ارشد خان، چائے والا - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جب وہ چائے والا تھا
جب وہ چائے والا تھا
\n\nغربت اور غیرت ایک جگہ اکٹھے تبھی ہو سکتے ہیں جب پیٹ اور نیت بھری ہو لیکن جہاں کوئی اور چارہ نہ ہو،گھر پر فاقہ مستی کا عالم ہو اور غیرت کی قیمت پر زندگی سانسیں مستعار دیتی ہو، اور جہاں خوابوں کی تعبیر غیرت کی قبر پر ممکن ہو تو غیور فاقہ مست رہنا ایک ناممکن امر ہوتا ہے.\n\nدنیاوی چکاچوند جب اپنا وار کرتی ہے تو اندھیرے میں کون بیٹھا رہے جبکہ ”دنیا کیا کہے گی“ کا خوف بھی دامن گیر نہ ہو، بلکہ دنیا کی رشک بھری صدائیں ہمرکاب ہوں تو یہ سفر ہواؤں کے سر پر طے ہوجایا کرتے ہیں.\n\nعورت ہو تو باپ بھائی شوہر برادری کی غیرت جاگتے دیر لگ سکتی ہے لیکن جاگتی ضرور ہے، لیکن مرد کے لیے ایسا مسئلہ ہوتا نہیں بلکہ اس کی برادری اس کی قسمت پر رشک اور فخر کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہوتی ہے.\n\nاسے قدرت کے ایک اشارے پر نام ملنے لگا. اسے دیکھنے چاہنے والوں کے لیے پروانوں کے ڈھیر نے جل جانا چاہا. دنیا ٹوٹ پڑنے لگی تو اس نے بھی قسمت کے اس داؤ کو کھیلنے کا فیصلہ کیا. اسے اس کا فیصلہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ دریا میں اترنے کا فیصلہ ہر انسان کا اپنا ہوتا ہے، اس کے بعد تیراک کی مہارت اور دریا کی موجوں کی سرکشی کا مقابلہ ہوتا ہے. کون سر کرے اور کون سر ہو جائے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے.\n\nرزق حلال اور غیرت کے سوالات تو اس کے بلیک ڈنر سوٹ ،گلابی ٹائی اور جیل زدہ بالوں میں کہیں گم گئے. ڈھابہ چائے پانسو دیہاڑی سب پیچھے رہ گئے، فی الحال جس سراب زدہ جنت میں وہ پہنچ\nچکا ہے، اس کی چکا چوند، غیرت اورحرام حلال سوچنے کب دیتی ہے. فاقہ مست تب تک مست حال رہتا ہے جب تک اور کوئی آپشن نہ ہو. ”عصمت بی بی از بےچادری“. اب اس کی سادگی و معصومیت کا سودا باقی ہے.\n\n
میڈیا کی چکاچوند کے بعد
میڈیا کی چکاچوند کے بعد
\n\n

اپنی سادگی کا سحر تو لباس کی تبدیلی کے ساتھ ہی وہ کھو چکا ہے. دیکھتے ہیں کہ اس سرابی جنت میں گندم کا دانہ کب اس کا نصیب بنتا ہے. بہت کچھ تیراک کے اختیار میں نہیں رہتا جب دریا اسے اپنے گود میں لے لیتا ہے. موجوں میں بےوزنی کی کیفیت ہلکورے اور سکون تو دیتی ہے لیکن قدم جمانے کے لیے ضروری بار سے بھی آزاد کر دیتی ہے اور اچھال بھی دیا کرتی ہے.\nدعا ہے کہ وہ اس دریا کو سُوکھا اور سَوکھا پار کر آئے.

\n\n

آخر میں عابی مکھنوی کی ”چائے والا“ کے عنوان سے نظم ملاحظہ کیجیے. بات مکمل ہو جائے گی.

\n\n

چائے پی اور شرافت سے کھسک لے پگلی\nچائے کے بیس رُوپے ہیں تو وہ دیتی جانا\nکیا کہا! تُو نے دِکھانی ہے مُجھے دُنیا نئی؟\nکیا کہا! تُو نے مُجھے رنگ نیا دینا ہے؟\nکیا کہا! میری جگہ چائے کا ہوٹل تو نہیں؟\nآنکھ نیلم ہے مِری رنگ ہے سونے جیسا؟\nمیں تو بِک سکتا ہوں ہیروں کے برابر تُل کر؟\nتُو مُجھے اچھے خریداروں میں لے جائے گی؟\nاُس جگہ رنگ بھی بِکتا ہے وہاں خُوشبُو بھی؟\nناک اور کان کے ہمراہ نظر بِکتی ہے؟\nنقش اچھے ہوں تو پھر واہ خبر بِکتی ہے؟\nتیرا دِل رکھنے کو چل چلتا ہوں کوٹھے تیرے!\nسیر کا موقع ہے کُچھ سیر ہی کر لی جائے!\nچار چھ دِن کی کہانی ہے مِری بیچ لے تُو!\nپھر وہی میں، مِرا ہوٹل\nمِری محنت، مِری چائے!

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.