کرکٹ سیزن پر ایک نظر - عمرفاروق

عمر فاروق کرکٹ کا سیزن اپنے عروج پر ہے اور ٹیمیں مختلف فارمیٹس میں ای کدوسرے سے نبرد آزما ہیں. ایسے میں کئی اپ سیٹ اور حیران کن نتائج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں.\n\nSri Lanka Australia Cricket ٹیسٹ کرکٹ کی بات کریں تو سری لنکا نے آسٹریلیا جیسے حریف کو اپنے ملک میں آسانی سے وائٹ واش کر دیا. ویسٹ انڈیز بھی انڈیا کے خلاف ایک بالکل ہارا ہوا میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوا. اسی طرح پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ہی کرکٹ پنڈتوں کو حیران کرتے ہوئے سیریز ڈرا کی. اسی طرح نیوزی لینڈ انڈیا اور ساؤتھ افریقہ کے خلاف بالکل بھی فائٹ نہ کرتے ہوئے سیریز گنوا بیٹھا.\n\naustralia-vs-south-africa ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں نتائج اس سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں. آسٹریلیا نے بآسانی سری لنکا کو ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز میں شکست دی اور اس سے پہلے ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی ٹرائی اینگولر سیریز بھی اپنے نام کی. لیکن ساؤتھ افریقہ کے خلاف سیریز میں ناقص سلیکشن اور بری باؤلنگ پرفارمنسز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا. اسی طرح نیوزی لینڈ بھی پاکستان کی طرح مختلف فارمیٹس میں بالکل مختلف ریکارڈ رکھتی ہے. ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں تو وہ ٹاپ پوزیشن پہ نظر آتی ہے لیکن ٹیسٹ میچز میں وہ ساتویں نمبر پر ہے.5922763201 نیوزی لینڈ کے کرکٹ سٹرکچر اور پروفیشنل ازم کو دیکھتے ہوئے یہ ایک حیران کن فرق ہے. ساؤتھ افریقہ کی حالیہ کچھ عرصے کی پرفارمنسز مختلف فارمیٹس میں ملی جلی رہیں، ویسٹ انڈیز کی ٹرائی اینگولر سیریز میں وہ فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کر سکے تھے. اسی طرح اب وہ ٹیسٹ کرکٹ کی رینکنگ کے حساب سے پانچویں اور ون ڈے کرکٹ میں دوسرے نمبر پر ہیں. انڈیا کی پرفارمنس تینوں فارمیٹس میں اچھی ہے اس لیے وہ رینکنگ میں ٹاپ فور میں ہی ہے. سری لنکا بھی اب ایک اوسط درجے کی ٹیم بن چکی ہے اور تینوں فارمیٹس میں کسی میں بھی اس کی کارکردگی قابل ستائش نہیں رہی. بنگلہ دیش بھی اپنے ملک میں کھیلی گئی ون ڈے کرکٹ میں ہی اچھی پرفارمنس دکھاتا ہے. انگلینڈ کی ٹیم نے ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ امپروو کیا ہے اور پہلی بار انہوں نے وائٹ بال کرکٹ کو بھی اہمیت دی ہے اور پلیئرز کی سلیکشن پر خاص طور پہ دھیان دیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو رہے ہیں.\n\nمختلف فارمیٹس میں ٹیمز کی پرفارمنسز میں یہ فرق کیوں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اکثر شائقین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے. آئیے اس کی کچھ ممکنہ وجوہات تلاش کرتے ہیں.\n\npakistan-test-cricket-uae-2015_3742149 پچھلے کافی عرصے سے ٹیموں کی پرفارمنسز پر جس چیز نے سب سے زیادہ اثر کیا، وہ ان کا ہوم اور اوے کی بنیاد پر کھیلنا ہے. یو اے ای کو بھی اگر پاکستان کا ہوم وینیو سمجھا جائے تو تقریبا سب ٹیمز ہی صرف اپنے گرائونڈز میں اچھا پرفارم کر رہی ہیں. اس سلسلے میں بنگلہ دیش کی اپنے ملک میں ون ڈے پرفارمنسز اور آسٹریلیا کی ایشیا میں ٹیسٹ پرفارمنسز کو دیکھا جائے تو یہ فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے.\n\nپلیئرز اور ٹیموں کا مختلف فارمیٹس میں فوکس ان کی پرفارمنس پر اثر انداز ہوتا ہے. کچھ عرصہ پہلے تک انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیسٹ پرفارمنسز میں ایشیز سیریز حرف آخر کا درجہ رکھتی تھی. لیکن انگلینڈ نے اپنا فوکس جب سے وائٹ بال کرکٹ پر کیا ہے ان کی پرفارمنسز میں آنے والی تبدیلی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ فارمیٹ کی اہمیت کا ان کی پرفارمنسز پر اثر ہوتا ہے.\n\npsl-players-pkg-03-092-e1443437921838 ٹی ٹونٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مختلف لیگز میں پلیئرز کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اس سے حاصل ہونا والا کئی گنا زیادہ معاوضہ پلیئرز کو چھوٹے فارمیٹس پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کر رہا ہے جس سے ٹیسٹ کرکٹ میں پلیئرز کی کوالٹی خاص طور پر متاثر ہوتی ہے جس کا پھر نتائج پر بھی اثر پڑتا ہے. ویسٹ انڈیز کے پلیئرز کو اسی لیے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی خاص کشش محسوس نہیں ہوتی.\n\nپلیئرز کی سلیکشن میں تسلسل، ان کو کانفیڈینس دینا اور کپتان کو مکمل اختیار دے کہ ٹیم کا وننگ کامبینیشن بنانا اور بورڈ کی پا لیسیز کو ٹیم کے فائدے کے لیے تشکیل دینا ہی بہترین ٹیم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. آسٹریلیا، انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ نے اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ پر کئی سال تک اپنی اجارہ داری قائم کیے رکھی. لیکن جو ٹیمیں بھی مسائل کا شکار نظر آتی ہیں، ان میں یہ سب پرابلمز خاص طور پہ محسوس کی جاسکتی ہیں.\n\nبیک اپ پلیئرز تیار کیے بغیر کبھی بھی ٹیم زیادہ عرصے تک کامیابیاں نہیں سمیٹ سکتیں. کیونکہ کرکٹ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ اپنی فٹنس کو اتنا عرصہ برقرار رکھنا پلیئرز کے لیے بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے. اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیمز نے روٹیشن پالیسی بھی اپنائی لیکن پھر ٹیم کامبینیشن بنانے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں. نیوزی لینڈ نے اپنے کوچ مائیک ہیسن کے دور میں خاص طور پر ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کےلیے اپنی ٹیم کےلیے ایک وننگ کامبینیشن سوچا اور سلیکشن کو اس سے مشروط کر دیا. اور like for like replacement کا تصور دیا جسے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے انڈیا میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ ٹم سائوتھی اور ٹرینٹ بولٹ کے بغیر کھیلا کیونکہ ان کے کامبینیشن میں وہ فٹ نہیں بیٹھ رہے تھے، جس میں انہیں سیمی فائنل تک رسائی ملی. اور انہوں نے انڈیا تک کو ان کے ملک میں شکست دی.\n\nڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کا فرق ٹیموں کی پرفارمنس میں بہت حد تک فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے. جو ٹیمز اس فرق کو کم سے کم رکھ پاتی ہیں وہ کامیاب رہتی ہیں. اسی لیے آسٹریلیا، انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ کا ڈومیسٹک سسٹم سب سے اچھا مانا جاتا ہے کیونکہ ان کا معیار باقی ممالک سے بہت بہتر ہے.\n\nڈومیسٹک ٹیمز سے انٹرنیشنل ٹیم کے لیے سلیکشن اور پھر پلیئرز کو ان کا صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے ڈیبیو کروانا اور مکمل اعتماد دیتے ہوئے ان کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا پورا موقع فراہم کرنا پلیئرز کی پرفارمنس اور ڈویلپمنٹ کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو ان کی پرفارمنس ٹیم کی پرفارمنس پہ بھی اثر انداز ہوتی ہے.\n\n1164421-image-1471413353-885-640x480پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کے مسائل کی بات کی جائے تو مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں . ناصر جمشید، عمر اکمل، احمد شہزاد اور جنید خان یہ وہ پلیئرز تھے جو ایک وقت تک ٹیم کا اثاثہ تھے. لیکن ٹیم مینجمنٹ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کیریئر کے انتہائی اہم موڑ پہ یہ پلیئرز نظر انداز کر دیے گئے. ان کے متبادل پلیئرز کو بھی ٹیم میں شامل کیا جاتا رہا اور کئی بار تو بغیر کھلائے ہی ٹیم سے باہر کیا جاتا رہا. یا پھر کسی ایک فارمیٹ کی پرفارمنس پہ ان کو دوسرے فارمیٹ میں کھلانے یا نہ کھلانے کے فیصلے کیے گئے. ایسے میں ٹیم کمبینیشن ہی نہیں بن پایا. تو وننگ کامبینیشن خواب ہی بن گیا. پھر اظہر علی کو کپتانی سونپی گئی تو اس کے ساتھ ہی ٹیم میں ان کی جگہ پہ سوالیہ نشان لگا دیے گئے. جس سے ان کا دھیان بہت بری طرح بٹ گیا. اس کے علاوہ ٹیم میں کھیلنے والے پلیئرز کو ان کے اصل نمبرز پہ بیٹنگ پہ نہ بھیجنا بھی اہم مسئلہ رہا. ایک اچھے فاسٹ بالنگ آل رائونڈر اور آخری اوورز میں ہارڈ ہٹنگ بیٹسمین کی کمی کو ہمیشہ محسوس کیا گیا. لیکن ان کی طرف ابھی بھی ہماری سلیکشن کمیٹیز کو دھیان ہی نہیں جارہا. ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ پرفارمنسز سے شائقین کی کچھ امید تو بندھی ہے کہ مسائل کم ہوئے ہیں. اب بہتری کے اس سلسلے کو مزید جاری رکھنے کی ضرورت ہے.