کتابوں سے لطف اٹھائیں - عمار راجپوت

کسی بھی کام کو اک خاص تناسب سے متعین کردہ وقت میں ہی کرنا چاہیے۔ ورنہ جلد ہی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے میرا اور کتاب کا چولی دامن کا ساتھ تھا. پوری پوری کتاب ایک ہی رات میں ختم شد ہوتی تھی، مگر افسوس صد افسوس! کہ یہ رشتہ فلم کے ہیرو اور ہیروئن کی طرح زیادہ دیر نہ چل سکا ، مگر میں نے ابھی کتاب کو ایک ہی طلاق دی ہے رجوع کا حق محفوظ رکھتا ہوں جو باتوفیق الہی کسی بھی وقت استعمال میں لا سکتا ہوں. الحمداللہ!\n\nویسے آج کل تو ایسی صورتحال ہے کہ کتاب دور سے دیکھ کر ہی کسی نامرد کی طرح زندگی کا فطری لطف حاصل کرنے کی تمنا رکھتے ہوئے بھی تھوڑی بہت نظر گردی کے بعد منہ موڑ لیتا ہوں. مشہور فلسفی ابن رشد کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی پڑھنا نہیں چھوڑا. ایک وہ رات جب ان کے والد کا انتقال ہوا اور دوسری وہ رات جب ان کی شادی ہوئی.\n\nاحباب! مطالعہ کی عادت بنائیں، کتابوں سے لطف اٹھائیں، اپنا علم بڑھائیں اور اپنے شعور کی بلند پرواز اڑائیں. اب آپ یہ سوچ رہیں ہوں گے کہ خود پڑھتا نہیں اور چلا ہمیں نصیحت کرنے تو اس میں میری نیت خالص تبلیغی بھائیوں کی سی ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بھائیو! خود تو تم لوگ مکمل نہیں ہو اور گلی گلی اوروں کو تلقین کرتے پھرتے ہو تو ان کا بڑا ہی خوبصورت اور دل موہ لینے والا سادہ سا جواب ہوتا ہے کہ ”بھائی یہ جو ہم در در دعوت دیتے ہیں یہ دراصل ہم اپنا سبق پکاتے ہیں۔“