قبلائی خان - سجاد حیدر

سجاد حیدر بوڑھا خان بستر مرگ پر تھا. اردگرد بیٹوں, پوتوں، حکومتی زعماء اور مذہبی رہنماؤں کا گھیرا تھا. بوڑھا شامان خان کے سرہانے کھڑا منہ ہی منہ میں بدبدا رہا تھا اور آسمانی روحوں سے خان کی سلامتی مانگ رہا تھا. سب لوگ اس فکر میں غلطاں تھے کہ بوڑھے خاقان کے مرنے کے بعد اس عظیم سلطنت کا کیا بنے گا جس کی بنیاد خاقان اعظم نے صحرائے گوبی کے وحشی اور خونخوار قبائل کو متحد کر کے رکھی تھی. یہ سلطنت اب ایک طرف چین تو دوسری طرف یورپ تک پھیل چکی تھی. کیا ایران اور کیا ہندوستان سب جگہیں منگولوں کے گھوڑوں کے سموں تلے پامال ہو چکی تھیں. معلوم دنیا کا غالب حصہ اس عظیم فاتح کے زیر نگیں آ چکا تھا، اور اگر چند سال مزید مہلت مل جاتی تو باقی دنیا بھی تاتاری سلطنت کا حصہ ہوتی. کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خاقان مر بھی سکتا ہے، یقین تو خود خاقان کو بھی نہیں آ رہا تھا، ساری زندگی دوسروں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والے نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن موت اس کے خیمے میں بھی داخل ہو سکے گی. خان کی نظریں خیمے میں موجود تمام افراد کا فردا فردا جائزہ لے رہی تھی. خاقان اعظم کے چاروں بیٹے، گیارہ پوتے، داماد، سرداران سلطنت، شاہان سب خیمے میں دم بخود کھڑے تھے. اچانک خاقان کی نظریں ایک گیارہ سالہ لڑکے پر جم گئیں، شامان خاقان کی نظروں کا اشارہ سمجھ گیا اور لڑکے کو قریب بلایا. خاقان نے انگلی کے اشارے سے بچے کی طرف اشارہ کر کے کہا، میرا یہ پوتا مجھ سے بڑی سلطنت کا مالک ہوگا اور میرے سے زیادہ لمبی عمر پائے گا.\n\nپیش گوئی کرنے والا خاقان اعظم چنگیز خان تھا اور جس بچے کے بارے میں یہ الفاظ کہے گئے اسے تاریخ قبلائی خان کے نام سے جانتی ہے. چنگیز خان جب پیدا ہونے کے بعد اپنے باپ یوساکائی کی گود میں آیا تو باپ نے دیکھا کہ بچے کی ایک مٹھی بند ہے اور دوسری کھلی، بند مٹھی کو جب کھولا گیا تو اس میں گوشت کا ایک ٹکڑا سرخ پتھر کی مانند موجود تھا، بچہ اپنے ساتھ ماں کے جسم کا ایک ٹکڑا بھی نوچ لایا تھا. یوساکائی جھیل بیکال کے کنارے بسنے والے ایک چھوٹے سے منگول قبیلہ کا سردار تھا اور صحرائےگوبی میں آوارہ گردی کرتے وحشی اور خونخوار قبائل کے ساتھ جھڑپیں روزانہ کا معمول تھا. باپ نے بیٹے کی فطرت کا اندازہ لگاتے ہوئے اس کا نام تموچن رکھا. یہی تموچن باپ کے مرنے بعد صحرائے گوبی کے منگولین قبائل کو جمع کر کے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوا اور 1206 عیسوی میں اپنی سلطنت کے تمام قابل ذکر سرداروں کو جمع کر ان کے سامنے چنگیز خان کا لقب اختیار کیا. چنگیز خان کے چار بیٹے جوجی خان، چغتائی خان، تولی خان، اوگدائی خان اور پانچ بیٹیاں اس کی سب سے پیاری اور پہلی بیوی بورتے خاتون کے بطن سے تھیں. شادی کے کچھ ہی عرصے بعد بورتے خاتون کو ایک مخالف قبیلے کے سردار نے اغوا کر لیا تب تک تموچن ابھی چنگیز خان نہیں بنا تھا. تموچن ایک لمبے عرصے اور کئی خونخوار معرکوں کے بعد بورتے خاتون کو واپس لانے میں کامیاب ہو گیا لیکن تب تک بورتے خاتون حاملہ ہو چکی تھی. اس حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو بورتے خاتون کی محبت میں چنگیز خان نے تو قبول کر لیا لیکن دوسرے منگولوں نے اسے قبول نہیں کیا اور جوجی یعنی باہر والا کے نام سے پکارتے رہے. اور یہی اس کا نام پڑ گیا. جوجی خان یعنی باہر والا.\n\nچنگیز خان خان کی فطرت کا یہ ایک عجیب پہلو ہے، ایسا وحشی کہ جب ہرات کو فتح کیا تو اپنے گورنر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے 1600000 افراد کا ایک ہفتہ میں قتل کروا دیا اور دوسری طرف اپنی بیوی کی محبت میں اپنے دشمن کے خون کو بھی گلے سے لگا کر رکھا اور اپنا نام اور مرتبہ بھی عطا کیا. چنگیز خان کے مرنے کے بعد چغتائی خان نے حکومت سنبھالی، کچھ ہی عرصے بعد چغتائی خان کے مرنے کے بعد تولی خان کا بڑا بیٹا منگو خان اس سلطنت کا وارث بنا. منگولوں نے لڑ کر اتنی فتح حاصل نہیں کی، جتنا خوف پھیلا کر حاصل کی. بہت سے شہر منگولوں کا نام سنتے ہی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے. یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ منگول میدان جنگ میں جتنے خونخوار اور وحشی تھے، معاملات حکومت میں اتنے ہی عقل مند اور وسیع الظرف تھے. بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ چنگیز خان اور اس کے لشکریوں کی تلوار سے بچ گئے. وہ کئی جہتوں سے خوش نصیب کہلائے. منگول سلطنت میں جو امن اور خوشحالی تھی. وہ اس سے پہلے عوام کو کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی. منگول سلطنت میں مکمل مذہبی آزادی تھی. منگولوں نے نہ تو کسی کو اپنا قدیم مذہب اختیار کرنے کے لیے کہا بلکہ ہر شخص کو مکمل آزادی تھی کہ اپنے مذہب کی عبادت گاہ تعمیر کرے اور مکمل آزادی سے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو. یہ بات اس دور کے لحاظ سے ایک عجیب بات تھی. ایشیا کے تمام راستے مکمل طور پر محفوظ اور خطرات سے پاک تھے. جن پر تجارتی قافلے بلا خوف و خطر سفر کر سکتے تھے. چنگیز خان کی سلطنت بحر اسود سے لے کر بحرالکاہل تک پھیلی ہوئی تھی اور جنوب میں ہمالیہ تک کا علاقہ اس کے زیر نگیں تھا.\n\nقبلائی خانچنگیز خان کی وفات کے تیس سال بعد اس کی پیش گوئی پوری ہوئی اور منگو خان کے بعد قبلائی خان اس وسیع سلطنت کا حکمران بنا. اس سے پہلے منگو خان کے دور میں سقوط بغداد کا سانحہ ہوا، آخری عباسی خلیفہ قتل ہوا اور ایک اندازے کے مطابق 800000 افراد لقمہ اجل بنے. پورا چین فتح ہو، کچھ تواریخ کے مطابق تقریبا پونے دو کروڑ چینی مارے گئے. 1259 عیسوی میں ہو چو کے مقام پر ایک جنگ میں منگو خان مارا گیا اور قبلائی خان خاقان اعظم مقرر ہوا. مختلف تہذیبوں کے اختلاط اور علوم و فنون کے نابغہ روزگار افراد کے منگول سلطنت میں جمع ہونے کی وجہ سے منگول بھی اپنی فطرت بدلنے پر مجبور ہوگئے تھے. یہ اثر قبلائی خان نے بھی قبول کیا تھا. حکومت کرنے بارے اس کے نظریات اپنے دادا اور چچا سے مختلف تھے وہ منگولوں کی اس شہرت کو ناپسند کرتا تھا جس کا مطلب صرف خون بہانا اور بستیوں کو اجاڑنا تھا.\n\nاپنے بھائی کے دور حکومت میں معاملات کو حل کرنے کے لیے وہ خون بہانے کے بجائے سفارتی ذرائع اختیار کرنا پسند کرتا تھا. یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی منگو خان کے پسندیدہ افراد کی فہرست میں جگہ نہ پا سکا. اکثر اوقات اسے منگو خان کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن جب وہ خود خاقان بنا تو اسے اپنے طریقے سے حکومت کرنے کا پورا موقع ملا اور اپنی امن پسند طبیعت کی بنا پر جلد ہی وہ وسیع منگول سلطنت میں مقبولیت حاصل کر گیا. اس کی شہرت اپنے دادا چچا اور بھائی سے بالکل مختلف تھی. قبلائی خان کے طویل دور حکومت نے منگولوں کی وسیع سلطنت کو ایک پرامن اور مضبوط معیشت والے ایسے ملک میں بدل دیا، جس کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے ہزاروں میل کا دشوار گزار سفر کر کے تجار اور کاروباری حضرات چین میں آتے اور چین کے اشیاء سے بھرے بازار، مال تجارت کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر وسیع و عریض گوداموں اور دنیا کی مختلف اقوام کے لوگوں کو گلیوں میں چلتے پھرتے دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ جاتے. قبلائی خان کے دور میں منگول سلطنت, جسکا مرکز منگولیا سے چین میں منتقل ہو چکا تھا, کو جو عظمت, امن اور استحکام نصیب ہوا. چین نے اس کا تجربہ پہلے نہیں کیا تھا. اس دور میں چین کے اندر یہ ایک معجزے سے کم نہیں تھا.\n\nمغرب سے آنے والے تاجروں کے لیے بھی یہ ایک انوکھا تجربہ تھا. یہاں سے سونا، چاندی اور ریشمی کپڑا خریدنے کے لیے ایشیا کے دوردراز.علاقوں سے تجارتی قافلے چین کا رخ کرتے. مال تجارت سے بھرے گودام نہروں اور دریاؤں کے کنارے واقع تھے تاکہ سامان کی ترسیل میں آسانی ہو. نہروں اور دریاؤں کو مضبوط پلوں کے ذریعے ملایا گیا تھا. سونے اور چاندی کی تاروں سے آراستہ لباس تیار کرنے والے کارخانے تھے. مال تجارت میں ایک بڑا حصہ ریشمی کپڑے کا تھا جو چین کا خاصا سمجھا جاتا تھا. تاجر دوردراز سے یہی کپڑا خریدنے چین کا رخ کرتے. 1340 عیسوی میں تاجروں کی رہنمائی کے لیے اٹلی سے شائع شدہ ایک کتاب کے مطابق چین جانے والے راستے انتہائی محفوظ اور پرامن ہیں جہاں دن رات کے کسی بھی حصہ میں بلا خوف و خطر سفر کیا جا سکتا ہے. اس بات کا یورپ میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا. جس وقت یورپ لٹیروں اور ڈاکوؤں کی آماجگاہ تھی، اس وقت ایشیا تجارت کے لیے ایک پر امن جگہ سمجھی جاتی تھی. پیرس میں آج بھی قبلائی خان کی مہر کےساتھ وہ خطوط محفوظ ہیں جو تبریز سے فرانس بھیجے گئے تھے. قبلائی خان یورپی اقوام کے فہم و تدبر کا بہت قائل تھا. وہ چاہتا تھا کہ یورپین آ کر ملکی انتظام و انصرام کا حصہ بنیں. وجہ یہ تھی کہ منگول ان صلاحیتوں سے بہرہ مند نہیں تھے جو ایک وسیع و عریض اور جدید سلطنت کے انتظامات کے لیے ضروری تھیں. چینی لوگوں پر اعتماد کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھا کہ کہیں وہ اس کی سلطنت کو عدم استحکام سے دوچار نہ کر دیں. یہی وجہ تھی کہ وہ ساری دنیا سے جوہر قابل کو اپنے دربار میں دیکھنا چاہتا تھا. اور اس مقصد کے لیے ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا. پیکنگ میں قبلائی خان کے دربار میں دنیا کے ہر ملک کا سفیر حاضر ہوتا تھا. وہ علم اور عالموں کا قدردان تھا. قبلائی خان کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ منگولوں کو جدید علوم سیکھنے کی طرف مائل کر سکے. صحرائی علاقوں کے رہنے والوں کی فطرت کے مطابق منگول خود بھی جفاکش اور بہت جلد سیکھنے والے لوگ تھے.\n\nقبلائی خان کا محل بیک وقت ایک ہزار سواروں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا تھا. اس محل کے گردا گرد ایک دیوار تھی جس کا محیط 16 میل یا 25 کلومیٹر تھا. اس محل کے مین ہال میں سولہ ہزار کرسیوں کی گنجائش تھی. یہ ہال سونے چاندی اور قیمتی کپڑے سے مزین کرسیوں سے سجا تھا. قبلائی خان کی ذاتی رہائش گاہ کے گرداگرد دنیا کے نایاب اور خوبصورت پیڑ، پودوں سے سجے باغات تھے جن کے پھولوں کے منفرد رنگوں اور خوشبوؤں پر جنت کا گماں ہوتا تھا. جب قبلائی خان کھانا کھاتا تھا تو اس کی خدمت پر معمور خادمائیں اپنے منہ کو ریشمی رومال سے ڈھانپ کر رکھتی تھیں کہ کہیں ان کی سانسیں خاقان کے کھانوں کو متاثر نہ کر دیں. خاقان کی موجودگی میں کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہ تھی، خواہ وہ کتنے بڑے عہدے کا مالک ہی کیوں نہ ہو. دربار شاہی سے آدھے میل تک کسی بھی قسم کے شور و غل کی اجازت نہ تھی. اس کے دربار میں حاضر ہونے والے ہر شخص کو سفید چمڑے سے بنے جوتے پہننے پڑتے تھے تاکہ سونے اور چاندی کی تاروں سے مزین قیمتی قالین خراب نہ ہوں. ہر شخص اہنے ہاتھ میں ایک اگالدان رکھتا تھا کہ کہیں غلطی سے بھی تھوک قالینوں کو گندہ نہ کر دے. مارکو پولو کے مطابق خاقان اعظم کی چار بیویاں تھیں لیکن یہ قانونی تھیں. ان کے علاوہ وسیع تعداد میں باندیاں اور لونڈیاں بھی موجود تھیں، جن کے دم قدم سے حرم شاہی آباد تھا. ان باندیوں کا انتخاب ایک قدیم منگول روایت کے تحت کیا جاتا تھا. ہر دو سال بعد خاقان کے آدمی تاتاری صوبے انگوت جاتے تھے جہاں کی عورتیں اپنی رنگت اور خوبصورتی میں یکتا تھیں. وہاں سے بڑی چھان پھٹک کے بعد سیکڑوں خواتین کا چناؤ کیا جاتا تھا. ان کی خوبصورتی کو قیمتی پتھروں کی طرح قیراط میں ماپا جاتا تھا. ہر پہلو سے دیکھ بھال کر انکو رنگت، چہرے کے نقوش، خدوخال، چال ڈھال اور جسمانی نشیب و فراز کے حساب سے نمبر دیے جاتے تھے. جو لڑکی بیس یا اکیس قیراط کی حد کو چھو لیتی تو اسے دارالحکومت میں لایا جاتا. اگلے مرحلے میں ان لڑکیوں کو کسی امیر یا درباری کی بیوی کے حوالے کیا جاتا جو اس لڑکی کی مزید چھان پھٹک کرتی کہ کہیں وہ کسی اندرونی خرابی کا شکار تو نہیں، یہ عورت اس لڑکی کو اپنے ساتھ سلاتی کہ کہیں لڑکی خراٹے تو نہیں لیتی، رات کے مختلف اوقات میں اس کی سانس کی بو کا معائنہ کیا جاتا، دیکھا جاتا کہ کہیں وہ زیادہ کروٹیں تو نہیں بدلتی، یا اس کے جسم سے ناگوار بو تو نہیں آتی. ان تمام مراحل کے بعد کامیاب لڑکیوں کو اس قابل سمجھا جاتا تھا کہ وہ بادشاہ کی خدمت میں حاضری دینے کے قابل ہیں اور ہر طرح سے بادشاہ کی خدمت کر سکتی ہیں. پانچ لڑکیوں کی ایک ٹولی تین دن اور تین راتیں خاقان کی خدمت میں گزارتیں، اس کے بعد نئی ٹولی اس خدمت پر معمور ہو جاتی. قبلائی خان کے پورے دور حکومت میں منتخب دوشیزاؤں کی فوج ظفر موج اس انتظار میں رہتی کہ کب ان کی باری آئے اور انہیں خاقان کی خدمت کا موقع مل سکے. خاقان کے بیٹے بیٹیوں کی تعداد 47 بتائی جاتی ہے. اکثر جنگوں میں افواج کی قیادت اس کے اپنے بیٹے کرتے.\n\n1265ء میں جب اطالوی تاجر نکولو پولو اور میفیو پولو قبلائی خان کے دربار میں حاضر ہوئے تو وہ اس دربار میں پہنچنے والے پہلے یورپین تھے. چونکہ وہ تاتاری زبان سیکھ چکے تھے لہذا فورا ہی قبلائی خان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے. ان کے پاس خان کو بیچنے کے لیے کچھ نہیں تھا سوائے مذہب کے. تو دونوں بھائیوں کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح خان کو عیسائیت کی طرف مائل کر سکیں. قبلائی خان کو یسوع مسیح کی کہانی میں بڑی دلچسپی تھی لیکن وہ آخر تک یہ نہ سمجھ سکا کہ آخر یسوع انتہائی کسمپرسی کی حالت میں صلیب پر کیوں لٹک گیا. ہاں پوپ کی مجرد زندگی کے ذکر نے اسے بہت متاثر کیا کہ اتنی طاقت اور دولت کا مالک ہونے کے باوجود تجرد کی زندگی گزارتا ہے جس کا خان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا. قبلائی خان نے دونوں بھائیوں کو واپس بھیجا کہ کہ پوپ سے درخواست کی جائے اور کم از کم سو آدمی بھیجے جائیں جو منگولوں کو مختلف علوم سکھا سکیں. جب پولوز واپس آئے تو ان کے ساتھ نکولو پولو کے چھوٹے بیٹے مارکو پولو کے علاوہ کوئی نہیں تھا. پوپ کے بھیجے باقی آدمی ابتدائے سفر میں ہی راستے کی صعوبتوں سے گھبرا کر واپس چلے گئے تھے. پولوز اگرچہ قبلائی خان کو عیسائی تو نہ بنا سکے لیکن عیسائی تاجروں کے لیے بہت سی مراعات حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے. عیسائی دنیا کی بزدلی سے مایوس ہو کر قبلائی خان تبت کے مذہب بدھ مت کی طرف مائل ہو گیا اور تبت کا قدیم مذہب کو اختیار کر لیا. قبلائی خان نے اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کچھ خاص کامیابی حاصل نہ کر سکا. جاپان کو فتح کرنے کی دو کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں، اسی طرح کوچین چین یعنی ویت نام کو فتح کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی. البتہ برما میں منگولوں کا یاک کی نو دموں والا جھنڈا لہرانے میں ضرور کامیاب ہوا اور برما اس کی سلطنت کا حصہ بن گیا. 1294ء میں بیاسی سال کی عمر میں یہ عظیم خاقان اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا. اس کی تمام بیویوں کو زندہ اس کے ساتھ دفن کر دیا گیا. اور کئی خدمتگاروں کو بھی ساتھ ہی دفنا دیا گیا کہ جاؤ اور دوسری دنیا میں اپنے ولی نعمت کی خدمت کرو. قبلائی خان نے مشرق اور مغرب کو اس وقت اکٹھا کرنے کی کوشش کی جب وہ ایک دوسرے کے وجود سے بھی بے خبر تھے. قبلائی خان کے بعد اس کی عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور جہالت کے اندھیروں نے ایک بار پھر ایشیاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا.

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.