یہ ناک کٹ ہی جائے تو بہتر ہے - الماس چیمہ

جس طرح لوگوں کے فنگر پرنٹس آپس میں نہیں ملتے، ایسے ہی ناک بھی کسی سے نہیں ملتی.\nناک خوبصورت ہو تو شکل کو چار چاند لگ جاتے ہیں.\n کچھ لوگوں کی ناک دیکھ کر لگتا ہے کہ رات کو حسرت سے چاند دیکھتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ کاش میرے لیے بھی چاند والا محاورہ بولا جاتا.\nیقین جانیے، لفظ ناک بولنے میں بہت معصوم لگتا ہے لیکن دنیا کے سو فیصد نہ سہی تو اسی فیصد مسائل اسی میں پوشیدہ ہیں. \nہمارے محلے میں ایک سفید پوش گھرانا ہے، قرضے میں ڈوب کر بیٹی کی شادی کی تھی، عمدہ جہیز، انواع و اقسام کے کھانے، اتنے زیادہ آئٹم کہ بندہ دیکھ کر دنگ رہ جائے کہ کیا کھائے اور کیا چھوڑے، واقعی تعریف کے قابل، مگر کیا فائدہ ایسی تعریف کا، شان و شوکت کا، جو جھاگ کی طرح پل میں بیٹھ جائے،\nچند ماہ بعد کافی افسردہ ملیں کہ قرض ادا نہیں ہو رہا بلکہ سود کی مد میں بڑھتا جا رہا ہے.\nمیں نے کہا آنٹی، اتنا زیادہ خرچہ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ سادگی میں بھی بیاہ ہو سکتا ہے، جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانے چاہییں. \nبولیں کہ برادری میں ہماری ناک نہیں رہنی تھی، اگر دھوم دھام سے شادی نہ کرتے. \nلو جی کر لو گل! بس ناک رہنی چاہیے، چاہے گھر بیچ کر سڑک پر آنے کی نوبت آ جائے. \nایک اور جاننے والی ہیں، میں نے پوچھا گیارہ بجے ہی اٹھنے کا سٹیٹس کیوں دیتی ہو، جبکہ اٹھتی تو تم پانچ بجے ہو ورنہ اماں کا جوتا چل جاتا ہے. \nبولی، میری آئی ڈی میں سب ہائی کلاس لوگ ایڈ ہیں، وہ گیارہ بجے ہی اٹھتے ہیں، میں نے ناک نہیں کٹوانی، 5 بجے اٹھنے کا بتا کر.\nتوبہ توبہ .... ہاتھ کانوں تک جاتے جاتے رک جاتا ہے، بے ساختہ ناک چھونے کو من کرتا ہے.\nپسند کی شادی میں لڑکی کو آگ لگائی جاتی ورنہ ناک کٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے.\nبیٹی وراثت میں سے حصہ مانگ لے تو بھی ناک کٹ جاتی ہے. \nلنڈے کے سویٹروں کو، ماموں لندن سے لائے تھے، کا لیبل نا لگایا جائے تو بھی ناک کٹ جاتی ہے. \nمرد حقوق و فرائض ادا کرنے کے قابل ہو کر بھی دوسری شادی کرے تو بھی ناک کٹ جاتی ہے. \nاس ناک کے بارے میں یہی کہنا ہے کہ یہ کٹ ہی جائے تو بہتر ہے.

ٹیگز