کیا واقعی مشترکہ خاندانی نظام ہندوؤں‌کا نظام ہے؟ محمد عامر خاکوانی

دلیل پر اس حوالے سے تحریر شائع ہوئی، جس میں‌ کہا گیا کہ مشترکہ خاندانی نظام یا جوائنٹ فیملی سسٹم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ ہندوؤں‌کے ساتھ رہنے کی یادگار ہے، جہاں‌ بڑا بیٹا جائیداد کا وارث ہوتا ہے اور پورا خاندان اکٹھا گزارا کرتا ہے، وغیرہ۔ کیا واقعی ایسا ہے؟\n\nپہلے تو یہ کہ اس مضمون میں شروع سے ایک بات فرض‌کر لی گئی اور پوری گفتگو اسی نکتے کے گرد گھومتی رہی۔ وہ یہ کہ گھر کا بڑا بیٹا ہی گھر چلا رہا ہے اور باقی گھر والے یعنی چھوٹے بہن بھائی، بھتیجے، بھانجے اس کی کمائی کھا رہے ہیں، وہ اپنے بچوں‌کا حق مار کر بھیتجیوں کو موٹرسائیکل لے کر دے رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔\n\nیہ مفروضہ اس لحاظ سے غلط ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام صرف یہ نہیں ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ کسی گھر میں‌ بڑا بیٹا جلدی سیٹل ہوگیا اور اپنی خوشحالی کی وجہ سے اس کا گھر چلانے میں کنٹری بیوشن دوسروں سے کچھ زیادہ ہوا، مگر یہ کوئی بنیادی شرط نہیں‌ہے۔ ہم نے ایسے کئی گھر دیکھے جہاں‌چھوٹا بھائی یا منجھلا اپنے پروفیشن یا کاروباری صلاحیتوں کی وجہ سے نسبتآ آگے نکل گیا اور اپنے بڑے بھائیوں‌کی کمزور مالی حالت دیکھتے ہوئے اس نے ایثار کر لیا۔\n\nبنیادی طور پر مشترکہ خاندانی نظام کا مطلب ہے گھر کے ایک سے زیادہ یونٹس کا یکجا ہو کر رہنا۔ نوے فیصد سے زیادہ کیسز میں والد ہی گھر کا سربراہ ہوتا ہے، مگر جب اس پر بڑھاپا وارد ہوگیا اور اس کے دو، تین یا چار بیٹے جوان ہوگئے، کمانے لگے تو ایک خاص وقت تک وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں، رہ جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں عام طور سے والدہ ہی فنانس منسٹر ہوتی ہے اور سب بچے اپنی اپنی تنخواہ یا آمدنی سے ایک خاص حصہ والدہ کو دے دیتے ہیں، وہی پھر گھریلو معاملات چلاتی ہیں، مکان کا کرایہ، بلز، راشن، کھانے پینے کے اخراجات وغیرہ۔ اب اس کا انحصار مختلف خاندانوں‌، ان کے مالی حالات اور زمینی حقائق پر ہے۔ اگر والد نے ہمت کر کے اپنا آبائی گھر بنا لیا اور کوشش کر کے ڈبل، ٹرپل سٹوری یہ سوچ کر بنا ڈالی کہ کل کو میرے بچے اکٹھے ہو کر رہ جائیں گے تو وہاں پر زیادہ آسانی رہتی ہے۔ مختلف بھائی مختلف پورشنز میں‌ رہتے ہیں اور بل وغیرہ کی شیئرنگ ہی ہوتی ہے، اس میں بھی بجلی کے سب میٹر کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ کہیں‌ پر کھانا مشترک ہوا تو پھر دوسرا معاملہ ہے، ورنہ اکثر و بیشتر کیسز میں کچن الگ الگ کر دیا جاتا ہے۔ اب اس کی بھی کئی صورتیں‌ ہو سکتی ہیں۔ کبھی تو ایسا کہ راشن مشترک ہے، مگر کھانا ہر بہو اپنے انداز میں‌بنا لے گی، اپنے خاوند اور اپنے معروضی تقاضوں‌کے مطابق۔ جیسے میرے جیسے کسی صحافی نے رات کو ایک دو بجے آنا، تین چار بجے سونا ہے تو پھر وہ ناشتہ آٹھ بجے نہیں کر سکے گا، اس کا ناشتہ برنچ ٹائپ ہوگا، گیارہ بارہ بجے، جبکہ پورا گھر صبح ناشتہ کر لے گا اپنے اپنے حساب سے۔ بعض گھرانوں‌ میں ابھی تک ایک ہی دسترخوان کی شرط موجود ہے کہ سب گھر والے کھانا اکٹھا کھائیں گے، کم از کم ناشتہ اور رات کا کھانا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب والد بڑھاپے کے باوجود مالی اعتبار سے بھی مضبوط ہو اور اولاد سعادت مند، والد کے حکم کو ماننے والی۔ ایک آسان صورت یہ نکال لی جاتی ہے کہ اوپر نیچے رہنے والے بھائی اپنااپنا کچن ہی الگ بنا لیتے ہیں، یوں‌ راشن وغیرہ بھی الگ الگ آتا ہے، کبھی کسی ضرورت میں ایک دوسرے سے خام یا پکا ہوا کھانا لے لیا، اچھے ہمسائیوں‌کی طرح۔\n\nاب یہ جو شیئرنگ کی صورت ہے، جس میں ماں‌یا باپ کے کہنے کے مطابق ہر بھائی گھر چلانے کے لیے اپنا شیئر ڈالتا ہے، اس میں‌کیا برائی ہے؟ یہ تو ممکن ہے کہ سب سے چھوٹا بھائی اگر ابھی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو پھر ظاہر ہے وہ کنٹری بیوٹ نہیں‌ کر سکتا، اس سے یہ تقاضا بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اپنی بہتر مالی حالت کی وجہ سے ایک بھائی کچھ زیادہ کنٹری بیوٹ‌کر ڈالتا ہے تو اس میں اس کی بیوی کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ فطری بات ہے اور اس کے خاندان کا اپنے فرزند پر حق بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ بڑا بھائی اپنے مسٹنڈے بھتیجے کو موٹر سائیکل لے کر دے اور اپنے بچوں‌کا حق مار دے تو بھیا یہ مفروضہ صورتحال ہی ہے۔ ہم نے تو ایسا ایثار کرنے والے کم ہی دیکھے، دو تین فیصد بمشکل۔ ستر اسی فیصد تو ایسے ہیں جو اپنا شیئر ایمانداری سے دے دیں‌، بڑی بات ہے۔ جو دو چار اچھی مثالیں ہیں، ان سے کسی عورت کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ صلہ رحمی کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے اور کوئی ایثار کرے گا تو وہ یقین رکھے کہ رب تعالیٰ کےخزانے میں کوئی کمی نہیں، اس سے بڑھ کر منصف مزاج اور حق ادا کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ جو دس دے گا، اسے ستر، سو بلکہ ہزاروں بھی مل سکتے ہیں۔\n\nایک اور اہم بات یہ ہے کہ بہت سے کیسز میں‌ بڑے بیٹے کی کامیابی میں پورے خاندان کا حصہ، قربانی اور کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے اچھی تعلیم دلوانے، اکیڈمی وغیرہ میں‌ پڑھانے کے لیے چھوٹے بچوں کو نسبتا ہلکے سکولوں‌میں‌ پڑھانا اور اکیڈمی بھیجنے کی عیاشی سے گریز کرنا پڑ جاتا ہے۔ ماں‌باپ اپنا پیٹ کاٹ کر بڑے بیٹے پر محنت کرتے ہیں، خود بہت سی لذات سے برسوں‌ محروم رہ جاتے ہیں اور فطری طور پر کسی لوئر مڈل کلاس گھر میں بڑے بچے یا بچوں‌کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کی قیمت چھوٹوں کو بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ بعد میں جب تعلیم مکمل ہوئی اور بڑے بیٹوں‌ کو ثمرات ملنے لگیں تو کیا وہ خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کچھ اپنے بچوں تک محدود رکھ دیں۔ ایسا تو دین کہتا ہے نہ اخلاقیات نہ منطق۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ بہت بڑی اکثریت کے کیسز میں اس بڑے لڑکے کی محنت، کوششوں‌ میں اس کے ماں باپ، چچا، ماموں وغیرہ تو شامل رہے ہوتے ہیں، کسی نہ کسی صورت میں، اس کی بیوی تو اس پوری فلم میں ہوتی ہی نہیں۔ تیس سال کی عمر میں شادی ہوئی اور لڑکی جو تیس سال کے بعد زندگی میں شامل ہوئی، اگلے دو برسوں کے دوران ہی وہ چاہتی ہے کہ پچھلی انتیس تیس برسوں میں جو گھر والے اس کے خاوند کی زندگی کا حصہ رہے، وہ اب اچانک ہی دنیا سے ہی غائب ہوجائیں۔ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ سوچ ہی انتہائی خود غرضی کا مظہر ہے۔\n\nہندوؤں میں رواج ایک الگ معاملہ ہے، اس کا ہمارے مشترکہ خاندانی نظام سے کوئی موازنہ نہیں۔ ہمارا مشترکہ خاندانی نظام جہاں‌ جہاں‌کامیاب ہے تو وہ اخوت و بھائی چارہ کے جذبات اور صلہ رحمی کی تلقین کے باعث۔ دل میں‌خوف خدا رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ اگر میں نے صلہ رحمی سے کام لیا اور اپنے وسائل میں اپنے بھائی بہنوں‌کو شامل کیا تو رب خوش ہوگا۔ اس کا یہ جذبہ مستحسن ہے اور مطلوب بھی۔\n\nیہ درست ہے کہ عربوں‌ میں ہماری طرز کا خاندانی نظام نہیں تھا، مگر یاد رکھیے کہ وہ قبائلی نظام تھا اور قبائلی سادہ معاشرت پر مبنی، جس میں‌دو منزلہ، تین منزلہ آبائی گھر نہیں تھے، خیموں‌میں رہائش رکھی جاتی تھی یا کچے چھوٹے مکان۔ ویسے تو قبائلی نظام بھی ایک لارجر مشترکہ خاندانی نظام کی طرح ہے، جس میں بہت سی چیزیں شیئر کرنا پڑتی ہیں بلکہ دوسروں کی دوستیاں اور دشمنیاں بھی اپنانی پڑتی ہیں۔ آج کی جدید شہری زندگی سے اس زمانے کا موازنہ کرنا سادگی اور بھولپن ہے، مگر اسلام کی سپرٹ کہیں‌ پر مشترکہ خاندانی نظام سے نہیں روکتی۔ اسلام تو نام ہی ایک دوسرے سے محبت، بھائی چارہ، صلہ رحمی، ایثار اور قربانی دینے کا ہے۔ اس میں تو پڑوسیوں کے اتنے حقوق ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک قول ہے کہ انہیں‌یوں لگا کہ کہیں پڑوسیوں کو وراثت میں حق نہ مل جائے۔ وہ خدا کیا بھائی بہنوں‌کو دور کر دینے کی تلقین کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ کسی عرب ملک میں چلے جانے اور وہاں مقیم ہو جانے والے شخص کے ذاتی تجربات تلخ ہوں کہ ہمارے ہاں دبئی، سعودی عرب چلے جانے والے سیٹھ سمجھے جاتے تھے اور پورا گاؤں ان سے امیدیں‌ لگا بیٹھتا تھا، ایسے میں ممکن ہے کسی اوورسیز پاکستانی کو ضرورت سے زیادہ کنٹری بیوٹ کرنا پڑا ہو، مگر پاکستان میں آج جس طرح مادیت پرستی کا چلن عام ہوگیا، خودغرضی بڑھ رہی ہے اور سنگل فیملی یونٹ‌کا رواج بڑھ رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام پر تنقید کے بجائے اس کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت ہے ۔\n\nمشترکہ خاندانی نظام میں‌ ظاہر ہے کچھ خامیاں بھی ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بھائی اپنی بیویوں‌کی پڑھائی پٹی پڑھ کر آپس میں بلا وجہ الجھ پڑتے ہیں اور نوبت وہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اگر اکٹھے رہے تو بول چال ہی جاتی رہے گی، اس لیے الگ الگ ہوجائیں تاکہ رسمی تعلقات تو رہ جائیں۔ جگہ کی تنگی، چھوٹے مکان کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی والدہ یعنی ساس کے مزاج کے باعث بہوؤں یا کسی ایک بہو کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ بچوں‌کی آپس کی لڑائیوں میں اگر بڑے شامل ہوجائیں تو تلخی بڑھ جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر دل بڑا نہ کرنا بھی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ فلانی توے پر گھی میں تربتر پراٹھے پکاتی ہے، اپنے حصے سے زیادہ گھی لگا دیتی ہے، یا اچھی بوٹیاں پہلے خود نکال لیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسی عامیانہ سوچ اور تنگ نظری سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی تلخ باتوں کو نظرانداز کرنے اور کبھی ہنس کر ٹال دینے کی روش اپنانی پڑتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کو سپیس دی جائے تو بہت سے معاملات از خود سلجھ جاتے ہیں۔\n\nآپس میں رہنے کے دیگر فوائد کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں بلز وغیرہ شیئر ہوجائیں، کچن کی شیئرنگ ہو تو اخراجات خاصے کم ہوجاتے ہیں۔ پھر گھرانہ کچھ محفوظ بھی محسوس کرتا ہے۔ گھر میں مرد زیادہ ہوں‌ تو آج کل کے خطرات کے دور میں بچت رہتی ہے۔ ایک بھائی مصروف ہے تو دوسرا سودا سلف لا سکتا ہے، ایمرجنسی میں‌ کسی کو ہسپتال لے جانا ہو، وہ ہو جاتا ہے۔ اگر ہم مشترکہ خاندانی نظام میں کچھ سوچی سمجھی اصلاحات لے آئیں، ’’مضبوط مرکز‘‘ کے بجائے ’’ڈھیلا ڈھالا وفاقی نظام‘‘ یا’’کنفیڈریشن‘‘ ہی قائم کر لیں تو معاملہ احسن طریقے سے چل سکتا ہے۔ اگر مختلف وجوہات کی بنا پر اکٹھا رہنا ممکن نہیں‌، تب بھی ایسی بےرحمی سے اس تصور کو رد کرنا اور اسے غیر اسلامی اور ہندوؤں سے منسوب کرنا تو ظلم کے مترادف ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com