والدین سے معذرت کے ساتھ - میاں جمشید

میاں جمشید کون چاہتا ہے کہ اسے کوئی پیار نہ کرے ، اس کی تعریف نہ کرے . . کوئی توجہ نہ دے . . کوئی محبت سے نہ بلاے. . . وغیرہ وغیرہ . . .\nیقین جانیں سب ہی ایسا کوئی تعلق چاہتے ہیں جس میں مان ہو ، خیال ہو ، بہت ہی اپنا پن ہو . . بلاوجہ کا خوف نہ ہو . .\nایسا تعلق کہ جس میں سکوں ہو ، باتوں و رویوں میں مٹھاس ہو . . اور پہلا اتنا خالص تعلق صرف والدین کا اپنی اولاد ساتھ ہوتا ہے . . ہونا چاہیے ، مگر . . .\nمگر یہ جناب، کہ آجکل زیادہ کمانے ، آسائش پانے کے چکر کی مصروفیت ، یا کہیں انا و جھگڑوں کی وجہ سے اکثر والدین کہیں جان بوجھ کر اور کہیں انجانے میں اپنی اولاد ساتھ اتنا کے فاصلہ بڑھا لیتے جس کا اثر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا . . .\nجب آج کا نوجوان اپنے والدین کو صبح و شام تک مصروف دیکھے ، یا ان کے سخت رویہ کے خوف سے سامنے آنے سے گھبرایے تو ایسی اولاد پھر کیسے ، کس طرح اور کس سےاچھی تربیت و رہنمائی پاے؟؟ ٹیچر سے؟ کتابوں سے ؟ میڈیا سے؟ انٹرنیٹ سے ؟؟ کمال کرتے ہیں آپ بھی .\nتو محترم والدین ، اگر آپ اولاد کو تعلیم ، خوراک ، پہناوا ، اچھی سہولیات وغیرہ جیسی بنیادی ضروریات دیتے وقت اس میں اپنی "محبت و توجہ" شامل نہیں کرتے تو یقین مانیں سب بے معنی ہے . بیکار ہے...\nاولاد کو پیسہ و سہولیات سے پہلے اور ساتھ پیار دیجئے. اپنا لمس دیجئے . دوست بنئے . وقت دیجئے. . .ناکامی کے بعد بھی ساتھ دیجئے . .\nحوصلہ و رہنمائی دیجئے . .\nاپنی توجہ و خیال دیجئے .اپنی مسکراہٹ و شرارت دیجئے. . .\nاور اگر آپ گھر میں نہیں دیں گے تو وہ باہر سے لیں گے اور باہر والے جیسے دیتے ہیں وہ آپکو خوب پتا ہے. .\nبچےنہیں ہیں آپ!