خوش قسمت بہن بھائی - محمد سجاد

محمد سجاد شادی سے پہلے بھائیوں کو اپنی بہن یا بہنوں سے اپنے بہت سارے کام کرانے ہوتے ہیں۔ چوں کہ امی گھر کے ضروری کاموں جیسے کچن ، کپڑے دھونے یا کسی خوشی و غم میں جانا وغیرہ میں مصروف ہوتی ہیں، ایسے میں بہن کا رشتہ ایسا ہوتا ہے جو اپنی بھائیوں کے سارے کام بخوشی بھاگتے بھاگتے کرتی ہیں۔ بھائیوں کی ڈانٹ ڈپٹ بھی خوشی سے برداشت کرتی ہے جبکہ بھائی بھی اپنی بہنوں سے بےحد محبت اور انسیت رکھتے ہیں۔ بھائیوں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بہنوں کو خوش رکھیں، ان کی ضروریات پوری کریں، اور ان کے ناز اٹھائیں۔ بہن اگر ایک ہو تو لاڈ و پیار اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھتے ہیں، کبھی شرارت، کبھی مستی، کبھی غصہ، کبھی ڈانٹ، کبھی لاڈ و پیار، اسی طرح دن رات گزرتے رہتے ہیں۔ اور بچے بچپن کی دہلیز عبور کرکے جوانی میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں بہنیں دوسرے گھر بیاہی جاتی ہیں اور بھائیوں کے لیے دلہنیں لائی جاتی ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے، اسی معاشرہ اور دنیا قائم ہے۔\n\nبھائی کی شادی ہو تو سب سے زیادہ خوشی بہنوں کو ہوتی ہے، کپڑے بناتی تیاریاں کرتی ہیں۔ خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے، ان کے ناز دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف جب بہن کی رخصتی کا وقت آتا ہے تو بھائی کتنا بھی بہادر یا ڈھیٹ اور سخت دل ہو، اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔ یہ آنسو خوشی کے بھی ہوتے ہیں، اور جدائی کے غم کے بھی، خوشی اس بات کی کہ بہن اس پرفتن دورمیں عزت اور حیا کے ساتھ بیاہی جا رہی ہے، اور غم اس بات کا کہ بچپن کی ساتھی، بھائیوں کی لاڈلی، گھر کی جان رخصت ہو رہی ہوتی ہے۔ پشتو میں ایک ٹپہ ہے۔\nخوئندی چی کینی رونڑہ ستائی\nرونڑہ چی کینی خوئندی بل لہ ورکوینہ\n(یعنی جب بہنیں آپس میں بیٹھتی ہیں تو بھائیوں کو یاد کرتی ہیں اور جب بھائی آپس میں بیٹھتے ہیں تو بہنیں دوسروں کو بیاہ کر دیتے ہیں)\n\nبہن کی رخصتی انسان کو دکھی کرتی ہے، اس کیفیت کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو خود اس مرحلے سے گزرے ہو۔ بہنیں اپنی معصومانہ اور پیار بھری باتوں سے گھر میں خوشیاں بکھیرتی ہیں۔ ان کی شوخیوں اور شرارتوں سے گھر کے آنگن مہکتے ہیں۔ بہنیں بھائیوں کے لیے ہر وقت دعائیں کرتیں، اپنے حصے کی قربانی دیتی ہیں، بھائی بھی بہنوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ بہنیں بڑی محبت سے بھائیوں کی بکھری چیزیں ترتیب اور سلیقے سے رکھتی ہیں۔ پسند و ناپسند کا خیال رکھتی ہیں، کہی ان کہی، کسی بات پر بہن روٹھ بھی جائے تو بھائی سے یہ ناراضگی زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتی اور بڑی چاہت سے مناتے ہیں ۔ بھائیوں اور بہنوں کی نوک جھونک اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اس تعلق کا خاص حصہ، اور اس رشتے کی خوبصورتی ہے۔\n\nخوش نصیب ہیں وہ بھائی جو اپنی بہنوں کی ہر جائز خوشی کے امین ہیں۔ جو اپنی بہنوں کا ہر طرح خیال رکھتے ہیں۔ ان کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے انمول تحفہ سمجھتے ہیں اور ہر وقت اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کس طرح بہنوں کو خوشیاں دیں اوران کے لیے آسانی اور سہولت کا باعث بنیں، اور خوش نصیب ہیں وہ بہنیں جواس مادی دور میں ایسے بھائی پائیں جو ان کو بوجھ نہ سمجھیں، ان کے دکھ درد اور خوشی غمی کا خیال رکھیں، اور زندگی کے ہر موڑ پر ساتھ ہوں۔ بہنیں بھائیوں کو دعائیں ہی دے سکتی ہیں جو ان کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ خوش قسمت بھائیوں کو یہ سرمایہ ملتا رہتا ہے، اور بدبخت بھائی اس قیمتی سرمائے سے محروم ہوتے ہیں۔ بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے ایک حدیث شریف ہے، جسے اگر دل سے پڑھا اور اس پر عمل کیا جائے تو ہم جنت کے مستحق بن سکتے ہیں ۔\n\nآپ ﷺ نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، وہ ان سے اچھا سلوک کرے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔(جامع ترمذی جلد نمبر 1حدیث نمبر 549 حدیث مرفوع)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */