خلا اور شکر - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کبھی کبھی ہماری زندگی میں خلا در آتا ہے. خدا معلوم یہ خلا کہاں سے آتا ہے.\nکیا یہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اور موقع ملتے ہی پھیل کر ہماری تمام زندگی پر محیط ہو جاتا ہے یا ہم اسے خرید کر لاتے ہیں؟ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس خلا کا تجربہ ہم سب کرتے ہیں، جلد یا بدیر، ہم سب اس تجربہ سے گزرتے ہیں، کچھ جلد اس خلا سے باہر نکل آتے ہیں اور کچھ اسی خلا میں چکراتے اپنی باقی ماندہ زندگی بےمقصد گزار دیتے ہیں.\n یہ خلا ہمیں اکثر اس وقت محسوس ہوتا ہے جب ہم اپنی منزل پا لیتے ہیں. جیت کی خوشی مناتے مناتے ہمیں ایک دم خالی پن محسوس ہونے لگتا ہے. پھر سوالیہ خیالات ذہن کو پراگندہ کرتے ہیں . \nبس یہی تھا \nیہی دوڑ تھی \nاسی جیت کے لیے یہ تھکن اور یہ خواری مول لی تھی\nپھر وہ جیت وہ منزل بے معنی ہو جاتی ہے \nہر مبارکباد پھیکی پڑ جاتی ہے \nڈھول تاشے نفیریاں بانسری کے سر، بے ہنگم شور میں بدل جاتے ہیں \nزندگی کا پر مشقت دور اچھا اور بامعنی دکھنے لگتا ہے \nکچھ حاصل کرنے کی خواہش, کچھ پا لینے کی تڑپ ہی دراصل زندگی ہے. اور اس کا حصول موت سے بھی برے خالی پن سے روشناس کرواتا ہے. \nخوابوں کی تکمیل ایک خلا پیدا کرتی ہے، اس خلا کو پورا کرنے کے لیے انسان دیوانہ وار دوڑنے لگتا ہے لیکن ایک پروانے کی طرح جل جاتا ہے یا اپنے مدار میں چکراتا رہ جاتا ہے. \nاس کا حل یہ ہے کہ شکر کرنا سیکھ لیں، جہاں ہیں جس حال میں بھی ہیں، شکر ادا کرنا شروع کر دیں ورنہ یہی شکر کرنا بہت مشکل سے سیکھنا پڑے گا.\nایک دن جب شکر کرنا سیکھ لیں گے تو اطمینان آپ کو اپنی آغوش میں میٹھی لوری اور سکھ کی تھپکیاں دینے لگے گا. سکون کی چادر آپ پر اوڑھا دی جائے گی. \nبس شکر شرط ہے.\nالحمدللہ رب العالمین کنجی ہے.

ٹیگز

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.