دو مہذب اور سیکولر ملکوں کی بربریت - جمیل اصغر جامی

دو ’’مہذب‘‘ اور سیکولر ملکوں کی بربریت کو آشکار کرتی ایک انکوائری رپورٹ۔\r\n\r\nمحترم دوستو! ایک ’’بیانیہ‘‘ یہ بھی ہے۔\r\n\r\nعراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے سات سال کے طویل عرصے میں مرتب کی گئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے حملے سے قبل پرامن طریقے اختیار نہیں کیے گئے۔ اس رپورٹ کے مزید اہم نکات کچھ یوں ہیں: \r\n۱۔ اس وقت عراق پر فوج کشی کرنا آخری راستہ نہیں تھا۔ نہ ہی یہ جنگ ناگزیر تھی۔\r\n۲۔ وسیع پیمانے پر تباھی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کو بلاوجہ یقینی بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسے ہتھیار عراق میں بالکل بھی نہیں تھے۔\r\n۳۔ صدام کے بعد عراق کی صورتحال سےنمٹنے کے لیے منصوبہ بندی ناکافی تھی۔\r\nجنگ کے قانونی جواز پر بحث نہیں کی گئی۔\r\n۴۔ برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیارات کی اہمیت کو کم کیا۔\r\n۵۔ ناقص خفیہ اطلاعات پر پالیسی مرتب کی گئی۔\r\n۵۔ ٹونی بیلئر نے صدر بش کو لکھا کہ: ’جو کچھ بھی ہو میں آپ کے ساتھ ہیں۔‘\r\n۶۔ جنگ نے ایک خوفناک انسانی المیے کو جنم دیا جس کی ذمہ داری امریکہ اور برطانیہ پر عائد ہوتی ہے۔ \r\nپس نوشت: عنوان میں ’’سیکولر‘‘ کا لفظ پڑھ، سیکولرازم کے حامی دانشور شدید احتجاج کریں گے اور کہیں گے: ’’بھیا عراق میں جو کچھ ہوا وہ ظلم تھا اس کا سیکولرازم سے کیا تعلق؟‘‘ تو جواباً عرض ہے کہ یہی اُصول اور اس وقت بھی مدنظر رکھا کریں جب آپ تحریک طالبان جیسے جنونی گروہوں اور داعش جیسے پیشہ ور قاتلوں کے کرتوتوں کو لیکر اسلام پر بحثیت مذہب صبح شام چڑھائی کرتے ہیں۔

Comments

جمیل اصغر جامی

جمیل اصغر جامی

جمیل اصغرجامی شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور انگریزی ادب و لسانیات کے مضامین پڑھاتے ہیں۔ انگریزی، فلسفہ اور سیاسیات میں ماسٹر جبکہ لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ سے لسانیات میں ریسرچ فیلوشپ کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور تحقیق ان کا شوق ہے۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.