شہداء کا مقام اور ہمارے لیے پیغام - مفتی سیف اللہ

مفتی سیف اللہ اسلامی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو شاید ہی کوئی دن ہوگا جس میں اسلام کے لیے قربانی پیش نہ کی گئی ہو، چنانچہ اسلامی سال کے پہلے دن یکم محرم الحرام کو مراد رسول، تاجدار عدل و انصاف سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ کی شہادت ہوتی ہے جبکہ دس محرم کو نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے خاندان سمیت جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ شہدائے اسلام کی ہر شخصیت اور تاریخ اسلام کے ہر ورق سے ہمیں شہادت کا درس ملتا ہے۔\n\nشہادت کیا ہے؟\n”شہادت“ اللہ کی راہ میں اپنی جان فدا و قربان کر دینے کا نام ہے۔ اللہ کی طرف سے انعام یافتہ لوگوں میں پہلا طبقہ انبیائے کرام، دوسرا صدیقین جبکہ تیسرا طبقہ شہدائے کرام کا ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی تمنا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیاجاؤں۔\n\nشہید کیوں کہا جاتا ہے؟\nاس لیے کہ شہید ”مشہود لہ بالجنہ“ ہے، اس کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین لوگ بتاۓ گئے، شہید، حرام سے بچنے والا اور ایسا شخص جو اچھی طرح اللہ کی عبادت کرے اور اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرے۔ (ترمذی)\nنیز شہید بوقت شہادت اللہ کی طرف سے مغفرت اور جنت میں اپنے مقام کا مشاہدہ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید کو چھ انعامات دیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بوقت شہادت اسے جنت میں اپنا مقام دکھایا جاتا ہے. (ترمذی )\nیہی وجہ ہے کہ اسے دنیوی زندگی کے خاتمہ کا احساس تک نہیں ہوتا\nشہید کی وجہ تسمیہ ایک اور بھی ہو سکتی ہے کہ وہ توحید و رسالت کی شہادت اپنے عمل سے دیتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلام میں شہادت ایک عظیم عمل ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، سواۓ قرض کے۔ (ترمذی)\n\nحیات جاودانی اور تمنائے شہادت\nجو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ مرگئے ہیں اور ان کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا لیکن درحقیقت انہیں ہمیشہ کی زندگی دے دی گئی۔\nچنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے۔ (سورہ بقرہ۔ ١٥٤)\nایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ جو اللہ کے راستہ میں قتل کیے جائیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں جنہیں رزق دیا جاتا ہے (سورہ آل عمران ١٦٩)\nآپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جہاں چاہیں جاتی ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آجاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں. ان کے رب نے ان سے پوچھا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ تو کہنے لگے کہ ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تاکہ ہم پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں نے لکھ دیا ہے کہ موت کے بعد کوئی بھی دنیا کی طرف نہیں بھیجا جائے گا. (مسلم)\nیعنی شہداء کی روحیں جنت میں ہوتی ہیں جبکہ شہداء کے جسموں کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہوتا ہے، جس کی بناء پر اللہ کی طرف سے شہداء کو خاص زندگی عطاء کی جاتی ہے۔\nفنا فی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے\nجسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا\n\nشہداء کا پیغام\nشہید اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟\nاللہ تعالی نے قرآن کریم میں ایک شہید کا ذکر فرمایا جسے انبیائے کرام کی تائید کرنے کی وجہ سے شہید کیا گیا، پھر اس کے پیغام کو بیان فرمایا جو اس نے اپنی قوم کو دیا، شہید کو کہاگیا کہ جنت میں داخل ہوجا، تو کہنے لگا کہ کاش میری قوم کو علم ہوجائے جو میرے رب نے میری بخشش کی اور مجھے عزت والوں سے کردیا. (سورہ یس آیت ٢٦ـ٢٧)\nنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ سے فرمایا کہ جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کیے گئے تو اللہ جل شانہ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی پھل کھائیں، جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے نیچے لٹکتی قندیلوں میں آرام کریں۔ جب کھانے پینے اور رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش ہمارے بھائیوں کو بھی ان نعمتوں کی خبر مل جائے تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ میں جہاد سے تھک کر نہ بیٹھ جائیں. (مستدرک حاکم)\n\nخلاصہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے ہاں شہداء کا بہت بڑا مقام ہے، انہیں حیات جاودانی حاصل ہے اور وہ ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم بھی ہماری راہ پر چلتے ہوئے اس مقام و اعزاز کے حقدار بن جاؤ۔\nشہداء نے پکارا ہے جنت کے بالاخانوں سے\nہم راہ وفا میں کٹ آئے، تمہیں پیار اپنی جانوں سے