توہینِ رسالتﷺ کے قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش - محمد بلال خان

نبی کریمﷺ کی ناموس ایک کلمہ گو مسلمان کے لیے اپنی جان سے بھی عزیز ہوتی ہے، مسلمان چاہے کتنا گناہگار، گیا گزرا اور کمزور ایمان والا ہی کیوں نہ ہو لیکن ناموسِ رسالتﷺ ایمان کی وہ رگِ حیات ہے جس پر دست درازی ایک مسلمان اپنے ایمان کے لیے موت سمجھتاہے. مسلمان ہر چیز برداشت کرسکتا ہے مگر ناموسِ رسالتﷺ کی توہین اس کے ایمان کو ایک لمحے کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہے. تاریخ میں جب بھی کسی گستاخ نے زبان درازی کی، مسلمان دیوانہ وار اس گستاخ کی سرکوبی کے لیے لپکے. تاریخ کا ورق ورق اس بات کا گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے محبوبﷺ کی گستاخی پر کسی طور سمجھوتہ نہیں کیا. پاکستان میں چونکہ نظامِ جمہوریت نافذ ہے، جس کے تحت ریاستی قوانین وضع کیے گئے ہیں، آئین کے مطابق سیدالکونینﷺ کی توہین کرنے والے کےلیے توہینِ رسالت ایکٹ 295 سی کے تحت سزائے موت کا قانون ہے. پاکستان میں مرزائیت کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد توہینِ رسالتﷺ کا قانون ایک بڑی کامیابی تھی.

قانونِ توہینِ رسالتﷺ بنانے کی ایک اہم وجہ عاصمہ جہانگیر کی 17 مئی 1986ء کو اسلام آباد میں ایک سیمینار میں کی جانے والی گفتگو ہے جب ان کی جانب سے انتہائی ہتک آمیز جملوں کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد سیمینار کے شرکاء نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، لیکن مسلسل انکار کے ذریعے وہ اپنے الفاظ پر قائم رہی. سیمینار کے شرکاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا، مگر حکومتی خاموشی کی وجہ سے یہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا. پارلیمنٹ میں اسلام پسند ارکان اسمبلی نے اس معاملے کو اٹھایا اور اسمبلی میں بل منظور کروایا. بل کی منظوری کے بعد بھی 4 سال تک عدالتوں میں سماعت کے بعد 30 اکتوبر 1990ء کو عدالت نے اس قانون کو متفقہ قانون قرار دے دیا، جس کے بعد توہین رسالت ﷺ تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 295 سی کے تحت باقاعدہ قانون بن گیا، جس کی رو سے نبی کریمﷺ کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت، پیشکش، یا ان کے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ، ایسا کوئی بیان دینا جس سے ان کے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو، یا ان کی ناموس کو نقصان دینے والا تاثر ہو، یا ان کے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا ہو، اس کی سزا، سزائے موت ہوگی۔

قانون بننے کے باوجود پاکستان میں توہینِ رسالتﷺ کے ملزموں کو کبھی سزائے موت دی گئی نہ کسی اور سزا پر عملدرآمد ہوا، ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے مغرب اور اس کے آلہ کاروں کے دبائو میں ایسے گستاخوں کو فرار کروایا گیا. اس قانون کے تحت قانونی سزا پانے والی پہلی آسیہ مسیح ہے، جس نے 2009ء میں ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی میں کھیتوں میں کام کے دوران نبی کریمﷺ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کہے، اس پر مقدمہ درج ہوا، مقامی عدالت میں آسیہ مسیح نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گستاخانہ الفاظ کا ارتکاب ہوا. این جی اوز اور اسلام بیزار لبرل لابی نے اسے ڈالر کمانے کا ایک موقع سمجھا اور متحرک ہوگئیں. ان کے شور شرابے کے باوجود آسیہ مسیح کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی اقرار جرم کرنے پر سزائے موت سنائی گئی. سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کیا گیا، دو عدالتوں سے سزائے موت پانے والی آسیہ مسیح کا کیس عاصمہ جہانگیر لڑ رہی ہیں. عیسائیوں کے عالمی پیشوا پوپ دلچسپی لیتے ہوئے مسلسل اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں، اور حکومت پر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ آسیہ مسیح کو رہا کیا جائے، یا اسے امریکہ فرار کروایا جائے. حال ہی میں سپریم کورٹ میں آسیہ کی اپیل کے دوران ہی لبرل طاقتیں متحرک ہوئیں اور آئینِ توہین رسالتﷺ کو مشکوک بنانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئیں. ان کا بہانہ یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ حقیقت میں پاکستان میں قتل کے مقدمے دفعہ 302 کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہو رہا ہے. ان لوگوں کو اصلا اسلام اور اسلامی قوانین سے مسئلہ ہے، ہر اسلام دشمن کام کی وکالت میں پیش پیش رہتی ہیں. سول سوسائٹی کے نام پر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے والے بدنما کردار ایک دفعہ پھر اسلام دشمن سرگرمیوں میں متحرک ہوچکے ہیں، جن کی جانب سے سوشل میڈیا پر قانونِ رسالتﷺ کی صحت کو مشکوک بنانے کی مہم جاری ہے۔

ایک جانب امریکہ حکومت پر پریشر ڈال رہا ہے، دوسری جانب سول سوسائٹی کے نام پر مغرب کے آلہ کار مہم چلا رہے ہیں، یوں اس قانون کے تحت سزا پانے والی پہلی مجرمہ کو سزائے موت سے بچانے کے لیے تمام کوششیں کی جارہی ہیں. اگر عدالتوں اور حکومت نے پریشر میں آ کر ایسے مجرموں کو آزادی دینی شروع کردی تو پھر ہرگستاخ یوں گستاخیاں کرکے فرار کروایا جاتا رہے گا، اور اسلام کے قانون اور آئینِ پاکستان کی کھلی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، اور لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے رہیں گے. حکومت کسی بھی عدالتی مجرم کو بیرونی دباؤ میں آ کر رہا کروانے سے باز رہے، کیونکہ ایسی صورت ہر کلمہ گو اشتعال میں آ سکتا ہے، اور امن و امان کی پامالی کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے. اہلِ اقتدار بھی اللہ کے خوف سے ڈرتے ہوئے اس قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ناکام بنائیں۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.