عورت کا شرک - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ایک ویڈیو کلپ بار بار نظر سے گزر رہا ہے اور اکثر برادران اسے اپنی والز پر شیئر کر رہے ہیں کہ مرد عورت سے کیا چاہتا ہے۔ بس اسی کا جواب دیا ہے. شرک رب کریم کو برداشت نہیں۔ بے شک، اور اس کی معافی بھی نہیں۔ یہ خدائی صفت اللہ نے اپنے بندوں کو بھی ودیعت کی ہے۔

بندوں سے مراد تمام انسان ہیں، صرف مرد نہیں۔ شرک کسی بھی ذی روح کو پسند نہیں۔ نہ مرد اور نہ ہی عورت۔ آپ لوگ شریعت کا حوالہ لے آئیں گے کہ مرد کو اجازت ہے اللہ کی دی گئی اک اجازت جو بہت سخت پابندیوں کیساتھ مشروط رکھی گئی ہے پھر اسے پسند کرنے کا حکم عورت کو نہیں دیا گیا ۔ کوئی عورت بخوشی اپنے تاج و تخت میں کسی دوسری کو شریک نہیں کرتی، کر ہی نہیں سکتی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو دو سوکنیں کبھی حسد، کڑھن اور دشمنی کے جذبات سے مغلوب نہ ہوتیں اور پیروں، فقیروں، اور تعویز گنڈے والوں کی دکانیں کبھی آباد نہ ہوتیں۔ اگر کوئی بھی عورت اپنے شوہر کی دوسری تیسری بیوی کو برداشت کرتی ہے تو ایسا وہ اللہ کی خاطر کرتی ہے اور اپنی ذات سے بالاتر ہو کر کرتی ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ جب اس کا شوہر دوسری بیوی کے پاس ہوتا ہے تو وہ وقت اس پہلی بیوی کے لیے جلتے انگاروں پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اور ایکسٹرا میریٹل ریلیشنز تو نا صرف غیر اسلامی ہیں بلکہ کوئی بھی باغیرت مرد و زن اسے برداشت نہیں کر سکتا۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.