شادی نہ کرنے پر ٹیکس کا نفاذ - زیڈ اے قریشی

زیڈ اے قریشی آج کل معاشرتی برائیاں اپنے عروج پر ہیں جس کی بنیادی وجہ دین اسلام سے دوری یا دنیاوی خواہشات کا انبار ہے۔ ہمارے معاشرے میں ”کورٹ میرج“ کرنا آسان فعل بنتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے، وہ کیسے؟ اسلام میں حکم ہے جب بچہ جوان ہو جائے تو والدین کی ذمہ داری ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اُس کا ”فرض“ ادا کر دیں لیکن ہمارے معاشرتی نظام نے ”شادی“ کو مشکل اور ”زنا“ کو آسان ترین بنا دیا ہے۔\n\nجب انسان بالغ ہوتا ہے تو جنسِ مخالف کی کشش اُس پر طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے، اگر اس کی یہ فطری ضرورت جائز طریقے سے پوری نہ کی جائے تو وہ بچہ ”فرسٹریشن“ کا شکار ہو جائےگا۔ ”فرسٹریشن“ ایک ایسی بیماری ہے جو بہت سے مختلف عوامل سے انسانوں کو لاحق ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ رویوں میں عدم توازن ہوتا ہے، جن میں سے ایک وجہ شادی کا بروقت نہ ہونا بھی ہے۔ جب کسی انسان کی جائز ضرورت پوری نہ ہو تو وہ ”فرسٹریٹڈ“ ہو جاتا ہے، اُس میں ذہنی تناؤ بڑھنے لگتا ہے اور اُس کی رغبت گناہوں یا کسی بھی ایسے فعل میں بڑھتی ہے جس سے وہ وقتی سکون حاصل کرسکے۔ اس کے نتیجہ میں وہ کسی انتہاہ پسند کے ہاتھوں ”ٹریپ“ بھی ہو سکتا ہے، مثلا:ً سٹریٹ کرائم، دہشت گردی، جنسی تعلقات/(کورٹ میرج ) وغیرہ وغیرہ میں ملوث ہو جانا۔\n\nدراصل ہمارا معاشرہ اور حکومت وقت موجودہ دور میں مغرب سے بہت زیادہ متاثر ہیں جس کی وجہ سے ”سول سوسائٹیز“ وغیرہ کو بھی بہت جلدی ہی اپنے حقوق یاد آجاتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی کسی بھی سوسائٹی کو کبھی بھی اپنی مذہبی تعلیمات یاد نہیں آئیں۔ کیونکہ اسلام کے وہ ٹھیکدار نہیں!\n\nخیر بات ہو رہی تھی معاشرتی برائیوں کی تو ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی کسی قسم کوئی کسر ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جس کی وجہ سے کوئی بھی شریف انسان اپنے بچوں کے ساتھ آج کل کے انٹرٹینمینٹ پروگرام نہیں دیکھ سکتا۔ افسوس کہ نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کو قانون سازی کے لیے تجاویز دینا یاد آتا ہے اور نہ ہی ہمارے ایوانوان میں بیٹھے ہوئے کارندوں کو ان معاشرتی برائیوں اور بے راہ رویوں کے سدباب کے لیے قانون سازی یاد آئی۔\n\nایک مثال بڑی قابل غور ہے کہ!\nچین ایک ترقی یافتہ ملک ہے ہمیں اس سے ہی سبق سیکھنا چاہیے کہ جب ان کی آبادی بڑھنے لگی تو انھوں نے اس کے سدباب کے لیے فوراً قانون سازی کی اور دو سے زیادہ بچوں پر پابندی لگا دی اور ہاں اگر کوئی صاحب استطاعت ہے اور وہ دو سے ذیادہ بچے پیدا کرنا چاہے تو وہ بچے پیدا کرے لیکن حکومت کو ٹیکس ادا کرے جس سے حکومت کا ریونیو بھی بڑھے گا This is called give & Take policy۔\n\nاگر یہی فارمولہ پاکستان میں نافذ کیا جائے کہ ہر شخص اپنے بچوں کی شادی Age of Magority یعنی 18 سال کی عمر تک کرے گا اور اگر کوئی صاحب استطاعت ہے اور شادی نہیں کرنا چاہتا تو بےشک شادی نہ کرے لیکن حکومت کو ٹیکس ادا کرے، اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے،\n1. معاشرتی برائیوں میں کمی\n2. کورٹ میرج کا خاتمہ\n3. خاندانی نظام مضبوط\n4. بدکاریوں میں کمی\n5. شادی کا نظام آسان\n6. حکومت کی آمدنی\n7. فرسٹریشن کا خاتمہ\n8. نوجوانوں کی ذہنی پختگی\n\nان سب فوائد سے بڑھ کر دین اسلام کا نفاذ ہوگا اور ایک خوبصورت اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا۔\nعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی!\nکیونکہ، دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔