ہود بھائی صاحب کے بارے میں لوگ کیا نہیں جانتے - مولوی روکڑا

ہود بھائی صاحب کے بارے میں لوگ کیا نہیں جانتے:
فزکس کے ماہرین کے ہودبھائی کی قابلیت پر زیادہ سے زیادہ اچھے کمنٹس یہی ہوتے ہیں، ذہین انسان نے اپنے آپ کو ضائع کر دیا.

ہود بھائی تعلیم کے فروغ کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں، اس کا اندازہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ان کی فزکس ڈیپارٹمنٹ کی چیئرمینی کے دور سے لگا لیں، جب آڈیٹوریم میں سیمینار کے وقت ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں لگائی جاتی تھیں، ان کے بقول اسی سے طلبہ کا دماغ کھلے گا.

آج کل پاکستانی یونیورسٹیز میں پی ایچ ڈی پروگرام ختم کروانے کے لیے زور لگا رہے ہیں

پاکستان توڑنے کی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں، مثلا بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کے اکبر بگٹی کے دور سے حامی ہیں، اکبر بگٹی کے چند آخری انٹرویوز میں سے ایک ان کی بیٹی اشا امیر علی نے کیا، دیگر قوم پرست تحریکوں کے بھی وہ حامی ہیں، اور نہ صرف ان علیحدگی کی تحریکوں کے بارے میں بولتے ہیں بلکہ ان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی ڈسکشن فورم کے نام پر برین واشنگ بھی کرتے ہیں، میں خود ایسے ڈسکشن فورمز میں شریک ہوئی ہوں.

سائنس کے فروغ کے دعوے کے ساتھ مشعل نامی این جی او چلاتے ہیں جو الحادی ادب کا اردو زبان میں سائنس کے فروغ کے نام پر ترجمہ کرتی ہے.

بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ قرآنی آیات یا انڈیا کے خلاف مواد نصاب سے نکالنے کی رپورٹس ہود بھائی کی NGO نے بنائی تھیں.

اکبر بگٹی کے قتل کے بعد ہود بھائی بھی تشدد کا نشانہ بنے اور کئی مہینے بینائی سے محروم رہے جو بعد میں امریکا میں علاج کے بعد واپس آئی.

ان کی بیٹی اشا ڈان نیوز انگلش پر میزبان رہی ہیں جبکہ دوسری بیٹی الیہ امیر علی NSF پنجاب کی صدر رہی ہیں.

نئی سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کومنظم کر نے کے پیچھے پرویز ہود بھائی، اس کی بیٹی، اور ان کی یونیورسٹی کے رفقا خورشید حسنین، فرزانہ باری اور عبدالحمید نیّر شامل ہیں - بنیادی طور پر یہ پارٹی NSF کی ایکسٹینشن ہے جو الیہ امیر علی نے منظم کی تھی.

کچھ عرصہ پہلے تک ہود بھائی فار پریذیڈنٹ کی تحریک چلتی رہی ہے جو ہودبھائی کی NGO نے چلائی تھی - NGO میں کام کرنے والوں کے بقول اگر یہ عوامی طور پر کچھ مقبول ہو جائیں تو عبوری حکومت میں منسٹر کی سیٹ مل جائے گی

پرویز ہود بھائی سیاسی طور پر MQM اور PPP کے حامی رہے ہیں.

اسلام آباد میں قائم Khaldunia High School ان کی سابقہ بیوی ہاجرہ احمد کا ہے، اس اسکول کے لیے ہودبھائی نے اسلام آباد میں CDA سے انتہائی سستی زمین کوڑیوں کے بھاؤ قسطوں پر حاصل کی.

قائداعظم یونیورسٹی کی رہائشی سکیم کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی، اس تحریک کو وہ اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی زندگی کی واحد کامیابی بتاتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ ہودبھائی اپنی قسطیں بھی جمع کروا رہے تھے، قسطیں دینے کے بعد یہ سکیم G 14 منتقل ہوگئی، آج اس سکیم کی زمین پر پرویز ہود بھائی کا ایک کنال کا گھر ہے.

LUMS یونیورسٹی سے ہود بھائی کو نکال دیا گیا تھا کیوں کہ وہ یونیورسٹی میں وقت نہیں دے رہے تھے. اس وجہ سے LUMS کے خلاف میڈیا پر ایک تحریک چلائی گئی. VC عادل نجم کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایک فوجی کے بیٹے اور دیوبندی مسلک کے ہیں، اس وجہ سے انھوں نے ہود بھائی کو نکالا ہے.

یہ عادل نجم کا آخری کنٹریکٹ تھا، اس کے بعد پرویز ہود بھائی کے دست راست سید خورشید حسنین کے کزن سہیل نقوی کو VC بنوا دیا گیا.

میری پرویز ہود بھائی صاحب سے پہلی ملاقات 4،5 سال کی عمر میں ہوئی، ہمارے ان کے ساتھ خاندانی تعلقات تھے. بعد میں یونیورسٹی میں ان کی شاگرد بھی رہی.

(ایک محترمہ کا مولوی روکڑا کے نام خط)

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com