چائے والے کو دکھائے جانے والے لاحاصل خواب - محمد ابراہیم شہزاد

کسی دل جلے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ
’’اگر کسی شاپنگ مال میں کام کرنے والی نیلی آنکھوں والی خوبصورت لڑکی کی تصویر کوئی منچلا بلا اجازت فیس بک پہ پوسٹ کر دیتا اور اس پر دنیا بھر کے خصوصاََ پڑوسی ملک کے لڑکے سیکسی، ہاٹ، بیوٹی فل، قاتل حسینہ اور مارڈالا جیسے کمنٹ کر دیتے اور کروڑوں کی تعداد میں لائکس اور شیئر ہوتے اور ہر لونڈا لپاڑہ اس کی ورکنگ پلیس پر جا کر اس کے ساتھ سیلفیاں بنوانے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہوتا تو سوچیے کہ ان سب مردوں کو اب تک کیا کیا القاب مل چکے ہوتے. ٹھرکی، بدکردار، ورکنک گرلز کا جنسی استحصال کرنے والے، ہوس کے پجاری اور نہ جانے مذمت میں کتنے ٹاک شو ہوتے اور موم بتی والی آنٹیاں مختلف چوکوں چوراہوں میں دس دس پندرہ پندرہ کی تعداد میں متاثرہ لڑکی کی تصویر کے ساتھ کیٹ واک کر رہی ہوتیں.‘‘

لیکن اسلام آباد کا ارشد خان چائے والا ایک ایسا نوجوان ہے جس کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، بھارتی ناریوں پر اس کی نیلی آنکھوں نے ایسا جادو کیا کہ گویا پورے ہندوستان کا زنان خانہ ہی پتھر کا ہو گیا۔ یہاں تک تو بات قابل برداشت تھی کہ بھائی اگر ایک چوتھائی دنیا کو اس کی آنکھیں پسند آگئی ہیں تو اس کی بلا سے کیونکہ کسی بھی انسان کو کسی دوسرے انسان کو پسند یا نا پسند کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے بشرطیکہ جس کو پسند یا ناپسند کیا جا رہا ہے، اس کی ذاتی زندگی میں کوئی دخل اندازی نہ ہو. لیکن ہوا یہ کہ سوشل میڈیا پر ہٹ ہونے والا ارشد خان لوکل میڈیا کے لیے ریٹنگ حاصل کرنے والا ہاٹ کیک بن گیا اور اس بےچارے سیدھے سادے بےخبر چائے والے کی چائے کی پیالی میں ایک شدیدطوفان آگیا جو بڑے پر سکون انداز سے اپنے اہل خانہ کے لیے روزی روٹی کما رہا تھا لیکن اس کی روزی سے زیادہ ٹی وی اینکرز کو اپنی روزی روٹی اور ٹی آر پی کی فکر تھی اس لیے اسے پکڑ پکڑ کر مختلف ٹی وی والے اپنے سٹوڈیوز میں لائے، اس کی سادہ شلوار قمیص اتار کر پینٹ کوٹ پہنایا گیا، کیمرے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہلکا پھلکا میک اپ بھی کیا گیا اور ٹی وی سکرین پر بٹھا کر اس معصوم انسان کو الٹے سیدھے کبھی نہ پورے ہونے والے خواب دکھانا شروع کر دیے گئے.

یہ بھی پڑھیں:   آزادی مارچ کی ڈاکٹرائن ؟ قادر خان یوسف زئی

کسی برانڈ نے اسے ماڈلنگ کی آفر کی، کسی نے اسے اپنی سیاسی جماعت کا ممبر بنانا چاہا، کسی نے فلمی ہیرو بننے کا خواب دکھایا تو کسی نے اسے شادی کا لڈو کھانے کا مشورہ دیا. لڑکیوں اور لڑکوں نے اسے روک روک کر اپنا فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کے لیے سیلفیاں بنوائیں لیکن کیا اس تمام دورانیے میں جو اس کے کام کا حرج ہوا، کیا کسی نے اس کا معاوضہ اسے ادا کیا؟ کیا کسی اینکر نے یہ سوچا ہوگا کہ آج کا سارا دن تو یہ ہمارے سٹوڈیو میں رہا چائے کی دوکان بند ہونے کی وجہ سے یہ اپنا آج کا راشن کیسے خرید پائے گا، ٹی وی کا پیٹ بھرتے بھرتے کہیں خود خالی پیٹ تو نہیں سوئے گا؟ ہمارے صحافی دوست جانتے ہیں کہ ہماری میڈیا انڈسٹری میں ایسی بےحسی کوٹ کوٹ کر بھری ہے لیکن اگر کسی نے اس غریب کے ٹائم کا معاوضہ اسے دیا ہے تو میں اس چینل کو مبارکباد اور کھل کر ان کے اس نیک عمل کی داد دیتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ لاعلمی بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے، جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے معلوم ہے کہ وہ کتنا مشہور ہو گیا ہے تو اس نے کہا کہ میرے پاس انٹرنیٹ والاموبائل نہیں اور نہ ہی میں فیس بک استعمال کرتا ہوں، اس لیے مجھے میرے دوستوں نے بتایا کہ میری تصویر ٹی وی پر بار بار دکھائی جا رہی ہے، جس کے بعد اس کے چائے خانے پر صحافیوں اور فوٹوگرافروں کا رش بڑھ گیا۔ کاش کہ وہ لاعلم ہی رہتا۔ اسے کیا معلوم کہ یہ ماڈلنگ اور فلمی ہیرو بننے کی آفرز صرف تب تک ہیں جب تک وہ خبروں کا حصہ ہے جیسے ہی ارشد خان چائے والا ٹی وی سکرین اور اخبارات کے صفحوں سے آؤٹ ہوگا، یہ سب ہیرو اور لیڈر بنانے والے بھی آؤٹ ہو جائیں گے اور اسلام آباد کے اس بازار میں وہ پھر سے بس چائے ہی بنا رہا ہوگا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ ون پائونڈ فش والا پتوکی کا شاہد نذیر، اس کا آئٹم جب فیس بک پر ہٹ ہوا تو کسی میوزک کمپنی نے اس سے معاہدہ سائن کیا تھا۔ میں آج تک اس کا میوزک البم ریلیز ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔ جسٹن بائبر کا گانا گانے والی وہ خانہ بدوش لڑکیاں بائبرگرلز تو بچے بچے کو یاد ہوں گی جن کو پاکستان کی ہر مارننگ شو والی اینکر نے ریٹنگ لینے کے لیے استعمال کیا، لیکن وہ لڑکیاں آج کہاں ہیں؟ ہاں یاد آیا کراچی کا وہ ماسٹر اسلم جس کی گائی ہوئی ٹھمری سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور لتا منگیشکر کو بھی واہ واہ کرنے پر مجبور کر گئی، ہندوستان کے ہی ایک گائیک جو اکثر پاکستان کی دوستی میں ڈوبے ہوئے یہاں کے چکر لگاتے رہتے ہیں، دلیر مہدی، جنہوں نے ماسٹر اسلم کی گائیکی سے متاثر ہو کر انہیں کراچی میں اپنا گھر لے کر دینے کا وعدہ کر ڈالا، لیکن ماسٹر اسلم آج بھی بےگھر ہے اور کراچی میں رکشہ چلا کر بیوی بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ آج کوئی صحافی دلیر مہدی کو یاد دلانے والا بھی نہیں ہے کہ حضور آپ نے کسی بےگھر کو اس کی اپنی چھت دینے کا خواب دکھا یا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور ہماری زندگی تحریر: محمد ارسلان رحمانی

یہاں مجھے ایک روایت یاد آرہی ہے،
’’ایک بادشاہ سلامت اپنے مصاحبوں کے ساتھ شکار سے واپس آ رہے تھے تو رات کافی بیت چکی تھی، شہر کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے بادشاہ نے مشعل کی روشنی میں دیکھا کہ فصیل پر پہرا دینے والا سپاہی کافی ضعیف بھی ہے اور شدید ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے اس کے کپڑے بھی گرم نہیں ہیں۔ بادشاہ نے اپنی سواری کو روکا، اس پہریدار کو اپنے پاس بلوایا، پہریدار ڈرتے ڈرتے بادشاہ سلامت کے حضور حاضر ہوا کہ مبادا اس سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے جس کی اب سزا ملے گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ بادشاہ سلامت نے اس کی خستہ حال پوشاک پر نظر ڈالی اور اسے کہا کہ میں تمھارے لیے محل سے گرم کپڑے بجھوانے کا بندوبست کرتا ہوں۔ یہ سن کر پہریدار خوش ہوا اور بادشاہ سلامت کے اقبال بلند ہونے کی دعائیں دینے لگا جبکہ بادشاہ سلامت محل میں جاتے ہی تھکاوٹ سے چور ہونے کی وجہ سے گرم بستر میں لیٹتے ہی گہری نیند کی آغوش میں چلے گئے جبکہ شہر کے دروازے پر صبح بوڑھے پہریدار کی سردی سے اکڑی ہوئی لاش پڑی تھی. پاس ایک رقعہ پڑا تھا جس پر لکھا تھا، بادشاہ سلامت میں پچھلے کئی سالوں سے سخت سردی کے موسموں میں اسی خستہ پوشاک میں شہر کی رکھوالی کا فرض ادا کرتا رہا ہوں لیکن آج تک برفباری بھی مجھے مار نہیں سکی۔ افسوس! آج آپ کے ایک گرم کپڑوں کے وعدے نے مجھے مار ڈالا.‘‘