شاہ تراب الحق قادری ؒ کی بعد مرگ پذیرائی - محمد رضاء المصطفی

مردوں کو کندھا دینا کار ثواب ہے تو کسی زندہ کو سہارا دینا اس سے بھی بڑا کار خیر ہے مگر بدقسمتی سے ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں زندگی میں ستایا اور بعد مرگ ان کا عرس منایا جاتا ہے\0. ساری اچھائیاں و خوبیاں بھلائیاں اور نیک نامیاں تو مرنے کے بعد یاد آتی ہیں. جیتے جی تو برائیاں و خامیاں و کوتاہیاں اور جہاں بھر کی خرابیاں اس فرد میں ہوتی ہیں، صرف موت آجانے سے بندے کےاندر انقلابی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں کہ کم از کم ولی اللہ جتنا پروٹوکول لفاظی کی حد تک اسے مل ہی جاتا ہے\0. مولانا الشاہ امام احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے پر ان کے ایک ناقد نے میڈیا کے سامنے نورانی صاحب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے، فضیلتوں کے موٹر وے بنا دیے حالانکہ جیتے جی نورانی میاں کی خوب بدگوئیاں کر تے رہے۔ ایک دل جلے نے یہ تعریفیں سنیں تو جل کر بولا یہ الفاظ سننے کے لیے نورانی میاں کو موت کا انتظار کرنا پڑا۔\nعمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن \nیہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ\n\nجب بندہ زندہ ہوتا ہے تو ہمیں اس کی خوشبو سے بھی بدبو آتی ہے اور مر جائے تو اس کے پسینے سے بھی خوشبو آنے لگ جاتی ہے، زندہ رہے تو شاید روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ ملے اور مرے تو اس کے قل و دسو یں پر انواع و اقسام کے کھا نے بنیں۔\nکٹیا میں اس فقیر کی ایک دیا بھی نہ تھا \nمرقد پہ جس کی ہزاروں چراغ جلتے ہیں\n\nیہ تحریر لکھنے کا محرک علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر سوشل میڈیا پر ان کی بعد از مرگ پذیرائی بنی، حیرت ہوئی کہ یہ فضائل جیتے جی تو عام نہ ہوئے اور اب دھومیں مچی ہیں۔ شاہ صاحب سے محبت و عقیدت تو بہت سارے احباب جتلا رہے ہیں، جیتے جی جب وہ فقر و صبر کا مجسمہ ہسپتال میں تھا، ان کے علاج معالجے میں کتنے حضرات کو تعاون کی سعادت ملی؟ کتنے عیادت کے لیے گئے اور دامے درمے قدمے سخنے خدمت کی۔ اب شاہ صاحب کا مزار بنےگا، چادریں چڑھائی جائیں گی، لنگر جاری ہوگا، مگر شاید یہ اتنا اہتمام ان کے جیتے جی زندگی میں نہ ہوسکا۔\n\nافسوس کہ ہم من حیث القوم علم دشمن قوم ہیں، اپنے اساتذہ و علماء اور اسکالرز کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے دیکھتے ہیں اور مرنے کے بعد عالی شان عرس اور مبالغے کی حد تک ان کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں۔ کہنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت نہیں ہوئی، مشہور بزرگ تھے، شاید مریدوں و اولاد نے خدمت میں کمی نہ چھوڑی ہو، مگر میں بےشمار ایسے علماء و مدرسین کو جانتا ہوں، کئی حضرات کے مقام و مرتبے کے پیش نظر ان کا نام نہیں لکھ رہا کہ جوگمنام تھے، انتہائی کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے گئے، بیمار ہوئے تو علاج معالجے کے لیے پیسے نہیں تھے، دوائی لینے کے لیے دودھ نہیں ملا مگر جس درگاہ پر تدریس کی، وہاں کے پیروں کے کتے بھی خالص دودھ پیتے رہےاور مرنے کے بعد عالی جناب القابات سے نوازے گئے۔ بندہ حیران ہوتا ہے کہ یا رب ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی۔\n\nعقیدت کا مارا مسلمان عمرے کی ٹکٹیں بانٹنے میں اور مزارات پر بیش بہا چادریں چڑھانے میں ہی دارین کی سعادت سمجھتا رہا، کسی سفید پوش اور مستحق عالم کی چپکے سے خدمت شاید کار ثواب ہے ہی نہیں یا اس کی کسی نے سوچ دی ہی نہیں۔ چلیے اس کو عالم نہ سمجھیے، انسان ہی سمجھ لیجیے، انسانیت کی خدمت بھی سعادت دارین ہے۔ میرا علمی حلقوں سے سوال ہے کہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ اس بے حسی کی دیوار کو کون گرائے گا؟ کب وہ وقت آئے گا کہ ہم اپنے قابل قدر حضرات کی ان کی زندگی میں عزت و تکریم کرنا سیکھیں گے جو کہ مہذب معاشرے کی ریت ہوتی ہے۔