گوشت کے بیوپاری - ابو محمد مصعب

ابومصعب سنہ 80ء کے عشرے میں پی ٹی وی میں کے ڈرامے دیکھنے والوں کو ایک اداکارہ، روحی بانو یاد ہوگی۔ موصوفہ اس دقیانوسی زمانہ میں بھی کافی ماڈرن اور آزاد خیال مشہور تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شریف گھرانوں کی خواتین نے تازہ تازہ فلم انڈسٹری اور ٹی وی ڈراموں میں قدم رکھنا شروع کیا ہی تھا۔ ورنہ اس سے قبل صرف لال بازار کی عورتیں ہی اکثر فلم انڈسٹری کا رخ کرتی تھیں۔ فلموں، ڈراموں اور تھیٹر کو انگریز لوگ بھی شروع شروع میں اچھا نہیں سمجھتے تھے، اسی لیے اگر کوئی شیکسپیئر کے ڈراموں کے بارے میں جاننا چاہے تو اسے پتہ چلے گا کہ وہ ڈرامے شہر سے کافی دور کسی تھیٹر میں منعقد کیے جاتے تھے (تاکہ جس نے ڈرامہ دیکھنے کا قبیح فعل کرنا ہے وہ وہیں جا کر کر لے)۔ عام طور پر شرفاء ان خرافات سے دور ہی رہتے تھے۔\n\nپی ٹی وی ڈراموں کے لیے عام اور شریف گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں کو کاسٹ کرنے کا کارنامہ سب سے پہلے ڈرامہ نویس حسینہ معین نے سرانجام دیا۔ اس کے بعد ہی یہ سلسلہ آگے بڑھا اور اب حالت یہ ہے کہ لال بازار اور شرفا کے گھروں کی دہلیزوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق یا دیوار حائل نہیں رہی۔\n\nپہلے پہل فلم دیکھنا ایک برا کام تصور کیا جاتا تھا اور اگر کوئی سینما چلا گیا تو منہ چھپائے پھرتا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ وی سی آر کا زمانہ آیا تو اسے بھی بڑے سے بیگ یا چادر کے اندر لپیٹ کر، چھپا کر منزل تک پنہچایا جاتا تھا تاکہ راہ چلتے عام لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ اس کے اندر کیا ہے۔ مگر رفتہ رفتہ زمانہ بدلتا رہا اور آج ہم تاریخ کے جس موڑ پر کھڑے ہیں اسے دنیا ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے نام سے جانتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ انہیں جس دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے اس کے پیچھے بہت زبردست منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری شامل ہے اور فلم انڈسٹری نے نہ صرف معاشروں کے رجحانات اور طرززندگی کو بدلا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو اپنا سرمیہ لگانے کا تقریباَََ رسک فری ماحول بھی فراہم کردیاہے۔ اب جن کے کروڑوں روپے ہیں وہ اس انڈسٹری میں اپنی رقم لگاتے ہیں اور چند ہی ماہ میں اسے کئی گنا بڑھا کر وصول کرتے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ شہرت کا رائتہ گریبی میں وصول کرتے ہیں۔\n\nآگے بڑھنے سے قبل آپ یہ جان کر حیران ہوجائیں گے کہ دنیا میں تین ممالک ایسے ہیں جو اپنی فلم انڈسٹری سے اربوں گھربوں ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔ ان میں چائنا ، امریکہ اور بھارت شامل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ بالی ووڈ کی فلم انڈسٹری کا سال 2016 کا بجٹ 38 بلین ڈالر ہے جو دنیا کے 72 ممالک کے ملکی بجٹ سے بڑا ہے۔ ان ممالک میں فلپائن، ویتنام، سری لنکا، ایتھوپیا، شمالی کوریا، تیونس، یونان، بلغاریہ، مراکش، لبیا، یوگینڈا، نیپال، افغانستان اور مالدیپ کے علاوہ کئی دوسرے ممالک شامل ہیں۔ امریکہ میں کل 5800 سینما ہیں جن میں صرف 2015 کے دوران 12ارب ڈالر کے ٹکٹ فروخت ہوئے۔ ایک سروے کے مطابق چودہ فیصد امریکی سینما جاتے ہیں جب کہ باقی اپنے گھروں ہی پر فلم بینی کرتے ہیں۔\n\nاسی طرح گزشتہ سال چائنا نے 48ارب ڈالر کے سینما ٹکٹ بیچے، برطانیہ نے 19 ارب ڈالر کے، جنوبی امریکہ نے 11.1ارب ڈالر کے۔ ہندوستان نے سنہ 2014 میں 138 ارب روپے کے ٹکٹ بیچےجو 2.2 بلین ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔ 2014 ہی میں ہندوستان نے 1602 فلمیں بنائیں، امریکہ نے 476 فلمیں جبکہ چین نے 745 نئی فلمیں رلیز کیں۔ ہندوستان ہی میں سال 2013 کے دوران سینما میں جا کر فلم دیکھنے والوں کی تعداد ستائیس لاکھ تھی۔ جب کہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد اپنے گھروں ہی پر فلم دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔\nیہ ہیں وہ مختصراََ اعداد و شما جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ شوبزنس کی دنیا اب ایک بہت مضبوط اور وسیع کاروباری دنیا بن چکی ہے جس میں سرمایہ لگانے والے اپنے سرمایہ کو دوگنا اور چوگنا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ خوبصورتی کی دنیا ہے، یہ فیشن کی دنیا ہے، یہ نئے نئے اور جاذب نظر جسموں اور چہروں کی دنیا ہے۔ یہاں مال کی تیاری کے ساتھ ساتھ خریدار کے ذہن کو بھی تبدیل کیا جاتا ہے اور ناخوب کو خوب بنا کر گاہک کو اپنا مال بیچنے کی سعیء مسلسل کی جاتی ہے۔ پھر یہ انڈسٹری اپنے کاروبار میں تنہا نہیں ہے۔ اس نے اپنے ساتھ کچھ دوسرے اداروں اور کاروباروں کو بھی جوڑ رکھا ہے، جن کے بل بوتے پر یہ چل رہی ہے۔ اس انڈسٹری کی سب سے بڑی پراڈکٹ عورت ہے۔ عورت ہی کے گرد اس کے سارے امور بجا لائے جاتے ہیں۔ فیشن اور گلیمر کی دنیا، کپڑوں اور زیورات کے نت نئے ڈزئنز کی دنیا، ثقافت اور کلچر کے نام پر اسے شمع محفل بنانے کا عمل، آزادی نسواں اور حقوقِ نسواں کے نام پر اسے اپنے مرکز اور محور سے دور اور الگ کردینے کی اٹکل، یہ سب وہ کام ہیں جو اسی فلم انڈسٹری کے زور پر سرانجام پاتے ہیں۔\n\nمگر تھوڑی توجہ ایک اور پہلو کی طرف۔ چوں کہ اس انڈسٹری کا سارا کاروبار خوبصورت جسم اور چہرے کے گرد گھومتا ہے لہٰذا جہاں چہرے کی رونق تھوڑی مانند پڑی، جوانی تھوڑی سی ڈھلنا شروع ہوئی، جسم اپنی ساخت اور جامے سے باہر نکلنا شروع ہوا، ایک منٹ کی دیر لگائے بغیر اسے اٹھا کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر وہ فرد جو کبھی ہر محفل میں آنکھ کا تارا تھا، زندگی کی باقی مانندہ سانسیں، بستر مرگ پر تنہائی میں روتے ہوئے گزارتا ہے، اس حال میں کہ نہ کوئی اس کی خبرگیری کرنے والا ہوتا ہے، نہ کوئی اس کے آنسو پونچھنے والا اور نہ ہی حال دل سننے والا۔ اس انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی اخری عمر کی کئی کربناک کہانیاں اور مناظر نگاہوں کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ دور نہ جائیں، روحی بانو ہی کو دیکھ لیں، جو ایک حواس باختہ، مجبور و لاچار لاش کا پیکر بنی ایک چار دیواری میں مقید، زندگی کی باقی مانندہ سانسیں گن رہی ہے۔ جس کا حال پوچھنے والے تو ایک طرف، گھر میں رکھی عام استعمال کی چھوٹی موٹی چیزیں تک چوری کر لی گئی ہیں۔\n\nاس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے والے دراصل گوشت کے بیوپاری ہیں جنہیں ہردم نیا اور تازہ گوشت چاہیے ہوتا ہے۔ جہاں گوشت تھوڑا سا باسی ہوا وہاں اس سے نگاہیں پھیر لیں۔ ان کی خوشقسمی کہ ایک خاتون نے چائے کے کھوکھے سے انہیں ’’تازہ گوشت‘‘ تلاش کرکے دیا ہے اور اب ہر چینل اس گوشت کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔ تازہ گوشت دیکھ کر، پاکستان کیا، ہندوستان تک کی ’’بلیوں‘‘ کے منہ میں پانی آ چکا ہے۔\n\nیہ تو تھا مادہ پرست، شہوت پرست اور حسن پرست دنیا کا احوال۔ اب ذرا ان لوگوں کا حال بھی جان کر دیکھ لیجیے جو انسان کو اس کے ظاہری و جسمانی حسن کے بجائے اس کی نیکی اور شرافت کی وجہ سے اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں۔ جو صرف اللہ کی خاطر کسی کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدرومنزلت عمر کے بڑھنے کے ساتھ خودبخود بڑھتی چلی جاتی ہے اور اگر کوئی بیمار ہو کر بستر پر پڑ جائے تو سینکڑوں لوگ ان کی جوتیاں سیدھی کرنے اور خدمت میں رہنے کو اپنے لیے اعزاز تصور کرتے ہیں۔