سیرت حسین رضی اللہ عنہ اور صحابہ کی محبت - نعیم الدین جمالی

آپ کا نام حسین، کنیت ابو عبداللہ، لقب سید شباب اہل الجنہ اور ریحانہ النبی تھا، شیر خدا علی المرتضی آپ کے والد اقدس اور سیدہ بتول جگر گوشہ رسول فاطمۃ الزہراء آپ کی والدہ تھیں، آپ کی ذات گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی.

بھی آپ شکم مادر میں ہی تھے کہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطھر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے، انہوں نے وہ خواب آپ علیہ السلام سے ذکر کیا، اور تعبیر پوچھی، آپ نے فرمایا، نہایت مبارک خواب ہے، فاطمہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، تم اسے گود لوگی، کچھ دنوں بعد اس خواب کی تعبیر ملی، یوں ریاض نبوی میں وہ پھول کھلا کہ جس کی مہک، حق وصداقت، جرات و بسالت، عزم و استقلال، ایمان و عمل اور ایثار و قربانی کی وادیوں کو ہمیشہ بساتی رہے گی یوں شعبان چار ہجری میں علی رضی اللہ عنہ کے کاشانہ میں حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی.

ولادت با سعادت کی خبر سن کر آپ علیہ السلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حسین نام تجویز فرمایا، کان مبارک میں آذان دی، یوں پہلی مرتبہ خود زبان وحی و الہام کے ذریعے آپ کے کانوں میں توحید صور پھونکا گیا، آپ کے بچپنے کی تربیت خود مربی اعظم، آقائے نامدار نے کی، آپ علیہ السلام حضرت حسین سے بڑی محبت فرماتے تھے، ہر روز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری کرتے، نانا نواسہ ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے، آپ نماز پڑھتے تو جنت کے یہ پھول آپ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے، آپ ان کی وجہ سے سجدہ طویل فرمادیتے، کبھی ریش مبارک سے کھیلتے، آپ شفقت سے اپنے کندھوں پر سوار فرماتے، نیز پیار و محبت کی وجہ سے آپ ان کی طفلانہ شوخیوں کو برداشت کرتے، تادیبا بھی کبھی جھڑکا تک نہیں. آپﷺ نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے گا، آپﷺ نے فرمایا حسین جنت کا پھول، اور جنت کے جوانوں کا سردار ہے، حضرت فاطمۃ الزہراء فرماتی ہیں، ایک مربتہ میں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ فرما رہے تھے ”ھیّ حسین “ جلدی آؤ، میں نے دریافت کیا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں، آپﷺ نے جواب دیا کہ جبرئیل بھی فرما رہے ہیں ھیّ حسین، آپ ﷺ نے فرمایا، اے خدا !حسن و حسین میرے بیٹےہیں، میں ان سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت کیجیے، لیکن آپ ﷺ کی محبت کا یہ سایہ دیر تک قائم نہ رہ سکا،حسین رض کی عمر چھ سال تھی جب آپ واصل بحق ہوئے.

حضور نبی کریم ﷺ کی بے پناہ شفقت و محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی حضرت حسین سے بڑا پیار کرتے تھے، ہمیشہ بچوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے، نبیرہ کی حیثیت سے صدیق بے پناہ احترام کرتے تھے حالانکہ آپ اس وقت بہت کم عمر تھے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نواسہ رسول ﷺ سے بڑی شفقت فرماتےتھے، قرابت رسول ﷺ کا بڑا لحاظ کرتے، جب آپ نے بدری صحابہ کے بیٹوں کے لیے دو ہزار وظیفہ مقرر کیا تو حسیں رضی اللہ عنہ کا محض قرابت رسول ﷺ کی وجہ سے پانچ ہزار وظیفہ مقرر کیا، آپ کسی چیز میں بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نظر انداز نہ فرماتے. ایک مرتبہ یمن سے بہت سی چادریں آئیں، آپ نے تمام صحابہ میں وہ چادریں تقسیم فرمائیں، صحابہ وہ چادریں پہن کر آپ کا شکریہ ادا کر رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر حسن و حسین رضہ پر پڑی، آپ نے صحابہ سے کہا کہ تم پر یہ یمنی چادریں دیکھ کر مجھےخوشی نہیں ہو رہی، انہوں نے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین کیوں؟ آپ نے فرمایا اس لیے کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہم کے جسم ان چادروں سے خالی ہیں. آپ نے فورا حاکم یمن کو لکھ بھیجا کہ جلد دو عمدہ یمنی چادریں بھیج دیں، جب چادریں وصول ہوئیں تو آپ نےحسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور چادریں پہنا کر صحابہ سے کہا کہ اب میرا دل خوش ہوا ہے. ایک روایت میں ہے کہ پہلی والی چادریں عمدہ نہیں تھیں، اس لیے بعد میں وہ چادریں منگا کر دیں. آپ حضرت حسین سے فرماتے تھے کہ حسین کبھی ہم سے بھی ملنے آیا کرو. کسی جنازہ میں تھے کہ قدموں کو مٹی لگ گئی تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے اس مٹی کو صاف کیا. عزیر بن حریث کہتے ہیں میں اور عمروبن عاص کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے کہ اچانک عمرو کی نظر حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر پڑی، آپ نے فرمایا یہ آسمان اور زمین والوں کا محبوب ہے.

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے بیٹے یزید نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی، اور لوگوں سے بیعت لینا شروع کی، اکثر صحابہ نے بیعت ہونے سے انکار کردیا، حسین رضی اللہ عنہ بھی انھی میں سے تھے، اسی دوران کوفہ کے لوگوں نے آپ کو خطوط بھیجنے شروع کیے اور مطالبہ کیا کہ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کی بیعت کو تیار ہیں، جب آپ نے کوفہ کے لیے رخت سفر باندھا، اکابرین صحابہ بڑے پریشان ہوئے، آپ کے پاس آئے، اپنی محبت کا اظہار کیا اور فرمایا آپ کوفہ ہرگز نہ جائیں، کوفہ میں آپ کے والد محترم کو شہید کیا گیا، بھائی کو بےیار و مددگار چھوڑا گیا، وہ زخمی ہوئے، جان جاتے جاتے بچی، خدارا کوفہ کا قصد ترک کیجیے. یہ دردمندانہ مشورہ دینے والے صحابہ عبداللہ بن مطیع، عمرو بن عبد الرحمان، عبد اللہ بن عباس، عبداللہ ابن زبیر، عبداللہ ابن عمر، ابوبکر بن حارث تھے، آ پنے فرمایا مجھے نانا نے خواب میں جس چیز کا حکم دیا ہے وہ میں کر گزروں گا، آپ اہل بیت کے ساتھ کوفہ تشریف لے گئے، صحابہ کو جس امر کی تشویش تھی وہ حرف بحرف درست ثابت ہوئی، جس کی وجہ سے تاریخ کا وہ دلدوز اور خونچکاں واقعہ پیش آیا، عاشورہ کا دن ایک قیامت ڈھاگیا، یزید کا لاؤ لشکر ان مٹھی بھر جانثاران پر ٹوٹ پڑا، فدایان اہل بیت نے جرات و بہادری کی وہ مثالیں قائم کیں جو تاریخ کا ایک عظیم باب ہیں، لیکن ہزاروں کے لشکر کے سامنے یہ چند پروانے کیا کر سکتے تھے، ایک ایک کرکے جام شہادت نوش فرماگئے، یوں تاریخ نواسہ رسول، ریحانہ النبی، اور اہل بیت کی شہادت سے خون آلود ہوئی، لشکر حسینی نے اسوہ نبوی ﷺ کو زندہ کر کے امت مسلمہ کو حق و صداقت ،عزم، واستقلال کا عظیم درس دیا، ظالم کےخلاف کلمہ حق کہنےکی عملی مشق کروائی، ع :
صدق خلیل بھی ہے عشق
صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں
بدر وحنین بھی ہے عشق

حقیقت ابدی ہے قیام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */