے بھی گاہک کا ساتھ دینے کے ارادے سے گامے کو باقاعدہ ڈانٹتے ہوئے کہا ، کیا مسئلہ ہواہے تمہیں ، کیوں صبح صبح منہ لگا رہے ہو، جاﺅ جہاں وزیر اعظم آلو بیچتا ہے وہاں سے لو اور میرے گاہکوں کو خراب نہ کرو۔دکاندار کا لہجہ باقاعدہ تحقیرآمیز تھا، اس کا گاہک جب اپنا سامان اٹھا کر جانے لگا،تودکاندار نے آگے بڑھ کر اس کے سامان کے بڑے تھیلے خود اٹھائے اور اس کی گاڑی میں رکھنے چلا گیا، وہ دونوں باتیں کر رہے تھے، عجیب لوگ ہیں یار صبح صبح موڈ خراب کرنے آ جاتے ہیں۔\nگامے کا غصہ مزید بڑھ گیا اورخدا جا نےاسے کیا سوجھی کہ وہ چیخ پڑا۔تم مجھے جھوٹا کہہ رہے ہو؟ تم خود جھوٹے ہو، فراڈیے ایک نمبر کے، تم آلووں میں بھی ڈبل منافع کما رہے ہو۔\nدکاندارکی برداشت کی حد بھی ختم ہو چکی تھی، اس نے بھی اوپر نیچے دو تین موٹی موٹی گالیاں نکالیں۔\nدونوں گتھم گتھا ہو گئے۔لوگوں نے بیچ بچاﺅ کرایا لیکن اس وقت تک گامے کی قمیص گریبان سے نیچے تک پھٹ کر دو ہو کر کھلا اوور کوٹ بن چکی تھی۔وہ بڑبڑاتا ہوا رکشے کی طرف جا رہا تھا ”وزیر اعظم جھوٹ کیسے بول سکتا ہے“