شوہر بیوی کو خوش کیسے کرے؟ نیر تاباں

شادی شدہ زندگی کے مسائل کیسے کم کریں، اس پر بہنوں سے سیر حاصل گفتگو پہلے ہوئی۔ آج باری ہے بھائیوں کی۔ سب خاموشی سے بیٹھ جائیں، فون سائلنٹ کر دیں اور سیکھنے اور عمل کرنے کی نیت سے بات سنیں۔ ان شاء اللہ!

آپ سارا دن گھر سے باہر ہوتے ہیں۔ رستے میں، آفس میں، فیس بک پر، ہر جگہ مسکراتی لڑکیاں لیکن گھر کے اندر آتے ہی بیوی پر نظر پڑتی ہے جو کام میں مشغول دور سے ہی سلام کر دیتی ہے۔ ایسے میں اس کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی پاس جا کے مسکرا کے حال چال پوچھیں۔ گھر کے کاموں اور بچوں کی مصروفیت میں آپ کا واپس آتے ہی پیار سے حال پوچھنا ہی اس کی آدھی تھکن دور کر دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی گھر لوٹتے، اپنی زوجہ کو پیار سے بوسہ دیتے تھے۔ پھر نہا دھو کر کپڑے تبدیل کر لیجیے۔ بہت ہلکا سا پرفیوم بھی لگا لیجیے تاکہ آس پاس سے گزرنے والوں کو ایک خوشگوار احساس ہوتا رہے۔ پان/سموکنگ کرنے والے oral hygeine کا خصوصی خیال رکھیں۔ سوچیں کہ لہسن اور پیاز جیسی چیزیں کھا کر اللہ تعالی نے مسجد میں آنا ناپسند فرمایا ہے تاکہ ان کی بو باقی نمازیوں کو ناگوار نہ گزرے تو سگریٹ کی بدبو بیوی کو کس قدر ناگوار گزرتی ہوگی۔ اول تو اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کریں، دوسرا یہ کہ منہ کی صفائی کا خیال رکھیں۔ محبت کو اظہار اور تجدیدِ اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر آتے ہوئے کبھی پھول یا اس کی پسندیدہ چاکلیٹ یا اس کی پسند کی کوئی چیز لیتے آئیے۔ دن بھر اپنی بیوی کو ہلکا پھلکا ٹیکسٹ‌ میسج بھیج دیں جیسے:\
Are you busy?
I had something important ، I forgot to tell you: I love you!
I havent told you in long time how much you mean to me. Thank you for everything that you do.

اسی طرح چپکے سے سرہانے کے نیچے اس کے لیے کوئی پیار بھرا میسج رکھ دیں۔ صفائی کرتے ہوئے اسے سرپرائز مل جائے گا۔ بیگم کا نام ساتھ ضرور لکھ دیجیے گا، ورنہ نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ یہ تو تھے فوری کرنے والے آسان کام۔ اب آئیں کچھ ایسی عادتوں کی طرف جن سے بیویاں سخت نالاں ہوتی ہیں اور شوہر بالکل توجہ نہیں کرتے۔ کسی نے کہا ہے کہ
The most important thing a father can do for his children is to love their mother
بچوں کی بہترین تربیت کا پہلا سٹیپ یہ ہے کہ ان کی ماں کو عزت اور محبت دیں۔ جہاں غلطی کرے ، پیار سے سمجھا دیں۔ اس کی غلطی پر اس کے گھر والوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ بچوں کے سامنے اگر آپ اپنی بیوی کی بےعزتی کریں گے، بچے لاشعوری طور پر یا آپ کی سائیڈ پر ہو جائیں گے اور ماں کی بات سننا ماننا چھوڑ دیں گے، یا ان کی مکمل ہمدردی ماں کی طرف ہوگی (جس کے چانسز زیادہ ہیں) اور آپ اپنا وہ مقام کھو دیں گے جو ایک بچے کے دل میں آپ کا ہونا چاہیے۔ آپ اپنی اولاد کے سپر ہیرو سے ولن کے مقام پر آ جائیں گے۔ بچے سہم جائیں گے، دوستوں میں اپنا اعتماد کم کر بیٹھیں گے، پڑھائی بھی متاثر ہو گی۔ اس کا ایک اور بہت بڑا نقصان بھی ہے۔ یہی بچے کل کو عورت خصوصاً اپنی بیوی کی عزت نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   صبر اور برداشت سے مکانو ں کو گھر بنائیں - بشریٰ نواز

انہیں یہی معلوم ہو گا کہ عورت کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ قریباً %78 مرد جو اپنی بیویوں کو ہراساں کرتے ہیں، انہوں نے اپنے بچپن میں اپنے باپ کو اپنی ماں سے یہی سلوک کرتے دیکھا ہوتا ہے۔ آپ غور کریں کہ آپ کے آج کے عمل سے کس طرح آپ کی نسلیں متاثر ہوں گی۔ میں یہ بات دل سے مانتی ہوں کہ جو رزق اور جتنی محبت اللہ نے میرے نصیب میں لکھی ہے، اتنی ہی ملے گی، کم نہ زیادہ۔ یہی بات میں اپنی بہنوں کو سمجھاتی ہوں جو شکایت کرتی ہیں کہ شوہر اپنے گھر والوں پر سارا پیسہ لٹا دیتا ہے اور ہمارے وقت پر بچت کرنا یاد آ جاتا ہے۔ لیکن یہاں آپ یاد رکھیں کہ آپ اپنی بیوی کے کفیل ہیں۔ اس کو ہر مہینے کچھ رقم پاکٹ منی کے طور پر دیں جس کے بارے میں اس سے کوئی سوال نہ کریں۔ وہ چاہے تو اپنے گھر والوں کے لیے کچھ لے، چاہے تو صدقہ کرے، چاہے تو اپنے پاس جمع کر لے۔ اگر وہ خود کماتی ہے تو پھر پاکٹ منی کے بجائے کبھی کھانا کھلانے لے جائیں، یا کہیں گھمانے لے جائیں. اسی طرح جب بہنیں بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے شوہر کی ساری توجہ اور محبت کا سارا مرکز اس کے اپنے گھر والے ہوتے ہیں اور اس کا کام بس گھر سنبھالنا ہے تو بہت دل دکھتا ہے۔ بےشک میں انہیں کہوں کہ محبت اور خلوص سے تم ایک دن اپنے شوہر کا دل جیت لو گی، آپ سے مجھے یہی کہنا ہے کہ یہ عورت اپنا گھر، اپنے پیارے رشتے، اپنے دوست احباب، حتی کہ اپنی پسند ناپسند بھی چھوڑ کر آپ کے پاس آئی ہے۔ وہ اپنے تمام رشتوں کا پیار آپ میں ڈھونڈتی ہے۔ کبھی ابو کی طرح سینے سے لگا لیں، کبھی امی کی طرح محبت بھری ڈانٹ، کبھی دوستوں کی طرح چھوٹی سی بات پر بے تحاشا ہنسنا۔ یہ سب آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی جسمانی، جذباتی، معاشی، معاشرتی ضروریات کے لیے وہ آپ کی محتاج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہور کی سنبل - عائشہ یاسین

کچھ شوہر مالی ضروریات تو پوری کرتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں کہ سامنے ایک جیتا جاگتا انسان ہے جس کی پیسے کے علاوہ بھی کچھ ضروریات ہیں۔ شوہر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے دوست بنیں۔ کسی بھی انسان کو آگے بڑھنے کے لیے تعریف اور حوصلہ افزائی چاہیے ہوتی ہے۔ بیوی کو بھی! وہ تیار ہو تو اس کی تعریف کر دیں، اچھا کھانا بنائے تو بھی کھلے دل سے کہہ دیں، اور چھوٹے چھوٹے آپ کے جو کام وہ سارا دن کرتی ہے، ان پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ آپ کا ایک جملہ ”تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟“ اس کی جان جلا دیتا ہے۔ کسی دن صبح سے رات تک اس کی روٹین دیکھیں، خصوصاً جو خواتیں بچوں والی ہیں، یا سسرال کے ساتھ رہتی ہیں، ان کو تو یہ کبھی نہ کہیں.
آپ کو اپنی بیوی کی جو بات پسند نہیں، اس کو محبت سے بتا دیں لیکن دوسری عورتوں کی مثالیں نہ دیں۔ کسی کے حسن، سگھڑاپے، عقل مندی کی زیادہ تعریفیں بیگم کے سامنے کریں۔ اس کا موازنہ نہ تو خود کسی اور کے ساتھ کریں، نہ ہی اس کو جتائیں۔ سب باتوں کی ایک بات: بیوی کو انسان سمجھیں۔ ضروریات کے حوالے سے، احساسات کے حوالے سے، عادات و اطوار کے حوالے سے۔ میری دعا ہے کہ ہر گھر میں میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اتنی محبت اور عزت ہو اور یہ تعلق اسقدر مضبوط ہو کہ شیطان کا ہر ضرب خالی جائے۔ آمین!\n\nبیوی کے لیے مفید مشورے اس لنک پر ملاحظہ کریں\n\nشادی شدہ زندگی اور خواتین کا کردار

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.