یاد ہے میرے دل کا وہ زمانہ - عائشہ افق

بچپن ایک خوبصورت یاد کی صورت ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ کبھی اس قدر شدت سے یاد آتا ہے کہ انہی یادوں میں ساری رات گزر جاتی ہے۔ کبھی پڑھتے پڑھتے کتاب پر ہی یادیں کسی فلم کی صورت چلنے لگتی ہیں اور حال یہ ہوتا ہے کہ نظریں کتاب پر، دل و دماغ یاد پر۔\n\nاور جب ہم درزی بنے زندگی کے اس دور کی کہانی ہے جب ہم ساتویں کلاس میں تھے ۔بڑا عجیب سا میکانزم فٹ کیا ہے اللہ نے ہمارے اندر ۔یوں تو ہمارے بہت سارے شوق ہیں لیکن ہمارا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ سال کا ایک حصہ ہم پہ ایک شوق حاوی ہوتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم اس شوق سے تھک جاتے ہیں تواک نئے ولولے ،اک تازہ جوش کے ساتھ اگلے شوق پہ کام شروع کر دیتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔\n\nگرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز سے ہی بازار کے چکر لگا کر زنانہ کپڑے، ربنز، لیسز اور متعلقات خرید لیے جاتے۔ دونوں سلائی مشینیں ٹھیک کروا لی جاتیں۔ پھر دن کا ایک حصہ امی درزی کے روپ میں دکھائی دیتی اور میں پڑھائی اور کھیل سے فارغ ہو کر ان کی معاون کا کردار ادا کرتی۔ میرے کاموں کٹنگ میں مدد کرانا ، قریبی دکان سے سوئیاں،رنگ برنگ نلکیاں لانا،پیکو کروانا اور بٹن وغیرہ بنوا کے لانا شامل تھا ۔امی کپڑے سلائی کرتیں اور میں بڑے انہماک سے یہ منظر دیکھتی رہتی ۔ اسی طرح کپڑے سلائی کرنے کا شوق میرے دل میں بھی انگڑائیاں لینے لگا۔ ہم نے کافی بار امی سے آنکھ بچا کے مشین پہ اپنا شوق پورا کرنے کوشش کی مگر اکثر ناکام رہے ۔اگر کبھی کامیاب ہوئے تو بھی بات مشین خراب ہونے اور ہماری شامت پہ ختم ہوئی۔ یہ تو تھا نقطہ آغاز ۔\n\nجب ہم دوسرے کھیل کھیل کر اکتا گئے تو بلآخر ہم نے چھت کا رخ کیا ۔ ارے گھبرائیے نہیں چھت کا رخ چھت سے کودنے کے لئے تھوڑی کیا تھا ۔چھت والے کمرے میں دادی اماں کی مشین پڑی رہتی تھی جسے ٹھیک کروانے کے بعد وہاں رکھ دیا جاتا تھا اور کم ہی استعمال میں لائی جاتی تھی۔ہم نے بچے کھچے کپڑے ،لیسز ،ربنز اکھٹے کئے ،ایک قینچی پکڑی اور آنکھ بچا کر اوپر لے آئے ۔روزانہ عصر سے مغرب تک کا وقت کھیلنے کی بجائے اب ہم چھت پر ہی گزارتے۔ کالے پیلے ،نیلے،سرخ ،سبز ،رنگوں کی دنیا اس دنیا نے مجھے پوری طرح اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔\n\n

               _______________\n

\n\nاگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ہم گڑیا کے کپڑے سلائی کر کے شوق پورا کرتے ہوں گے تو آپ غلط ہیں۔گڑیا کے کپڑوں تو لفٹ کرانا بھی ہم پسند نہیں کرتے تھے۔اتنےچھوٹے چھوٹے کپڑوں سے ہمیں بلا کی الرجی تھی۔ہم تو سلائی کیا کرتے تھے اک جیتی جاگتی گڑیا کے کپڑے ۔ہمارے سلائی کئے گئے کپڑے پہننے کا شرف بعد میں نمرہ کو حاصل ہوا جو بہ مشکل ایک سال کی تھی۔اس میں بڑا ہاتھ ہماری خالہ کا بھی تھا کہ وہ بڑے خلوص اور چاہت سے ہمارے سلائی کئے گئے کپڑے نمرہ کو ضرور پہناتیں خواہ ایک آدھ بار ہی سہی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اتنے چست تھے کہ پہنتے ہی پھٹ گئے ۔ اب ہم نہ امی کی مشین کے ساتھ چھیڑ خانی کیا کرتے تھے بلکہ الٹا ہم امی کو منع کرتے کہ میرے سوٹ پر کوئی لیس نہ لگائی جائے۔امی حیران تھیں کہ کایا کیسے پلٹ گئی ۔سوٹ بننے کے بعد کپڑا اور لیسز بچنے پہ جو خوشی ہمیں ہوا کرتی تھی وہ لفظوں کی محتاج نہیں۔ہم سب کچھ اکٹھا کرتے اور پہنچ جاتےاپنے "درزی خانے " میں ۔وہاں یہ سارے کپڑے ایک بیگ میں جمع کئے جاتے۔ وہ شاید نہیں یقینا ہماری دلچسپی انہماک اور لگن کی انتہا تھی ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمیں کچھ خاص سلائی کرنا نہیں آتا تھا لیکن عزم جواں تھا۔ کپڑا ہمارے ہاتھوں جن مراحل سے گزر کر سلائی ہوتا ملاحظہ کیجئے۔سب سے پہلے تو ہم کپڑوں کا بیگ چارپائی پر الٹ دیتے ۔اگلا مرحلہ کلر کمبینیشن بنانے اور لیس کے انتخاب کا تھا اور یوں مختلف مراحل سے گزرتا ہوا سوٹ پایہ تکمیل کو پہنچتا تھا۔اس سارے عمل میں ہم خود کو بڑا ہی منجھا ہوا دزری تصور کرتے ۔روایتی گلا ہم بنایا نہیں کرتے تھے ۔بازو بھی ہم کم و بیش ہی بناتے تھے ،پائنچے بنانے کا سوال قبل از پیدائش ہی ختم تھا ۔ البتہ باقی چیزوں میں ہم امی کو کاپی کرنے کی کوشش ضرور کرتے ۔فراک پہ رنگ برنگی لیس لگانا ،جھالر بنانااور وہ کپڑے کی " تتلیاں " بنا کے لگانا پھر انہیں موتیوں کے ذریعے آپس میں جوڑنامیرے دلچسپ ترین کام تھے ۔جب ایک سوٹ مکمل ہو جاتا تو ہم خوشی سے پھولے نہ سماتے،خود کو ہواوں میں اڑتا ،بادلوں میں تیرتا محسوس کرتے اور اک نئے جوش سے اگلے سوٹ پر کام شروع کر دیتے۔چوڑی دار پاجامہ سلائی کرنے کی حسرت حسرت ہی رہی کیونکہ جب بھی ہم نے چوڑی پاجامہ کے لئے کٹنگ شروع کی کپڑے کی بربادی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا ۔\n _________________
\nشاید یہ سلسہ یونہی جاری رہتا لیکن ۔۔۔۔\nجب ہمیں کپڑوں کی قلت سے سامنا ہوا تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصادق ہم نے اپنا ایک نیا ڈوپٹہ کاٹ کر اس شوق میں لگا دیا ۔ادھر امی شام کو ہمارے چھت پہ گھسے رہنے پہ حیران تھیں ۔چونکہ چھت کا استعمال صرف رات کو سونے کے لئے کیا جاتا تھا تو ہمارے درزی خانے میں کم ہی کسی کا آنا جانا ہوتا ۔ایک روز خدا کا کرنا کیا ہوا کہ ہم زور وشور سے کپڑے سلائی کر ہے تھے کہ امی اچانک دروازے سے نمودار ہوئیں ۔کمرہ اس وقت کسی لنڈا بازار کا منظر پیش کر رہا تھا ۔۔ چارپائی پہ رنگ برنگ کپڑے بکھرے پڑے تھے ۔ اور ہم میز پہ چڑھ کر مشین سنبھالے بیٹھے تھے۔کچھ دیر تو امی چپ چاپ دیکھتی رہیں لیکن جب ان کی نظر میرے نئے ڈوپٹے کے کٹے ہوئے ٹکڑوں اور لیسز پہ پڑی تو بس پھر جو ہماری شامت آئی نہ پوچھیے ۔ تاہم وہ سارے کپڑے بعد میں ہم نے اپنے طے شدہ پلان کے مطابق خالہ کے حوالے کر دیے ۔\n۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔