علامہ اقبال اور ادریس آزاد صاحب - وحید مراد

وحید مراد علامہ اقبال نے خطبات کے غیر اسلامی خیالات سے رجوع کر لیا تھا\n\nمحترم ادریس آزاد صاحب نے جنت و دوزخ سے متعلق خطبات اقبال میں علامہ اقبال کے مؤقف کی وضاحت میں ”دلیل“ پر جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت قابل قدر ہونے کے باوجود جزوی طور پر درست ہے اور کلی طور پر اصلاح و ترمیم کا محتاج ہے۔ میرے محترم آزاد صاحب نے اقبالیات سے متعلق صرف چند ہی محقیقین کا حوالہ دیا ہے اور اس ضمن میں بعض اہم ترین ماہرین اقبالیات اور خطبات اقبال پر ہونے والے کئی مباحث کا سرے سے حوالہ ہی نہیں دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادریس آزاد صاحب مصروفیات کے باعث جدید مصادر تک نہیں پہنچ سکے۔\n\nبنیادی سوال صرف یہ ہے کہ اقبال نے خطبات میں اسلامی عقائد و اصول اور خصوصا آخرت،جنت ،جہنم کے حوالے سے جو کچھ لکھا وہ ان کے ذاتی خیالات ،تفردات تھے یا نہیں؟ اور یہ کہ اقبال مرتے دم تک ان تفردات پر قائم رہے یا نہیں؟\n\nسوال کے پہلے جزو کی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی علم کلام کی تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ پہلی صدی ہجری میں اٹھنے والے مختلف مذہبی گمراہ مکاتب فکر کے یہاں اقبال جیسے خیالات کثرت سے مل جاتے ہیں۔ اقبال کو جس زمانے میں فلسفے سے دلچسپی پیدا ہوئی تب انہوں نے کلامی مباحث پڑھے، ان سے متاثر ہوئے اور خطبات میں ان مباحث کا اثر نظر آیا مگر جنت، جہنم، آخرت کے بارے میں خیالات ان کے تفردات، تحقیقات نہیں مسلمانوں کے گمراہ فرقوں کے اثرات تھے جو عقلیت پرستی کے دور میں اقبال پر اثر انداز ہوئے لیکن جب انہوں نے فلسفے سے قطع تعلق کیا اور صرف قرآن اور مثنوی مولانا روم سے تعلق قائم کیا تو عقلیت پرستی کے ان افکار سے خود رجوع کر لیا۔ مکاتب اقبال میں اہل قرآن مکتب فکر کے ایک مفکر مولوی ابراہیم حنیف سے اقبال کی مراسلت میں یہ گفتگو پڑھی جا سکتی ہے۔\n\nسوال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ علامہ اقبال نے خطبات میں موجود غیر اسلامی خیالات سے رجوع کر لیا تھا اس سلسلے میں آپ مندرجہ ذیل حوالہ جات کا مطالعہ فرمائیں:\n1۔ سہیل عمر کی کتاب ـ ”خطبات اقبال نئے تناظر میں“ اس کتاب کے اختتام پر سہیل عمر صاحب نے ۱۹۳۵ء میں لاہور کے استقبالیے میں علامہ اقبال کی وہ تقریر درج کی ہے جس میں ان کے رجوع کا واضح اعلان نظر آتا ہے۔\n2۔ سہیل عمر کے حوالے سے پہلے خطبات اقبال کے بعد کی شاعری کا مطالعہ ضروری ہے۔ خطبات ۱۹۲۶ء میں لکھے گئے اس کے بعد علامہ اقبال کی کتاب ضرب کلیم، ارمغان حجاز وغیرہ منظر عام پر آئیں۔ یہ اقبال کے افکار کی حقیقی ترجمان ہیں کیونکہ فلسفی اپنے افکار بدلتا رہتا ہے، ہر بڑا فلسفی اپنے افکار میں ارتقا کرتا ہے لہذا اسے دو خانوں میں عموما تقسیم کیا جاتا ہے Early اور Later ۔۔ لہذا خطبات کے مباحث، ضرب کلیم ،ارمغان حجاز کی روشنی میں خود اقبال کے قلم، زبان قلب سے رد ہوگئے، اس کی تفصیلی بحث سہیل عمر کی کتاب میں پڑھی جا سکتی ہے۔\n3۔ خطبات کے غیر اسلامی مباحث سے اقبال کے رجوع کی تفصیلی داستان ماہنامہ ساحل جون ۲۰۰۶ء میں موجود ہے۔ سہیل عمر صاحب نے اپنی کتاب خطبات اقبال نئے تناظر کے اختتام پر خطبات کے غیر اسلامی مباحث سے اقبال کے رجوع کا جو اشارہ اقبال کی تقریر سے دیا تھا اس کی تفصیل ماہنامہ ساحل کے اس شمارے میں موجود ہے. امالی غلام محمد میں سید سلیمان ندوی نے خطبات اقبال سے متعلق جو اشارات، کلمات، بیانات پیش کیے ہیں، ان سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اقبال نے خطبات سے رجوع لر لیا تھا۔\n4۔ امالی غلام محمد کی وضاحت، تردید کے سلسلے میں اقبال اکادمی نے ایک کتاب میرا بزم بر ساحل کے آنجا کے نام سے پیش کی جس کا جواب کراچی کے ماہنامہ ساحل نے ستمبر ۲۰۰۶ء، اکتوبر ۲۰۰۶ء، نومبر، دسمبر۲۰۰۶ء میں تفصیل کے ساتھ دیا جس کے بعد اقبال اکادمی نے شکست تسلیم کر لی۔ اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر جناب سہیل عمر اورجناب احمد جاوید صاحب صلح کے لیے کراچی تشریف لے گئے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کےگھر پر فراست رضوی صاحب کے ذریعے مدیر ساحل سے ان صاحبان کی ملاقات ہوئی اور معاملات طے پائے، اس کے بعد احمد جاوید صاحب، فراست رضوی صاحب کے ساتھ دوسری مرتبہ خالد جامعی صاحب کے گھر تشریف لے گئے اور صلح کی درخواست کی ان مباحث کی تفصیل سمیع اللہ سعدی کے نام خالد جامعی صاحب کے خط میں موجود ہے، یہ خط ماہنامہ البرہان کے شمارہ جولائی، اگست، ستمبر میں شائع ہو چکا ہے اسے ملاحظہ کیجیے۔ اس کا عکس آپ کو ارسال کیا جا رہا ہے۔\n5۔ جب علامہ اقبال نے اپنے غیر اسلامی خیالات سے رجوع کر لیا تو اقبال کے سابقہ خیالات کے بارے میں ادریس آزاد صاحب کی تحقیقات کار لاحاصل ہیں۔جب اقبال کے وہ خیالات ہی نہ رہے تو ان کی وضاحت ،صراحت،تشریح،تفسیر کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔\n6۔ڈاکٹر برہان الدین نے بھی خطبات اقبال کا ایک نقد انگریزی میں لکھا تھا یہ نقد ابھی تک غیر مطبوعہ ہے اور اقبال اکیڈمی میں محفوظ ہے ۔خضر یاسین صاحب کے پاس بھی اس کا مسودہ محفوظ ہے ۔ادریس آزاد صاحب نے اس کا بھی مطالعہ نہیں کیا۔\nمجھے امید ہے کہ ادریس آزاد صاحب اپنے مضمون کا از سر نو جائزہ لیں گے اور ان دستاویزات کتب اور حقائق کی روشنی میں اپنے موقف سے رجوع کرکے نئی تحقیقات پیش فرمائیں گے۔ اس سلسلے میں وہ خالد جامعی صاحب اور اقبال اکیڈمی کے مابین ہونے والے مباحث کا بھی تفصیلی مطالعہ فرمائیں۔ جریدہ ۳۷ اس حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے۔\n\nادریس آزاد صاحب نے شرک، توحید سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بھی درست نہیں ہیں۔ اگر وہ عربی،فارسی زبانوں سے واقف ہیں تو راقم کچھ کتابیں تجویز کرے گا جنہیں وہ پڑھ لیں تاکہ ان کے خیالات کی اصلاح ہو سکے۔ انہوں نے اہل حدیث مکتب فکر کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ شیخ اکبر کو گمراہ کہتے ہیں، یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ امام ابن تیمیہ کے فتاویٰ میں شیخ کی تعریف تو ہے تکفیر نہیں۔ شیخ ابن تیمیہ خود صوفی تھے۔ فتاویٰ کی دو جلدیں سلوک اور تصوف پر ہیں۔ ادریس صاحب ان کا مطالعہ عربی میں کرلیں۔ ابن تیمیہ ،شیخ عبدالقادر جیلانی کے سلسلے میں بیعت تھے، ان کے پاس شیخ جیلانی کا خرقہ اور جبہ بھی تھا۔