تعلیم سے تربیت کا رشتہ‎‎‎‎ - شیخ محمد ہاشم

شیخ محمد ہاشم ٹی وی پروگرام میں میزبان طلعت حسین کو اپنی رائے دیتے ہوئے ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے کہا کہ معاشرتی علوم کے مضمون کو نصاب سے خارج کردینا چاہیے کیونکہ معاشرتی علوم کے مضمون کا ہماری مستقبل کی اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کوبہتر بنانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پروگرام کے میزبان طلعت حسین نے نوجوان کو منطقی دلیل دے کر قائل کیا اور بتایا کہ بچوں کو معاشرتی علوم پڑھانا کیوں ضروری ہے.\n\nیہ بات قابل غور ہے کہ آج کا نوجوان تعلیم کو دراصل نوکری کا ذریعہ سمجھتا ہے، وہ اپنی تعلیم و تربیت کو تاریخی حوالے سے ڈھالنے کو بےسود سمجھ رہا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ تعلیم کو کاروبار کی شکل دے دی گئی ہے اور اس میں سے تربیت کا پہلو نکل گیا ہے. آئین پاکستان نے آرٹیکل 25(A) میں تعلیم کو ہر شہری کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ دستور میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت تعلیم دینے کا بندوبست کرے جیسا کہ تعلیم کے حق کے سلسلے میں قانون کی شقوں میں درج ہے لیکن حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے. اور پرائیویٹ سیکٹر نے اسے کاروبار اور مال بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔\n\nدنیا پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تعلیم کی ترقی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ USAID اساتذہ کی بھرتی، تربیت، وظائف ،اسکولوں کی تعلیم اور HEC سمیت تعلیم کے کئی شعبوں میں فنڈنگ کر رہی ہے، اس کے باوجود پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں بہتری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔\n\nوالدین کے لیے بھی یہ بات قابل غور ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پہ تعلیم کو نوکری کا ذریعہ جیسی محدود سوچ اپنے بچوں میں پروان چڑھاتے ہیں، ڈگریوں کی ریس میں بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ توکہلا رہے ہیں، لیکن بطور انسان چھوٹے ہوتے جارہے ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان میں انسان سازی کا کوئی تربیتی ادارہ قائم نہیں ہے جہاں یہ تربیت دی جا سکے کہ ایک بہترین قوم بننے کے لیے سب سے اہم عنصر، اس قوم کا تاریخی پس منظر ہوتا ہے جس کے ذریعے اُس قوم کی تربیت مؤثر انداز میں ہوسکتی ہے. قوموں میں ارتقا کا عمل تاریخ سے سبق سیکھنے کے بعد ہوتا ہے، اگر کسی قوم کی تعمیر تاریخی و ثقافتی حوالے سے نہ ہو تو وہ قوم قوم نہیں بلکہ ٹولیوں میں بٹا ایک اجتماع کہلاتا ہے. المیہ ہے کہ ہم تاریخ اور ثقافت کے لحاظ سے اپنی قوم کی تربیت نہیں کر رہے بلکہ اپنے اسلاف کی ناقابل فراموش تاریخ کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔\n\nبہترین قوم بنانے کا واحد راستہ یکساں تعلیمی نصاب ونظام ہے۔ طبقاتی تعلیم کا خاتمہ اور تعلیم کا عام کرنا ناگزیر ہوگیا ہے. تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کو گناہ عظیم سمجھنا ہوگا کیونکہ تعلیم ہی وہ ڈھال ہے جو منفی سو چ کی تیز دھار تلوار کے وار کو روک سکتی ہے اور تربیت ہی وہ دروازہ ہے جہاں سے اخلاقی پہلوؤں کا خیال رکھنے کی راہیں کھلتی ہیں.