مجھے جنگوں سے نفرت ہے - رضوان اللہ خان

’’کبھی تاریخ پڑھو تو تمہیں نظر آئے کہ جنگوں میں کیا ہوتا ہے، لوگ کیسے بھوک سے مرتے ہیں اور معیشت کیسے تباہ ہوتی ہے؟‘‘
میرے ایک کالم نگار دوست جنگوں کے نقصانات بیان کر تے ہوئے مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے سو فیصد متفق ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہاں لیکن تم تو بہت کم نقصانات بتا رہے ہو، شاید تم نے تاریخ کا مطالعہ صرف اتنا ہی کیا ہوگا کہ معیشت کہاں سے کہاں پہنچی اور بھوک سے کُل کتنے لوگ دنیائے فانی سے رخصت ہوئے‘‘۔

درحقیقت جنگوں میں نقصان کس قدر زیادہ ہوتا ہے اس کو دیکھنے کے لیے امتِ محمد ﷺ کی تاریخ سے بھی پہلے کی تاریخ تک جانا ہوگا۔ جہاں وقت کی فراعین گھر گھر میں پیدا ہونے والے بچے کا سر قلم کروادیتے، جہاں ہر پیدا ہونے والی لڑکی کو بادشاہ کی کنیز سمجھا جاتا تھا، جہاں غلاموں کو زنجیروں میں جکڑ کر جانوروں سے بھی سخت کام لیا جاتا۔ ایسے دور میں جنگوں کا بھلا کیا حال ہوتا ہوگا کیا کبھی کسی نے جاننے کی کوشش بھی کی؟ اگر نہیں تو دیکھیں اہل مصر جنگوں میں چھوٹے بچوں کو بھی آگ لگا دیا کرتے، فراعین عورتوں کی کھالیں تک اُتار دیا کرتے، بڑے بڑے جنگجو جنگ سے لوٹنے پر غلام عورتوں کی عزت لوٹنا اپنا فرض سمجھتے تھے، درندگی کی حد تو یہ تھی کہ چھوٹی بچیاں اپنے خوبصورت نین نقش کے حساب سے کسی بڑے کمانڈر کو تحفہ دی جاتیں۔

جنگ جیتنے کے بعد ہاتھ آنے والے بچے ننگے بدن سار ا سارا دن کام کیا کرتے، بوڑھوں کے بوڑھے کاندھے منوں بوجھ تلے دبا دئیے جاتے اور جوانوں کے عضو خاص تک کاٹ دئیے جاتے تھے۔ سقراط کے ایتھنز اور پورے یونان کی جنگوں کا حال دیکھ لیجئے کہ عین جنگ کے دوران ہی فوج کے شرابی نوجوان کسی گھر میں گھس جاتے، تمام مردوں کو قتل کردیا جاتا اور عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا۔ کئی کئی راتیں انہی لڑکیوں کو اپنے گھوڑوں پر باندھے رکھتے اور جہاں رات ہوئی وہیں سب چیل کوؤں کی طرح ان پر جھپٹ پڑتے اور سارا جسم نوچ لیتے۔

قیصر وقیصریٰ کی فوج بھی کچھ مختلف نہ تھی، وہ جہاں جاتے شہر کے شہر روند ڈالتے، گھروں اور کھیتوں کوآگ لگا دیتے ، عورتوں اور بچوں کو گھوڑوں کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا کرتے۔ پھر ان چودہ سو سالہ تاریخ میں جنگیں بھی اسی طرز پر ہوتی رہیں، اندلس فتح کرنے کے بعد عیسائیوں نے سزائوں کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے، جو شخص عیسائی ہونے سے انکار کر دیتا اس کی ایک ٹانگ ایک گھوڑے کے ساتھ اور دوسری ٹانگ دوسرے گھوڑے کے ساتھ باندھ کر انہیں مختلف سمت میں دوڑا دیا جاتا۔ اینکویزیشن جیسی دہشت گردانہ اور سفاکانہ سزا پادریوں کی ایجاد تھی جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عیسائی نہ ہونے والی یا خفیہ نماز پڑھنے والی لڑکیوں کے بھی بدن سے کپڑے چھین لئے جاتے اور میخوں سے بھری میز پر لٹا دیا جاتا ۔ اللہ اکبر کبیرا ۔ اینکویزیشن میں کیسی کیسی سزائیں تھیں مجھ میں ہمت نہیں کہ ابھی انہیں بیان کرسکوں سو موجودہ دور میں جنگوں میں برپا کئے جانے والے ظلم کی بھی چند جھلکیاں دیکھ لیتے ہیں۔

عراق پر امریکی حملہ : سکول جاتی بچیوں کا ریپ، چھوٹے بچوں کو سنائپر سے نشانہ بنا کر قہقے لگانا، عورتوں پر اپنے نشانے سیٹ کرنا ، زندہ لوگوں پر ٹینک چڑھا دینا۔
افغانستان پر امریکی حملہ: کم عمر لڑکیوں کو اٹھا کر ہیلی کاپٹر میں لے جا کر ریپ کرنا اور ہوائوں سے اس کا مردہ بدن زمین پر پھینکنا، ڈیزی کٹر بم، کارپٹ بمباری، گھر تباہ، سکول تباہ، حوس کے پجاری چھوٹے بچوں کو بھی حوس کا نشانہ بناتے ہوئے، لاکھوں لوگوں کی جانیں صرف خود کو سپر پاور ثابت کرنے کی خاطر۔
برما میں بدھوں کا ظلم : اپنی عصمت کی حفاظت میں عورتوں کا دریائوں میں کودنا، بچوں کے اوپر سے گاڑیاں گزاری گئیں، کُند چھریوں سے گلے کاٹے گئے، لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، بوڑھوں کی داڑھیاں نوچی گئیں۔
افریقہ میں عیسائیوں کا ظلم: کلہاڑوں اور چھریو ں سے مسلمانوں کی گردنیں کاٹنا، ان کے جسم کو چیر پھاڑ دینا، ان کے کلیجے اور دل چپبانا، پوری پوری ٹانگ کاٹ کر اس کا گوشت کھانا۔
شام میں بشار کا ظلم: عمر ، ابوبکر، عائشہ، حفصہ اور عثمان نام کے لڑکے لڑکیوں کو زندہ آگ لگانا، بچیوں کی ننگی لاشیں بجلی کی تاروں پر لٹکا دینا، عمر نام کے بچوں کے جسم کو آگ لگا کر عضو خاص کاٹ ڈالنا، حلب کو خون میں نہلا دینا۔
کشمیر میں بھارتی ظلم: کون نہیں جانتا اس ظلم سے متعلق، کوئی آج کل کی تو بات ہے نہیں، ایک طویل کہانی ہے جہاں ہر صفحہ خون آلود، ہر صفحے پر عصمت دری، ہر صفحے پر گردن زنی اور ہر صفحے پر ہندوئوں کی دہشت گردی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

ہزاروں جنگیں اور ان میں برپا کیا جانے والا ظلم بیان کرنے اور ان کا احاطہ کرنے کے لیے سینکڑوں جلدوں پر مشتمل کتب بھی کم پڑجائیں گی لیکن سچ کہتا ہوں میرا رب جانتا ہے اس ظلم اور سفاکی کی وجہ سے جب بھی کوئی جنگ کرنے اور جنگ ہونے کی بات کرتا ہے تو میرا خون کھول اُٹھتا ہے، کیونکہ ظلم کی ان طویل داستانوں کی وجہ سے مجھے جنگوں سے نفرت ہے اور جب کوئی مسلمان کسی ملک سے جنگ کی بات کرتا ہے تو سوچتا ہوں کہ ارے نادان جس اُمت کو رب نے ’’جہاد‘‘ جیسا فریضہ دے رکھا ہو، وہ ایسی جنگوں کی بات کیسے کر سکتا ہے؟

یہی بات اپنے ان کالم نگار دوست کے لیے بھی کہتا ہوں کہ معیشت اور بھوک سے نکل کر بھی جنگوں کی تاریخ دیکھیں اور ان سب کا موازنہ مسلمانوں کے جہاد کے ساتھ کریں، جس جہاد کے خلاف دلائل دینے کے لئے انہوں نے جنگوں کے بیان کا سہارا لیا ۔ ایک ایسا فریضہ جس میں حکم ہی یہی ہے کہ صرف مدِ مقابل فوج ہی کو قتل کر سکتے ہو اس کے سوا، بچے، بوڑھے، عورتیں، گرجوں اور عبادت گاہوں میں مصروف لوگ اور ان کے مال مویشی کبھی تمہاری تلواروں کی زَد میں نہ آئیں۔ اورتاریخ گواہ ہے کہ اوپر بیان کردہ جنگیں ہم پر تب تب مسلط کی گئیں جب جب جہاد کے منکرین جہاد کے خلاف میدانوں میں نکل آئے اور مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو کم کرنے یا ختم کرنے کی گھنائونی سازش میں مصروف ہوئے۔

سو ایسے ہر دانشور کو جان لینا چاہیے کہ کشمیر کی حریت پسند تحریکیں جو اپنا لہو جہادی ولولوں کے ساتھ پیش کررہی ہیں یہ سب اس غزوہ ہند کے شرکاء ہیں جس غزوہ کا اعلان چودہ سو سال قبل نبی رحمتﷺ نے اپنی مبارک زبان سے فرما دیا تھا اور یہ بھی یاد رکھا جائے جب بھی بھارت سے جنگ ہوگی تو وہ ان کی جانب سے جنگ لیکن مسلمانوں کی جانب سے جہاد ہوگا جوکہ غزوہ ہند کا آخری وار ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.