ایک سے زیادہ شادی کیوں نہ کریں؟ محمد عامر خاکوانی

برادرم زاہد مغل نے ایک طویل اور مختلف دلائل سے پر مضمون لکھا، جس میں ایک سے زیادہ شادیوں کی بھرپور حمایت کی گئی، اس کے لیے مختلف ترغیبات اور دلائل فراہم کیے۔ دلیل ڈاٹ پی کے پر اس مضمون کو اچھی خاصی پذیرائی ملی اور پنتالیس ہزار کے قریب لوگوں نے چوبیس گھنٹوں سے کم وقت میں اسے پڑھا، میرا اندازہ ہے کہ یہ بھی ان مضامین میں شامل ہوجائے گا جو ففٹی پلس کے ویوز یا ہٹس حاصل کر لیتے ہیں۔ امکان غالب یہی ہےکہ اس کے قارئین کی غالب اکثریت مردوں پر مشتمل ہوگی، خواتین اپنے خلاف چھپنے والا مضمون کیا پڑھیں گی، الا یہ کہ کوئی دانا بی بی اپنے خلاف مردوں کو بہم پہنچائے جانےوالے دلائل کا بغور جائزہ لینا چاہ رہی ہو تاکہ اس کا مدلل اور مسکت جواب دیا جائے۔ ایک آدھ جواب آ بھی گیا ہے دلیل پر، ممکن ہے کچھ اور بھی آ جائیں۔\n\nصاحبو! سچ تو یہ ہے کہ ہمیں خواتین کے حقوق کا علمبردار کہلوانے کا کوئی شوق نہیں۔ میل شاونسٹ کہلانا بھی ناپسند ہے، فیمنسٹ تحریک کا حامی بننا بھی۔ خواتین کے ساتھ جس معاملےمیں زیادتی ہو، وہاں ان کی برملا حمایت کرتے ہیں، مگر مرد بننے کی خواہش مند عورتوں پر تنقید بھی۔ مختلف ایشوز پر جو درست لگتا ہے، وہ کہنا ہی دیانت ہے اور ردعمل میں توازن برقرار رکھنا ہی اعتدال کہلاتا ہے۔\n\nسب سے پہلے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ مردوں کی اکثریت کو ایک سے زیادہ شادیوں کا آئیڈیا مسحورکن لگتا ہے۔ دراصل ایک سے زیادہ عورتیں کہنا چاہیے۔ چونکہ مذہب کسی بھی خاتون سے جسمانی تعلق جوڑنے کا واحد طریقہ شادی کی صورت میں سامنے رکھتا ہے، اس لیے ہم ملٹی پل شادیوں کی بات کرتے ہیں۔ ورنہ اس کے پیچھے اصل بات وہی ہے، محبت کی ایک سے زیادہ وادیوں کی سیر، ایک سے زیادہ خواتین کو چاہنا، ان کی محبت، کیئر اور توجہ کا مرکز بننا۔ یہ تصور کم و بیش ہر مرد کو اپنی طرف کھینچتا اور سوچتے ہی نشہ سا طاری ہونے لگتا ہے، اب یہ کسی کے وسائل، مواقع اور سب سےبڑھ کر ہمت کا معاملہ ہے۔ ع بڑھ کر جو اٹھا لے، تاج اسی کا ہے۔\n\nسوال مگر یہ ہے کہ کیا آج کے جدید معاشرے میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں، یہ قدم اٹھانا چاہیے یا نہیں، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے یا حوصلہ شکنی؟\n\nیہاں پر یہ یاد رہے کہ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ نہیں، جو اجازت رب تعالیٰ نے دی ہے، اسے کون سلب کر سکتا ہے؟ کم از کم الہٰی قانون پر عمل کرنے والے کسی معاشرے میں ایسا ممکن نہیں۔ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ختم ہوسکتی ہے نا ہی رواج ۔ جسے ضرورت ہے، وہ دوسری بلکہ شاید تیسری شادی بھی کر لے گا۔ کسی نجی ضرورت، افتادطبع، خاندانی مجبوری یا کسی اور وجہ کی بنا پر یہ ہوتا رہا ہے، ہوتا رہے گا۔ زاہد مغل صاحب نے ایسی کئی وجوہات گنوائیں۔ بیوگان یا م\0طلقہ خواتین کا معاملہ، جنگ کی صورت میں معاشرے میں عددی عدم توازن یا کسی صاحب حیثیت کی نفسی ضرورت کے تحت کیے گئے ایڈونچرز وغیرہ وغیرہ۔ سب کچھ ہوتا رہا ہے، اسلامی معاشرہ میں ہوتا رہے گا۔ یہ مگر چند مستثنیات ہیں، جن کی بنیاد پر کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔\n\nمیرے نزدیک چار شادیوں کی اجازت صرف چار عورتوں کو اپنے عقد میں لانے کا لائسنس نہیں ہے بلکہ اس اجازت میں اس زمانے کے رواج کو دیکھتے ہوئے شادیوں کی تعداد کو محدود کیا گیا اور ایک خاص تعداد بتا دی گئی کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں اور ساتھ ہی واضح ہدایت بھی دے دی گئی کہ اگر انصاف کر پاؤ تو پھر ایک سے زیادہ شادیاں کرو۔ اور یہی ایک ایسا نکتہ ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے جدید معاشرے اور جدید عورت کے ساتھ انصاف کرنا آسان ہی نہیں خاصا مشکل ہوچکا ہے۔ آج کل ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل اور انصاف کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ انسانی معاشرہ یکسر بدل چکا ہے۔ چند صدیوں پہلے تک بیوی کی ضرورت صرف نان نفقہ اور سر چھپانے کی چھت ہی تھی۔ صرف پچاس ساٹھ سال پہلے تک بھی کم و بیش ایسی صورتحال تھی۔ سال کے دو تین جوڑے، دو وقت کی روٹی اور چادرچاردیواری کا تحفظ ہی کسی عورت کےلیے کافی تھا۔ مرد ظالم ہوتا، درشت، گھر سے باہر زیادہ وقت گزارنے والا یا پھر ایک سے زائد بیویاں رکھنے والا، ایک سیدھی سادی بیوی کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ وہ صبر شکر سے اپنی زندگی گزارتی اور آخرت کو خوبصورت بنانے کے خواب دیکھتی اور اس کے لیے دعاگو اور عمل پیرا رہتی۔\n\nجدید عورت کی ضرورتیں خاصی زیادہ ہیں اور جدید زندگی کے مسائل نے کچھ اس طرح کی تشنگی اور انتشار داخلی زندگیوں میں داخل کر دیا ہے کہ عورت کی جذباتی ضروریات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اب اسے صرف دو وقت کھانا، اچھا کپڑا، گھر اور صرف جسمانی ضرورت پورا کرنے والا مرد نہیں چاہییے۔ وہ اس کے ساتھ اپنے جذباتی لمحے بِتانا چاہتی ہے، زندگی کے مختلف تلخ و ترش لمحات کو شیئر، سانجھے خواب دیکھنا اور اکٹھے مل کر ہی ان کی تعبیر ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ سلیم احمد نے شاید کہا تھا کہ شاعری پورا مرد مانگتی ہے، ہمارے ایک صحافی دوست نے اس پر گرہ لگائی کہ یہ بدبخت صحافت بھی مکمل مرد مانگتی ہے، ان شاعرانہ اور صحافیانہ خیال آرائیوں سےقطع نظر یہ حقیقت ہے کہ آج کی بیوی بھی پورا مرد مانگتی ہے۔ وہ شیئرنگ خوشی سے تو کبھی ماضی میں بھی نہیں کرتی ہوگی، مگر آج کے عہد میں اس کے لیے شیئر کرنا شاید ممکن ہی نہیں رہا۔ وہ چاہے بھی تو ایسا نہیں کر سکتی۔ ہم نے دیکھا کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکنےوالی سہلیاں، ایک دوسری کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دیے کو تیار ہوجائیں، شاید جان ہی وار بیٹھیں، مگر ایک مرد کو اپنی عزیز ترین سہیلی کے ساتھ شیئر کرنا ان کے لیے بھی ممکن نہیں ہوتا۔\n\nاس لیے معاشی طور پر تو شاید انصاف ہوجائے، ویسے یہ بھی ایک خام خیالی ہی ہے، دو عورتوں سے بیک وقت چاہے جانے کا خواب دیکھنے والے مرد کو بعد میں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس گرداب میں پھنس گیا ہے، ایک ساتھ دو قوتیں اسے مخالف سمتوں میں کھینچ رہی ہیں اور اس کا وجود دو ٹکڑے ہونے کو ہے۔ معاشی دباؤ بھی ایسے میں بہت بڑھ جاتا ہے۔ الگ الگ گھر دینے کے باوجود معاشی اعتبار سے انصاف کرنا بہت مشکل ہے، مگر جذباتی انصاف کرنا تو تقریباً ناممکن ہے۔ ہاں ایک بیوی کے انتقال یا علیحدگی کے بعد دوسری شادی ایک الگ کیس ہے، اس میں دو عورتیں بیک وقت بندھن میں نہیں ہوتیں، اس لیے انصاف کا معاملہ سرے سے زیربحث ہی نہیں آتا۔ اگرچہ سائیڈ ایفکیٹس اس کے بھی بہتیرے ہیں، جو اس سیچوئشن میں ہیں، وہی اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔\n\nاس لیے بھلے لوگو! اپنی اکلوتی بیوی پراکتفا کرو، اس بندھن ہی کو ہنسی خوشی چلاؤ۔ کوشش کرو کہ اپنی دانست میں اچھی سلیکشن کی جائے، اگر غلطی ہوجائے تو چلانے کی کوشش کی جائے، ممکن نہیں تو اچھے طریقے سے الگ ہوجایا جائے۔ اس کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے کہ اپنی فیملی شروع کرنے سے پہلے سال ڈیڑھ دیکھ لینا چاہییے کہ اس عورت کے بطن سے میری نسل آگے بڑھے یا نہیں۔ پہلے سال میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ باقی زندگی سمجھوتہ ہوگا یا اس میں مسرت کے رنگ بھرے جانے کے امکانات ہیں۔ بدقسمتی سے بیشتر کیسز میں بچہ پہلے سال ہوجاتا ہے، پھر اس بچے کی خاطر اکٹھے رہنے کا سوچا جاتا ہے، ہر کوئی یہی مشورہ دیتا ہے اور ساتھ رہتے ایک سے دو تین چار بچوں تک معاملہ پہنچ جاتا ہے، تب بریکنگ پوائنٹ کہیں نہ کہیں آ ہی جاتا ہے، مگر تب تک خاصی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ایسے میں علیحدگی بچوں پر منفی اثرڈالتی ہے۔ اس لیے بہتر سلیکشن، پہلے سال کو ٹرائل کے طور پر لینا اور پھر اس کے بعد زندگی کو ہنسی خوشی گزارنا۔ خامیوں سے سمجھوتا اور ایک دوسرے کے مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ زندگی میں نظر آنے والی ہر حسین لڑکی آپ کی ذات کا حصہ نہیں بن سکتی۔ حسن کی کوئی حد ہے نہ آپشنز کی۔ اس لیے اس لاحاصل دوڑ میں شامل ہونا اپنےآپ کو تھکانا بلکہ ختم کرنا ہے۔ انسان دنیا میں صرف جسمانی لذات کے لیے نہیں آیا۔ دل تو چاہتا ہے مگر اس کا ٹیلنٹ اور صلاحیتیں صرف ایک سے زائد عورتوں کو خوش کرنے جیسے پست کام پر صرف نہیں ہونی چاہییں۔ شادی کی جائے، زندگی میں خوبصورت رنگ بھرے جائیں، جائز حدود میں رہ کر نفس کی تسکین میں کوئی حرج نہیں، مگر ہر ایک کو اپنے لیے ریڈ لائنز کھینچ لینی چاہییں۔ ہمارے نزدیک دوسری شادی بھی ریڈ لائن ہی ہے، اس کا خواب چلو دیکھ لیا جائے، مگر کچھ سپنے تشنہ اور نامکمل ہی بھلے لگتے ہیں۔ ویسے بھی بڑا مقصد سامنے ہو تو یہ باتیں پھر ہیچ لگتی ہیں۔ اپنی آخرت خوبصورت بنانے کا خواب دیکھنا، اس کے لیے عملی کوشش کرنا ضروری بلکہ لازمی ہے۔ شاعر نے سنگ دل حسیناؤں کے بارے میں کہا تھا کہ قدرت حق سے اگر یہ آخرت میں حوریں بن گئیں تو ان سے خوب بدلہ لوں گا۔ آپ بھی یہی سوچ لیں۔ رب تعالیٰ کی رحمت سے وہاں دنیاوی تشنگی مٹ جانے اور سب خواہشیں پوری ہوجانے کا یقین رکھا جائے۔ یہ ہمیں کائنات کے افضل ترین انسان نے بتایا، جس کی زبان سے کبھی کوئی لفظ غلط نہ نکلا اور اللہ نے جن کی بتائی گئی ہر خبر سچی ثابت کی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.