آج کا تاریخی دن، جب پاکستان کو پہلی ٹیسٹ فتح ملی - محسن حدید

محسن حدیدا آج کے دن 1952ء میں پاکستان نے اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی تھی۔ یہ پاکستان کا صرف دوسرا ٹیسٹ میچ تھا۔ اس لحاظ سے یہ ایک بہت بڑی خبر تھی جس نے دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا۔ کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ انڈیا جیسی مضبوط ٹیم جسے ٹیسٹ کھیلتے ہوئے 20 سال ہوچکے تھے، اسے ایک نو آموز ٹیم شکست دے دے گی۔ پاکستان نے مگر اپنی موجودگی کا شاندار احساس دلایا اور آنے والے تابناک دنوں کی نوید سنا دی۔\n\nاپنی پہلی ہی سیریز میں ٹیسٹ میچ جیت جانا اور وہ بھی ایک اننگز سے، ایسا کارنامہ کسی اور ملک نے کیا ہو، تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں۔\n\nانگلینڈ اور آسٹریلیا کو اس میں استثنی حاصل ہے کیونکہ دونوں کرکٹ کے ایک طرح سے بانی گنے جاتے ہیں اور انگلینڈ آسٹریلیا کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ شروع ہونے سے پہلے بھی ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل کھیلتے چلے آرہے تھے، اس لیے طرفین میں تجربے اور مہارت کا کوئی فقدان نہیں تھا۔ ویسے انگلینڈ اور آسٹریلیا دونوں نے اپنی پہلی ہی سیریز میں ایک دوسرے کو ٹیسٹ میچ ہرا دیا تھا، تاریخ کا پہلا ٹیسٹ بھی انہی دو ملکوں کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں آسٹریلیا کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اگلے ہی میچ میں انگلینڈ نے اپنا بدلہ اتار لیا تھا۔ انگلینڈ کے بعد پاکستان واحد ٹیم ہے جس نے اپنا دوسرا ہی میچ جیتا ہو۔\n\nقارئین کی دلچسپی کے لیے بتاتا چلوں کہ بنگلہ دیش نے اپنا پہلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے تقریبا 5 سال انتظار کیا اور اس سے پہلے مسلسل 17 سیریز میں شکست کھائی۔ اپنا پہلا ٹیسٹ جیتنے سے پہلے اتنی مسلسل سیریز کسی اور ٹیم نے نہیں ہاری ہیں۔ انڈیا کو اپنا پہلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑا تھا، جب 1952ء میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ جیتا۔ اسی سال دوسری کامیابی اسے پاکستان کے خلاف حاصل ہوئی تھی۔ نیوزی لینڈ کو اپنی پہلی ٹیسٹ فتح کے لیے 26 سال انتظار کرنا پڑا تھا، اس نے پہلی دفعہ ویسٹ انڈیز کے خلاف مارچ 1956ء میں فتح حاصل کی۔ ساؤتھ افریقہ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 17 سال کی شدید محنت کے بعد جیتا تھا جب انہوں نے جنوری 1906ء میں انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ میں شکست دی تھی۔ ساؤتھ افریقہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد ٹیسٹ سٹیٹس حاصل کرنے والی تیسری ٹیم ہے۔ سری لنکا خوش نصیب ٹیم تھی جس نے صرف تین سال بعد اپنے 14 ویں ٹیسٹ میچ میں ہی فتح حاصل کر لی تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کے بہت عرصے بعد تک بھی سری لنکا کو بے بی آف کرکٹ کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ ویسٹ انڈیز والے قدرتی ٹیلنٹڈ اور کرکٹ کے لیے شائد فٹ ترین لوگ تھے۔ 1928ء میں ویسٹ انڈین جزائر پر مشتمل کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا، اور 1930ء میں اپنی دوسری ہی سیریز میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو ٹیسٹ میچ ہرا دیا، حالانکہ انگلینڈ سے ہی پہلی سیریز میں ویسٹ انڈیز کو کلین سویپ شکست بھی ہوچکی تھی۔ زمبابوے کو بھی پہلی ٹیسٹ فتح صرف تین سال بعد مل گئی تھی جب پاکستان کی مضبوط ترین ٹیم زمبابوے کے خلاف ڈھے گئی تھی۔ سلیم ملک کی کپتانی میں فروری مارچ 1995ء میں زمبابوے کا دورہ کرنے والی ٹیم نے پہلا ٹیسٹ جس طرح ہارا، اس پر آج بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ میچ فکسنگ کے حوالے سے یہ میچ بہت بدنام گنا جاتا ہے مگر اب یہ تاریخ ہے۔\n\n

پاکستانی ٹیم کلکتہ ائیرپورٹ پر
پاکستانی ٹیم کلکتہ ائیرپورٹ پر
\n\nخیر موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان کی اس عظیم ترین فتح کے معمار عظیم فضل محمود تھے، جنھوں نے اس میچ میں 12 وکٹیں حاصل کیں۔ انڈین ٹیم بہت مضبوط تھی، اس میں لالا امرناتھ اور پولی امریگر جیسے بڑے کھلاڑی موجود تھے۔ وجے منجریکر (مشہور کمنٹریٹر اور بلے باز سنجے منجریکر کے والد) بھی اس میچ میں انڈین ٹیم کا حصہ تھے، مگر کسی کے پاس فضل محمود کی شاندار باؤلنگ کا جواب نہیں تھا۔ پاکستان نے انڈیا کو پہلی اننگز میں صرف 106 رنز پر آؤٹ کردیا۔ اس اننگز میں فضل محمود نے 5 وکٹیں حاصل کیں، وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ اننگز میں 5 وکٹیں لینے والے پہلے باؤلر بن گئے۔\n\n
لکھنو میں پاکستانی ٹیم کے لیے گورنر کی طرف سے استقبالیہ
لکھنو میں پاکستانی ٹیم کے لیے گورنر کی طرف سے استقبالیہ
\n\nجواب میں نذر محمد کی شاندار اور تقریبا 9 گھنٹے لمبی محنت بھری 124 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان نے 194 اوورز میں 331 رنز بنائے۔ اس میچ میں انڈیا کو اپنے کامیاب ترین باؤلر ونو منکڈ (بہترین آل راونڈر تھے) کی خدمات حاصل نہیں تھیں، جنہوں نے گزشتہ میچ میں 13 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ان کی غیر موجودگی انڈیا کے لیے بہت بڑا نقصان ثابت ہوئی اور پاکستان ایک اچھا ٹوٹل تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری اننگز شروع ہوئی تو فضل محمود جیسے قہر بن کر انڈین بلے بازوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنی پہلی اننگز سے بھی بہترین باؤلنگ کر ڈالی۔ دوسری اننگز میں انڈین ٹیم صرف 182 رنز بنا سکی۔ فضل محمود نے 27 اوورز میں صرف 42 رنز دے کر 7 انڈین بلے بازوں کو پویلین کا راستہ دکھا دیا۔ پاکستان کو اس میچ میں ایک اننگز اور 43 رنز کی شاندار فتح نصیب ہوئی۔\n\n
فضل محمود
فضل محمود
\n\nیاد رہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں انڈیا نے بھی پاکستان کو ایک اننگز سے شکست دی تھی۔ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میچ میں پہلی دفعہ 10 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی فضل محمود کے حصے میں آگیا۔ نذر محمد نے ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز اپنے نام کیا اور تاریخ میں امر ہوگئے۔ انڈیا کے ہری لال گائیکواڈ کا یہ واحد ٹیسٹ میچ ثابت ہوا، وہ دوبارہ کبھی انڈیا کے لیے نہیں کھیل سکے۔ پاکستان کی طرف سے کھیلنے والے امیر الہی اور حفیظ کاردار دونوں متحدہ ہندوستان کی طرف سے بھی کھیل چکے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ امیر الہی نے انڈیا کی طرف سے اپنا واحد ٹیسٹ میچ دسمبر 1947ء میں کھیلا تھا جب پاکستان معرض وجود میں آچکا تھا۔ یہ انڈیا کی طرف سے ان کا پہلا اور آخری ٹیسٹ بھی ثابت ہوا۔