اکتوبر کی اچھی خبر کا انتظار-حامد میر

hamid_mir1\n\nپاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکتوبر کا مہینہ بری خبریں لانے کیلئے بدنام ہے ۔ اچھا ہوا کہ عمران خان نے 30اکتوبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان میں تبدیلی کر دی۔ اب وہ 2نومبر کو اسلام آباد بند کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی عمران خان کو 2نومبر کو طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا ۔ عمران خان کو ان کے مہم جو ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ 2نومبر کو ا لیکشن کمیشن میں پیش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو تحریک انصاف کو ناقابل یقین سیاسی فائدہ ہوگا ۔ تحریک انصاف کے سیاسی فائدے میں پاکستان کی جمہوریت کیلئے نقصانات کے خطرات بھی موجود ہیں اور ان نقصانات کی ذمہ داری صرف عمران خان پر نہیں بلکہ وزیر اعظم نواز شریف پر بھی عائد ہوگی۔ سپریم کورٹ میں ان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت 20اکتوبر کو شروع ہو رہی ہے نواز شریف چاہیں تو اکتوبر کو اچھی خبروں کا مہینہ بھی بنا سکتے ہیں لیکن کیسے ؟ اچھی خبروں کے خواب دکھانے سے پہلے یہ خاکسار آپ کو ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ اکتوبر کی بری خبروں پر نظر ڈال لیں۔\n\nقیام پاکستان کے صرف چار سال بعد 16اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں پاکستان کےپہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا تھا ۔ لیاقت علی خان کے قتل سے مسلم لیگ بکھر کر رہ گئی اور سیاست دانوں کے اختلافات سے سول و ملٹری بیوروکریسی نے خوب فائدہ اٹھایا ۔ اکتوبر 1954ء میں دو اہم شخصیات نے شادیاں کیں ۔ دونوں شادیاں بڑی پر اسرار تھیں اور بعد کے حالات نے ثابت کیا ان شادیوں نے پاکستان کی سیاست پر کچھ اچھے اثرات مرتب نہ کئے ۔ پہلی شادی پاکستان کے سیکرٹری دفاع میجر جنرل اسکندر مرزا نے کی، یہ انکی پہلی نہیں دوسری شادی تھی ۔ انکی پہلی بیوی کا نام رفعت مرزا تھا جن کے ساتھ انکی شادی 1922ء میں ہوئی تھی ۔ناہید مرزا کے ساتھ انہوں نے اکتوبر 1954ء میں شادی کی ۔ یہ موصوفہ پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی کرنل افغامے کی زوجہ تھیں لیکن انہوں نے اپنے خاوند کو چھوڑ کر اسکندر مرزا سے شادی کرلی ۔ جبکہ اسکندر مرزا نے اپنے بیٹے ہمایوں مرزا کو دوسری شادی کے متعلق بتایا تو بیٹے نے بھی باپ کو ایک بریکنگ نیوز دی ۔\n\nہمایوں مرزا نے باپ کو بتایا کہ وہ پاکستان میں امریکی سفیر مسٹر ہلڈرچ کی بیٹی سے شادی کر رہا ہے ۔ اس طرح اکتوبر 1954ء میں پاکستان کے سیکرٹری دفاع نے ایک غیر ملکی سفارتکار کی بیوی اور ان کے بیٹے نے غیر ملکی سفارتکار کی بیٹی سے شادی کر لی ۔ 1955ء میں اسکندر مرزا پاکستان کے گورنر جنرل بن گئے \1956ء کا آئین نافذ ہونے کے بعد وہ گورنر جنرل سے صدر پاکستان بن گئے لیکن اختیارات وزر اعظم کے پاس جانے پر خوش نہ تھے ۔ 7اکتوبر 1958ء کو انہوں نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ کچھ ہی دنوں کے بعد 27اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا سے زبردستی استعفیٰ لے لیا اور انہیں ملک بدر کر دیا ۔ ہمایوں مرزا نے اپنے خاندان کے بارے میں ایک کتاب لکھی جو ’’فرام پلاسی ٹو پاکستان‘‘ کے نام سے امریکہ میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے والد کے علاوہ اپنے بزرگ سید جعفر علی خان نجفی کے بارے میں بھی کئی انکشافات کئے جو میر جعفر کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ سید جعفر علی خان نجفی کے والد سید محمد فتح علی مرزا عراق کے شہر نجف کے گورنر سید حسین نجفی کے برخوردار تھے ۔وہ شہنشاہ اورنگزیب کے زمانے میں ہندوستان آئے ۔ سید جعفر علی خان نجفی بنگال کی فوج میں بھرتی ہو گئے ۔ جب وہ بنگال کے میر سپاہ ( آرمی چیف ) مقرر ہوئے تو میر جعفر کہلانے لگے ۔ ہمایوں مرزا نے لکھا ہے کہ سید جعفر علی خان نجفی نے ایک ناچنے و الی منی بیگم سے دوسری شادی کی اور اس کے ذریعہ انگریزوں سے روابط قائم کئے اور سراج الدولہ کو دھوکہ دیا ۔ انگریزوں نے منی بیگم کو ’’مادر ایسٹ انڈیا کمپنی ‘‘ کا خطاب دیا ۔\n\nہمایوں مرزا نے اپنے والد اسکندر مرزا کے خلاف جنرل ایوب خان کی فوجی بغاوت کی وجہ اپنی سوتیلی ماں ناہید کو قرار دیا ہے کیونکہ اس خاتون کے ساتھ شادی کے باعث ان کے والد اپنی فوج کی نظروں میں مشکوک ہو چکے تھے ۔ جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو جلاوطن کر دیا ۔13نومبر 1969ء کو اسکندر مرزا لندن میں فوت ہوئے تو جنرل یحییٰ خان اقتدار میں تھے ۔ انہوں نے اسکندر مرزا کو پاکستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی اسکندر مرزا کا جسد خاکی لندن سے تہران لایا گیا جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ ہمایوں مرزا نے وہ وجہ نہیں لکھی جس کے باعث ان کے والد کو پاکستان میں دفن نہ کرنے دیا گیا۔ انکی کتاب میں جنرل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انکی خط وکتابت کی تفصیلات خاصی حیران کن ہیں۔ سب سے اہم خط امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان فاسٹر ڈلس کا ہے جو انہوں نے 17اکتوبر 1958ء کو اسکندر مرزا کے نام لکھا اور جس میں جمہوریت ختم کرنے پر اسکندر مرزا اور ایوب خان دونوں کو شاباش دی گئی ۔اس خط میں جان فاسٹر ڈلس نے اسکندر مرزا کو بنیادی جمہوریت کے نظام سے روشناس کرایا اور بتایا کہ کس طرح ایک زمانے میں امریکی صدر کا انتخاب براہ راست نہیں بلکہ کچھ منتخب نمائندوں کے ذریعہ ہوتا تھا ۔ بعد میں ایوب خان نے اس نظام کو پاکستان میں نافذ کر دیا اور اس نظام کے ذریعہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی الیکشن میں شکست دی ۔\n\nاکتوبر کی بری خبروں کا ذکر آیا ہے تو ہمیں 15اکتوبر 1977ء کو نہیں بھولنا چاہئے جولائی 1977ء کی فوجی بغاوت سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور اس وقت کی اپوزیشن میں طے پایا تھا کہ 15اکتوبر 1977ء کو انتخابات ہونگے لیکن جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا ۔ یہ انتخابات کبھی نہ ہو سکے۔ پھر 12اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دیا ۔ کچھ دن تک اسمبلیاں ختم نہ کی گئیں اور پارلیمینٹ کے اندر سے تبدیلی لانے کی کوشش ہوئی لیکن شہباز شریف نے اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا ۔ چودھری نثار علی خان بھی نہ مانے اور آخر کار اسمبلیاں توڑ دی گئیں ۔ 18اکتوبر 2007ء کو کراچی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس میں 180سیاسی کارکنوں کی شہادت بھی ناقابل فراموش ہے اکتوبر کی کچھ اور بری خبروں کا ذکر اس کالم کو بہت طویل کر دےگا ۔ 6اکتوبر 2016ء کو ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر نے بھی پورے نظام کو ہلا دیا ہے اور اس خبر کے سورس کو بے نقاب کئے بغیر موجودہ حکومت دبائو سے نہیں نکلے گی۔\n\nاکتوبر 2016ء میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جلدی جلدی اپنے جماعتی انتخابات مکمل کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ انہوں نے بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں پر اپنے امیدواروں کیلئے انتخابی نشان حاصل کرنے ہیں ۔ ان انتخابات پر اعتراض کی کافی گنجائش موجود ہے لیکن ہم ان انتخابات کو درست سمت میں ایک چھوٹا سا قدم قرار دیکر وزیر اعظم نواز شریف سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمیں اکتوبر میں کوئی بہت اچھی خبر دیدیں پانامہ پیپرز کا معاملہ اپریل میں آیا تھا اب اکتوبر ختم ہونے والا ہے ۔ اس معاملے کو لٹکا کر پاکستان کی سیاست میں غیر ضروری کشیدگی اور بے چینی پیدا کر دی گئ ہے ۔ اگر وزیر اعظم کا دامن صاف ہے تو انہیں اس معاملے میں اپوزیشن کی شرائط کے مطابق خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے میں لیت ولعل سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ اگر ان پر الزام ثابت نہ ہوا تو انہیں چور کہنے والے جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن کی شرائط کو ماننے کا اعلان نواز شریف کی طرف سے قوم کیلئے ایک تحفہ ہوگا جو اکتوبر کی ایک اچھی خبر کے طورپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔