آج کے دن کی ایک عظیم فتح - محسن حدید

محسن حدیدا آج کے دن 1956ء میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سب سے پہلا ٹیسٹ میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا تھا. فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں صرف 80 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا. پاکستان کی طرف سے صرف دو بالرز خان محمد (4 وکٹیں) اور فضل محمود (6 وکٹیں ) نے ساری آسٹریلین ٹیم کو آؤٹ کر دیا تھا. اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ آسٹریلیا نے 80 رنز بنانے کے لیے 53.1 اوورز کھیلے تھے اور یہ سارے اوورز انھی دو باؤلرز نے پھینکے تھے. آج کل اکثر فاسٹ باؤلرز زیادہ سے زیادہ 8 یا 9 اوورز کا سپیل ہی کر پاتے ہیں، اتنا لمبا سپیل کرنے کا توسوچا بھی نہیں جا سکتا، ان دو کے علاوہ کسی بھی فاسٹ باؤلنگ جوڑی نے اتنا لمبا سپیل کیا ہو، میرے علم میں نہیں ہے. (ریکارڈ نہیں مل سکا)\n\n

پاکستان کے اس وقت کے صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی تاریخی میچ دیکھ رہے ہیں
پاکستان کے اس وقت کے صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی تاریخی میچ دیکھ رہے ہیں
\n\nٹیسٹ میچ کے پہلے دن صرف 95 رنز بنے تھے، اور یہ کسی بھی ٹیسٹ میچ کے پہلے دن (جب مکمل دن کا کھیل ہوا ہو) کا سب سے کم سکور بھی ہے. پاکستان نے اپنی پہلی باری میں 199 رنز بنائے تھے، جس میں لٹل ماسٹر حنیف محمد کا صفر بھی شامل تھا. آسٹریلیا نے جواب میں 187 رنز بنائے تھے. یہ رنز بنانے کے لیے آسٹریلیا نے 110 اوورز کھیلے. یہاں ایک اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ان 110 اوورز میں سے 89 اوورز پھر فضل محمود (48 اوورز) اور خان محمد (41 اوورز) کے حصے میں آئے. دوسری اننگز میں بھی آسٹریلیا کی ساری وکٹیں انھی دو باؤلرز کے حصے میں آئیں، فضل محمود نے 7 آسٹریلوی بلے بازوں کو پویلین بھیجا اور خان محمد کے حصے میں 3 وکٹیں آئیں. یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے کہ جب کسی ٹیسٹ میچ کی تمام 20 وکٹیں صرف دو باولرز نے حاصل کر لی ہوں.\n\nپاکستان نے یہ ٹیسٹ 9 وکٹوں کے بڑے مارجن سے جیت لیا تھا. یاد رہے آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ہرانے کے لیے اکثر ٹیموں نے بہت لمبے عرصے تک انتظار کیا ہے. پاکستان کی یہ فتح ایک عظیم ترین فتح گنی جاتی ہے۔ اس آسٹریلین ٹیم میں رچی بینو، نیل ہاروے اور کیتھ ملر جیسے عظیم کھلاڑی شامل تھے. خاص کر نیل ہاروے اپنے زمانے کے عظیم ترین بلے بازوں میں سے ایک شمار کیے جاتے ہیں.\n\namtiaz-ahmd اس یادگار فتح میں بطور وکٹ کیپر حصہ ڈالنے والے امتیاز احمد بہت سالوں بعد اس میچ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کھیل کے چوتھے دن 20 ہزار کے قریب تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا. پاکستان کو چوتھی اننگز میں میچ جیتنے کے لیے صرف 69 رنز کا ٹارگٹ ملا تھا مگر کھیل بہت سلو تھا، تماشائی بے تاب تھے اور آج ہی فتح چاہتے تھے، ان کے نعروں سے تنگ آ کر ایک بار تو علیم الدین جو اس وقت کریز پر کھڑے تھے، انہون نے اپنا بیٹ تماشائیوں کی طرف لہرا کر کہا کہ آؤ تم لوگ بیٹنگ کرلو. اس دن فتح کے لیے 6 رنز باقی تھے، جب کھیل ختم ہوگیا، اگلے دن ریسٹ ڈے تھا کیونکہ لیاقت علی خان کی شہادت کی یاد میں پبلک ہالی ڈے تھا، اس سے اگلے دن پاکستان نے 6 رنز بنا کر میچ جیت لیا. تماشائی بھی سچے تھے کیونکہ پاکستان نے 69 بنانے کے لیے 48 اوورز بیٹنگ کی تھی اور تماشائیوں کو ایک عظیم فتح کے لیے تقریبا 36 گھنٹے انتظار کرنا پڑا.