بس مسلمانوں سے سوال - مولوی انوار حیدر

مولوی انوار حیدر کیا قیامت ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں پر سوال زن ہوا جاتا ہے، کافروں سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا جاتا. شیطان سے سوال نہیں ہوتا کہ اللہ کے حکم کے مقابل دماغ سے فیصلہ کیوں کیا؟ قابیل سے نہیں پوچھا جاتا کہ ہابیل بھائی کو کیوں قتل کیا؟ یہود سے سوال نہیں ہوتا کہ تم نے عیسیٰؑ بن مریم کی پیروی کیوں نہ کی؟ اور عیسائیوں سے نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیوں نہ کی؟ منافقین سے سوال نہیں کیا جاتا کہ اسلام کو کامل طور قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور مرزائیوں سے جواب طلب نہیں کیا جاتا کہ عقیدہ ختم نبوت سے منحرف کیوں ہوئے اور ایک ناقص انسان کی پیروی کیوں کرلی؟ بس مسلمانوں سے ہی سوال؟؟\n\n√√ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ اپنے والدین کا مسلک اختیار کرنے پر حق بجانب ہیں تو آپ کا مخالف مسلکی مقابل کیوں غلط ہے؟ آپ جنتی ہیں تو وہ جہنمی کیوں ہے؟ آپ کے عقیدوں کی دلیل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ نے اپنے اجداد کو اِسی راہ پہ پایا، کسی اور کے غلط ہونے کی دلیل بس یہی ہے کہ وہ آپ کے گھر پیدا نہیں ہوا، حاجی مستان خان مسلم والدین کے گھر پیدا ہوا تو اُس کا کیا کمال ہے اور مدر ٹریسا عیسائی والدین کے گھر پیدا ہوئی تو اُس کا کیا قصور؟ اگر تم آباء کی پیروی کرتے ہوئے حق پہ ہوسکتے ہو تو دوسرا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اسے بھی تو اپنے اجداد عزیز ہیں؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ کس نے کنفرم کیا کہ آباؤ اجداد کی پیروی درستگی اور فلاح کی دلیل ہے؟ کیا غلط والدین کی پیروی ناکامی کے لیے کافی دلیل نہیں ہے اور کیا صحیح العقیدہ والدین کی پیروی کامیابی کے لیے معتبر نہیں ہے؟ کیا اولاد کو کسی راہ پر چلانے کے ذمہ دار والدین نہیں ہوسکتے. جس معاملہ کے جواب دہ والدین تھے، وہ اولاد کے اکاونٹ میں ڈال دیا گیا. اگر انسان ہمیشہ والدین کی ہی پیروی کرتا ہے تو کیا کہتے ہو کہ قابیل کو قتل کرنا کس نے سکھایا تھا؟ اور کیا کہتے ہو کہ عکرمہؓ بن ابوجہل کے متعلق، اُنہیں اپنے گمراہ والدین سے بغاوت کا درس کس نے دیا تھا؟ کیا انسان نے ہمیشہ والدین کی پیروی کی؟ تو ذرا اُن کے متعلق حکم کیجیے جنہوں نے اپنے والدین سے راہ الگ کی، چاہے وہ غلط راہ چلے یا درست، اعتدال کی بات یہ ہے کہ انسان صرف والدین سے ہی عقیدہ کاپی نہیں کرتا، حواسِ خمسہ، اِردگرد کی معاشرت، ذاتی ذہنی فکر ایسے سب معاملات مِل کر انسان کو راہ دکھاتے ہیں، پھر وہ گمراہ ہوتا یا ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جس عقل کی بنیاد پر سوچنے کی دعوت دی جاتی ہے، کیا وہ سوچ انسان کو غلط دلیل کی بنیاد پر گمراہ نہیں کرسکتی، یہاں ہم کسی کی ذاتی زندگی پر سوال نہیں کریں گے کہ ہمیں اپنی ذات کا خدشہ ہے، کِبر کا ڈر ہے کہ نجانےکب عُجُب ذہن میں آئے اور کوئی ایک لمحہ زندگی بگڑنے کا سبب بن جائے.\n\n√√یہ کس نے کہا کہ ہر مسلک اور ہر مذہب بیک وقت درست ہوسکتا ہے، اگر ہر مسلک مذہب درست ہے تو پھر سچ اور جھوٹ کیا ہے، صحیح اور غلط کیا ہے، اگر ہر انسان اپنی سوچ پہ چلتے ہوئے درست ہوسکتا ہے تو کیا کہتے ہو ابوبکرؓ اور ابوجہل کے مابین؟ کیا کہتے ہو موسیٰؑ اور فرعون کے مابین؟ کیا کہتے ہو ابراہیمؑ و نمرود کے مابین؟ کیا کہتے ہو ہابیل و قابیل کے مابین؟ کیا کہتے ہو آدمؑ و ابلیس کے مابین؟ اِن میں سے ہر ایک کا عقیدہ اپنے مقابل سے مختلف تھا، کیا یہ سب ٹھیک ہیں یا کہ سب غلط ہیں؟ حاجی مستان خان اور مدرٹریسا کے اُولے اٙویلے کیوں ابہام کی دیوار اٹھائی جائے، سیدھی بات کیوں نہ کی جائے، اگر سوچ کی ہی بنیاد پر چلنا ہے تو کفر اور اسلام بارے کیا کہا جائے گا، عقیدہ طے کرکے جینا درست ہے یا کہ اکبر بادشاہ کی طرح ست رنگ ہوکے رہنا اچھا ہے، یا پھر آزادی کی راہ کہ کھلے کھاؤ اور ننگے نہاو. اگر ایک عقیدے پر پختگی شدت پسندی ہے تو کیا حکم ہے اس آیتِ قرآن کے متعلق بےشک جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا، پھر ڈٹ گئے، اُن کی اعانت کے لیے فرشتے اتارے جاتے ہیں. انسانی فکر اور فرمان الہی میں اختلاف واقع ہوجائے تو کیا کیا جائے. ایک عامی مسلمان عقیدہ اور دین کے معاملے میں اللہ ذوالجلال کی جانب کھڑا ہونا پسند کرتا ہے، ایسی انسان پرستی کا کیا فائدہ جو خدا پرستی سے محروم کردے.\n\n√√ اللہ نے کائنات کو بنایا اور مذہب طے کیا ہے، انسان کو دو راستے دکھائے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ میں تو کمپیوٹر کی طرح سافٹ وئیر لوڈڈ تھا، مجھے تو کچھ آزادی بھی نہ تھی. دماغ یعنی سوچنے کی صلاحیت اور ریزن یعنی پوچھنے کی 'خدائی ودیعت کردہ صفات کے تحت جب انسان نے اپنا اختیار استعمال کیا تو بعض دائیں راہ والے ٹھہرے جو ہدایت کی راہ ہے اور بعض بائیں راہ پر چلے جو گمراہی کی راہ ہے. اب عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم اِن کو دو الگ طبقے سمجھیں، ایک سچا گروہ ایک جھوٹا گروہ، ایک کامیاب اور ایک ناکام گروہ، ایک وفادار جماعت ایک غدار جماعت، یہیں سے انسان تقسیم ہوا، کسی نے کامل ہدایت کو پایا کسی نے کچھ ہدایت کو پایا اور کچھ پورے ناکام ٹھہرے، اِس پر مزید کہ انسان کی سہولت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اور سلسلہ شروع کیا، انبیاءِکرام کو بھیجا، وہ پری پلان فکسڈ دستور لےکر آئے کہ معاشرت اور ذاتی فکر و شعور سے تم بعض مرتبہ دھوکہ کھاجاتے ہو، آؤ اور اِس حتمی پیغام کو قبول کرلو، یہ دین ہے یہ تمہاری سہولت کے لیے ہے، اب کچھ تو مان گئے اور کچھ نے انکار کردیا، اللہ نے فرمایا کہ یہ دو جماعتیں ہیں، حزب اللہ اور حزب الشیطٰن، ایک کے لیے فوزان ہے ایک کے لیے خسران ہے، اور اِن دو باتوں میں سے کسی ایک کے اقرار کے بعد اُن کی جستجو کے مطابق معاملہ برتا جاتا ہے، حق پہ استقامت والے کی اعانت کی جاتی ہے جبکہ منکر کو مدتی ڈھیل دی جاتی ہے حتی کہ وہ جہنم تک جا پہنچتا ہے، واضح سی بات ہے کہ جنت و جہنم کا یہ معیار اللہ کا پیدا کردہ ہے انسان کا نہیں ہے.\n\nجہاں تک مسلکی گروہ بندی کا مسئلہ ہے تو یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ ایک دن یا رات یا کسی ایک ذات یا جماعت کا نہیں ہے، ایک طویل وقت کے دوران مختلف حالات میں مختلف حالتوں میں مسلمانوں کو رنگارنگ رکاوٹوں سے پالا پڑا، بارہا فکری انتشار کی نوبت آئی، مختلف علاقوں کے رواجوں نے شریعتِ اسلامیہ میں دراندازی کی، اہلِ عزیمت لوگوں کی مدافعت کے باوجود بگاڑ لاحق ہوتا رہا، لوگوں میں تبدیلیاں آئیں اور آئندہ نسلوں میں یہ معاملہ مزید بگڑتا گیا، اصلاح کی نیت سے باہم گفتگو ہونے لگی مگر اپنے درست ہونے کے زعم میں ہر بندہ پختہ ہوتا گیا اور افراد کے ملنے سے طبقات بنتے چلے گئے، جس کی مثال ہمارے سامنے مسلکوں کی صورت موجود ہے، اب اِن میں سی ہر ایک برحق ہونے کا دعویدار ہے لیکن حق پر وہی ہے جو اللہ اور رسولؐ کے دیے گئے معیار پر قائم ہے، اِس کا بھی ہر ایک دعویدار ہے تو علمی تحقیق اور جستجو تو جاری رہےگی لیکن حتمی نتیجہ آخرت پر چھوڑدیا جائے گا، ہاں جس کو آخرت کا یقین نہیں ہے تو اُس کی مرضی اِسی دنیا میں جو فیصلہ کرتا پھرے، ایک مسلمان پر لازم ہے کہ دیانت داری سے درست راہ چُنے اور اُس پر ڈٹ جائے کہ ایک انسان اِتنا کرنے کا ہی مختار اور مکلّف ہے.\n\n√ ہمارا بھی ایک سوال ہے کہ جس مروت و محبت اور رواداری کے تحت ملکی سرحدوں کا احترام کیا جاتا ہے، ہندوستان کی کتاب میں پھول رکھے جاتے ہیں، کیا اُسی دلیل کے تحت مسلم مسالک برداشت نہیں کیے جا سکتے؟ ایک جگہ پر جادو کی جپھیاں اور دوسری جگہ پر بےزاری اور تعصب کا برتاؤ، صاحب یہ تو کھلا تضاد ہے.