ڈاکٹر غینا شمسی، میڈیکل طالبات کے لیے مشعل راہ - ناصر تیموری

ناصر تیموری پاکستان میں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد گائنی شعبے سے منسلک ہوتی ہے جبکہ دیگر شعبوں میں اکثریت مرد ڈاکٹر وں کی ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی بہت سے ڈاکٹر اچھے مستقبل کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ دوسری جانب اگر کوئی خاتون ڈاکٹری کے بعد سرجن بھی بن جائے تو ہمارے ہاں یہ غیرمعمولی بات ہے۔ آپریشن کرنے کے لیے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی لیے سرجن مضبوط اعصاب کا مالک ہوتا ہے۔

خواتین عام طور پر نرم طبعیت کی مالک ہوتی ہیں، انہیں چیرپھاڑ سے ڈر لگتا ہے، پھر بعض اوقات آپریشنز کا کوئی متعین وقت بھی نہیں ہوتا، دن ہو یا رات، انہیں آپریشن کے لیے طلب کرلیا جاتا ہے، اس لیے ہمارے ہاں کی خواتین ڈاکٹر سرجری کی جانب جانے سے گریز کرتی ہیں۔ تاہم اس ضمن میں ہمارے سامنے ایک روشن مثال ڈاکٹر غینا شمسی کی ہے جو سرجن بھی ہیں۔\n\nڈاکٹر-غینا-شمسی.jpg پی ای سی ایچ ایس میں رہائش پذیر 38 سالہ غینا شمسی انڈس اسپتال میں سرجن ڈاکٹر ہیں جبکہ وہ گھر میں امور خانہ داری کے فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔ ڈاکٹر غینا شمسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لڑکیاں ڈاکٹری کی تعلیم مکمل ہونے اور پھر شادی کے بعد دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں گی۔ ڈاکٹر غینا شمسی میڈیکل کی طالبات کے لیے مشعل راہ ہیں۔

ڈاکٹر غینا شمسی انڈس اسپتال میں نومبر 2008ء سے وابستہ ہیں۔ جنرل سرجن، بریسٹ اور کولون کینسر کے شعبے میں مہارت رکھتی ہیں۔ ان کی شادی کو آٹھ برس ہوچکے ہیں۔ دو بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی منال کی عمر سات سال اور چھوٹی بیٹی ساڑھے چار سال کی ہے. ان کے شوہر محمد احمد پیشے کے اعتبار سے ایک فلم پروڈیوسر ہیں اور اپنی اہلیہ ڈاکٹر غینا شمسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غینا شمسی نے 2002ء میں بقائی میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا جبکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے ٹریننگ حاصل کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر غینا گھر کی وہ تمام ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں جو گھریلو خواتین سرانجام دیتی ہیں۔ وہ کھانا پکاتی ہیں، گھر کی صفائی کرتی ہیں، پڑھائی میں اپنے بچوں کی مدد کرتی ہیں۔ صرف یہی نہیں وہ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے والدین کا بھی خیال رکھتی ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔ بہن نے کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئرنگ میں بیچلرز کیا ہے اور وہ بھی گھریلو خاتون ہیں جبکہ دونوں بھائیوں نے انڈسٹریل انجینئرنگ میں بیچلرز کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سرجن بننے کے بارے میں بتایا کہ ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد جب ان کی مختلف اسپتالوں میں ذمہ داری لگی اور مریضوں سے ملنے جلنے کا آغاز ہوا تو اس وقت ان کے اندر سرجن بننے کی خواہش پیدا ہوئی تاکہ مریضوں کا زیادہ بہتر طریقے سے علاج کیا جا سکے ۔ تاہم سرجن بننے کے لیے ہمیشہ انتہائی پرعزم رہنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی وقت چاہے دن ہو یا رات سرجن کو آپریشن کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اپنے کاموں کی بہترین انداز سے انجام دہی کے لیے اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔

غیینا شمسی کو ڈاکٹر بننے کا شوق اپنے والد سے ورثے ملا۔ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں بچوں کو بہترین تعلیم دینے پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں، اپنے والدین کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی بدولت ہیں۔ وہ خود اپنی بیٹوں کی تربیت پر بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔

اپنے کیرئیر اور ذاتی زندگی کے درمیان بہترین توازن رکھنے کے لیے ڈاکٹر غینا شمسی نے دلچسپ حل نکالا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں زیادہ گھلتی ملتی نہیں۔ ان کی ترجیح اپنا کام اور خاندان ہے۔ شوہر اور والدین سے انہیں بھرپور تعاون ملتا ہے جبکہ انڈس اسپتال کا ماحول اور کلچر بھی اچھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک فلاحی ادارے سے بھی وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ پاکستان بھر میں بچوں کے امراض کے علاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر غینا شمسی انتہائی مصروف خاتون ہیں، انہیں گھر کے معاملات دیکھنے کے ساتھ اسپتال سے بھی رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی میڈیکل لائف اور اپنی گھریلو زندگی منظم انداز سے ترتیب دیتی ہیں اور ٹیکنالوجی کی جدت کے باعث اپنے ساتھی ڈاکٹرز، میڈیکل اسٹاف، مریضوں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہمہ وقت رابطے میں رہتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم میں مدد کی فراہمی کے ساتھ اپنے میڈیکل کیریئر میں نئی جدتوں اور تحقیق سے باخبر رہنے کے لیے اسمارٹ فون کی مختلف ایپلی کیشنز اور انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال رہتا ہے، جس سے انہیں اپنی گھریلو اور پروفیشنل لائف کو متوازن رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی فیملی لائف کو پس پشت نہ ڈالیں۔ اسی طرح اپنی فیملی کے لیے اپنے کیریئر کو پس پشت نہ ڈالیں، بلکہ درمیانی راستہ اختیار کریں اور یہ کام آپ کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر غینا شمسی کی زندگی کو ہم اگرایک نظر دیکھیں تو اس سے عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، کیونکہ پڑھی لکھی لڑکی ہی کل پڑھی لکھی ماں بنے گی اور یوں وہ پڑھے لکھے معاشرے کی بنیاد رکھے گی۔ اگر ڈاکٹرز کم ہوں گے تو لوگوں کے پاس علاج کے مواقع بھی کم ہوں گے اور علاج مہنگا بھی ہوگا۔ لیکن جتنے زیادہ ڈاکٹرز ہوں گے، لوگوں کو بھی علاج کے اتنے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے اور علاج بھی قدرے سستا ہوجائے گا۔ اکستان کے شہری جتنے زیادہ صحت مند ہوں گے، اتنا ہی پاکستان بھی صحت مند ہوگا۔ اس لیے ہمیں وقت کے ساتھ اور اپنی ضرورتوں کے مطابق بدلنا ہوگا۔ یہی دنیا میں آگے بڑھنے کا طریقہ ہے۔