موروثی سیاست کے پرانے گملے میں جمہوریت کا نیا پودا - نعیم الدین جمالی

ملک کی موجودہ سیاسی فضا بدلتی نظر آ رہی ہے، بدلتے تیور کی وجہ سے ایک بھونچال سا آگیا ہے، سرل المیڈا کی سنسنی خیز خبر کی وجہ سے اداروں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی، پانامہ کا جن بوتل سے باھر اور بے قابو نظر آتا ہے، عمران خان کے دو نومبر کے دھرنے کی وجہ سے وطن عزیز کا ہر باشعور انسان تشویش واضطراب میں ہے، آنے والی باری جیتنے کے لیے ہر سیاسی جماعت اپنی طاقت دکھانے کے لیے جلسے جلوسوں میں مصروف عمل ہے.

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا ہے، شہداء کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انہوں نے بڑے جلسے سے خطاب کیا اور دعوی کیا کہ آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے جیتی گی ،اس لیے انہوں نے پارٹی میں تبدیلی شروع کردی ہے، آج ہم پیپلز پارٹی کے مستقبل کے بارے میں چند باتیں کرینگے.

پیپلز پارٹی پاکستان کی چند گنی چنی پارٹیوں میں سے ہے ،جنہیں تین دفعہ ملک میں حکمرانی کرنے کا موقع ملا ،بھٹو کے دور حکومت اس پارٹی نے چند نمایاں کردار ادا کیے،آئین کی تشکیل ،جوھری نظام ،مکینکل صنعتوں کا فروغ ،اسٹیل مل کی بنیاد ،مزدوروں کے حقوق کی قانون سازی وہ عمدہ کارنامے ہیں جس کی وجہ ملک کے طول وعرض میں اس پارٹی نے اپنی جڑیں مضبوط کیں ،لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے مدت اقتدار پر دو دفعہ ڈاکا ڈالا گیا ،جس کی وجہ سے مزید یہ پارٹی کچھ نہ کر پائی ،لیکن گذشتہ الیکشن میں بی بی شھید کی شھادت کی وجہ سے پارٹی کی لاٹری کھل گئی ،بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر اقتدار میں اگئی ،لیکن ناکام سیاست،لوٹ کھسوٹ کی وجہ اس پارٹی نے اپنی وقعت کھونا شروع کی ،یہ پہلا دور تھا جب پیپلز نے اپنی پانچ سالہ حکومتی مدت پوری کی، تب پارٹی کی لگام آصف علی زرداری کے پاس تھی، ایسے لوگوں کو وزیر اعلی ،اعظم بنایا گیا تھا ،جنہوں نے اہنی دکان داری کھول رکھی تھی، کرپشن، تعلیمی پسماندگی ،صحت وتعلیم، غربت میں بے پناہ اضافہ، اسی دور حکومت کے انعام تھے، زرداری دور حکومت کی کارگردگی صفر +صفر رہی،اسی تنزلی کی وجہ پورے ملک پر حکمران کرنے والی جماعت صرف ایک صوبہ تک محدود رہ گئی،پنجاب ،کے پی کے اور بلوچستان میں آٹےمیں نمک برابر، گلگت میں پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود ایک نشست بھی نہ جیت سکی،ماسوائے سندھ کے پیپلز پارٹی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا.

سندھ میں طویل حکمران کی کارگردگی سن کر کانوں میں پیپ پڑتا ہے ،زبان لکنت زدہ ہو جاتی ہے ،جمھوریت کے نام پر ایک خاص اشرافیہ طبقہ پنپ رہا ہے.گزشتہ کی طرح موجودہ دور حکومت میں بھی نئے چھرے لاکر عوام کو ٹھگنے کا عمل زوروں سے جاری ہے، 83سالہ بوڑھے وزیر اعلی کو ہٹا کر 53سالہ نوجوان کو وزیر اعلی بنانے کے علاوہ کوئی کارنامہ دوربین لگانے سے بھی نظر نہیں آتا ،عوام کو لوٹ کھسوٹ کرکے انکا بھرکس نکال دیا ہے. اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت کی انتہاؤن میں بسنے والی آبادی% 75.5 تک پہنچ چکی ہے ،دیہی علاقوں کی صورتحال حکومتی دور کی بد ترین گراوٹ پر ہے ،صرف ضلع عمر کوٹ 84.7جبکہ تھر پارکر 87فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.

عوام کا آج بھی روٹی ،کپڑا اور مکان کا مطالبہ ہے اگر پیپلز پارٹی وہ نہیں دے پارہی ،تو عوام نے انیس سال کے طویل سفر سے بھت کچھ سیکھ لیا ہے ،عوام آپکے سیاسی نعرے ،شاطرانہ چالیں ،سبز باغ دکھانے کے کھوکھلے دعوی سب سمجھ چکی ہے ،اب اگر آنے والے دور میں بھی اپنا سیاسی قبلہ درست نہ کیا تو شاید پارٹی ہمیشہ کے لاڑکانہ میں دفن ہوجائے گی ،سندھ میں دیگر پارٹیوں کا اتحاد اور جمعیت علما اسلام کی ابھرتی طاقت نے شاید ذمہ داروں کو سوچنے پر مجبور کیا ہوگا. یہ آخری موقع ہے اگر پیپلز پارٹی کا الو درست نہ ہوا تو "موروثی سیاست کے پرانے گملے میں جمھوریت کا نیا پودا (بلاول ) بھی شاید کام نہ آئے ،

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */