جنگ کی آرزو، مردم خور جبلت کی وراثت - فارینہ الماس

وہ دونوں بھائی رات بھر قبر کھودتے رہے۔ رتی رتی مٹی اپنے نوکیلے اور وحشی ناخنوں سے کھرچتے اور پاس ہی ننھی منی ڈھیریوں میں ڈھالتے چلے جاتے۔ قبر کی مٹی ابھی تازہ تھی۔پانی کی بوندوں سے اٹی سوندھی سوندھی مٹی کے ساتھ بھینی بھینی خوشبو بکھیرتے دلکش سرخ گلابوں تلے کوئی ابھی کچھ ساعتوں قبل ہی دنیا کے دل آزار بکھیڑوں سے مکتی پا کر گہری نیند سویا تھا۔ ابھی آج ہی کی گہری شام کے سائے تلے تو وہ وجود اس مٹی کی آغوش کو سونپا گیا تھا۔ دونوں بھائی کسی دور کی بیگانی قبر پر بیٹھے اس کی تدفین کا نظارہ کر رہے تھے۔ تازہ انسانی گوشت بنا کسی سرانڈ اور خراش سے پہلے، وہ خراش جو مٹی کے ہمجولی حشرات کے اس لاش کو بھنبھوڑنے سے ماس پر آجاتی ہے، جہاں کالا پڑتے لہو کی جمی ہوئی قطار گوشت کو بد ذائقہ اور بدنما کر دیتی ہے، اس سے پہلے کا انسانی گوشت ان دونوں بھائیوں کی مرغوب غذا تھا۔ انہیں اس مردم خوری کی خواہش پاگل کر رہی تھی۔ کام جلد از جلد نپٹانے کے لیے وہ وقتاً فوقتًا پاس رکھی کھرپیوں سے بھی مدد لے رہے تھے۔ پسینے کی غلیظ اور ناقابل برداشت باس بکھیرتے قطرے ان کے مکروہ چہروں کو اور بھی زیادہ کریہہ بنا رہے تھے۔ کسی کسی لمحے خوف کی تھر تھری ان کے وجود میں چھوٹتی لیکن فوراً ہی ان کے اندر کی درندگی اور ہوس ان کی گھبراہٹ پر قابو پاکر ان کے وجود میں پلنے والی وحشی بھوک کو جگا دیتی۔ انہیں انسانی وجود کی بوٹیاں نوچنی تھیں۔ بہت دن گزر گئے تھے انسانی لہو کا ذائقہ چکھے۔\n\nکہتے ہیں انسان کو انسانی ماس نوچنے کی عادت ورثے میں ملی ہے۔ نسل انسانی کے ارتقائی مراحل کی تفصیلات کا جائزہ لیں تو مردم خوری اس کی جبلت سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنوب مغربی جرمنی میں دریافت ہونے والی، انسان کی تین ہزار سال پرانی قدیمی باقیات پر تحقیق کرنے سے بھی آدم خوری کے شواہد بآسانی مل جاتے ہیں۔گو کہ یورپ میں پتھر کے دور کے آغاز میں آدم خورموجود تھے۔ لیکن اگر تاریخی شواہد کا مزید مطالعہ کیا جائے تو اس حقیقت کا ادراک بھی ہوتا ہے کہ انسان کی مردم خوری کے آثار کسی ایک انسانی خطے میں نہیں بلکہ اس کائنات کی تقریباً تمام انسانی آبادیوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ رسم عموماً مذہبی تقریبات کا ایک خاص حصہ سمجھی جاتی تھی۔ کبھی سخت قسم کے قحط کی صورتحال میں بھی دشمن قبیلے کے افراد کو مار کر کھایا جاتا تھا۔ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کسی رشتے دار کے مر جانے پر احتراماً بھی اس کے مردہ جسم کے کچھ حصے کو غذا کے طور پرکھایا جاتا تھا۔ بعض قبائل دنیا سے رخصت ہوجانے والے کے سر کو دفنا کر اس کا باقی ماندہ وجود اپنی خوراک کا حصہ بنا لیا کرتے۔ انیسویں صدی میں افریقہ اور بحرالکاہل کے بعض جزائر میں تحقیق کاروں نے ایسے علاقوں کی کھوج لگائی جو باقی دنیا سے بلکل کٹے ہوئے تھے اور ان کی غذا کا سب سے آسان وسیلہ مردم خوری ہی سمجھا جاتا تھا۔ تاریخ میں بعض ایسے افریقی قبائل بھی پائے جاتے ہیں جو تبلیغ کے لیے آئے مشنری عیسائیوں کو سزا کے طور پر مار کر اپنی خوراک کا حصہ بناتے۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہندوﺅں میں ”آگوری قبیلہ“ بھی انسانی گوشت رغبت سے کھایا کرتا تھا۔ اس قبیلے کے سادھو گنگا جمنا سے انسانی لاشیں نکال کر ان کا بھوجن کرتے۔ ویسے تو عموماً قدیم ہندو بھی اپنے مُردوں کو شمشان گھاٹ میں جلایا کرتے تھے لیکن کچھ ہندو کبھی کبھار اپنے مُردوں کو گنگا جمنا میں بھی بہا دیا کرتے۔ اور جنہیں یہ سادھو نہ صرف طویل العمری پانے کی خاطر اپنے منہ کا نوالہ بناتے بلکہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اس طریقے سے کچھ مافوق الفطرت شکتیوں کا حصول بھی ممکن ہو پاتا ہے۔ ایسے سادھو آج بھی شمالی بھارت کی پہاڑیوں میں قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ انڈونیشیا کے قریب بحرالکاہل میں واقع ملک نیوگنی کے دور افتادہ جنگلوں میں آج بھی مردم خور قبیلہ موجود ہے۔ فجی کو تو آدم خوری کی وجہ سے کسی زمانے میں ”آدم خوروں کا جزیرہ “ کہا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سردیاں شروع ہوئیں تو فوجیوں کے لیے پرندے ،چوہے اور دوسرے جانور دستیاب ہونا ختم ہو گئے تو ایسے کڑے وقت میں پیٹ کی آگ بجھانے کو فوجیوں نے مردہ اور سڑے ہوئے جسموں کو کھا کر اپنی بقاءکا انتظام کیا۔گویا مردم خوری کا تعلق بہت شدید حد تک انسان کی بھو ک سے رہا ہے۔ اور بہت ہی قلیل طور پر کسی ذہنی و دماغی عارضے سے۔\n\nشاید انسان اپنے ارتقاء کے پہلے مرحلے میں ایسا نہ رہا ہو شاید محض جڑی بوٹیاں اور جنگلی بیریاں ہی اس کی غذا رہی ہوں۔ پھر انسان کی وحشت کے ایسے دور کا آغاز ہوا جب اس نے جنگلی جانوروں سے اپنی جان کے تحفظ کی خاطر اپنا پہلا ہتھیار ایجاد کیا۔ وہ درختوں پر اپنا بسیرا کر کے، شکار کی تاک میں رہتا اور نا صرف اپنے ہتھیار سے خود اپنی جان محفوظ بناتا بلکہ ان جنگلی جانوروں کا شکار کر کے اپنی بھوک بھی مٹاتا تھا۔ لیکن پھر اس ہتھیار کو خود انسان پر بھی آزمایا جانے لگا۔ کبھی زندہ دشمن نما انسان کا شکار تو کبھی مردہ انسان کے جسم سے گوشت نوچنا اس نے سیکھ لیا۔ بعد ازاں جنگلوں سے نکل کر دریاﺅں اور پہاڑوں کا رخ کیا تو خوراک کی جدوجہد نے اسے جنگلوں کو کاٹ کر کھیتوں اور کھلیانوں میں بدلنا سکھایا۔ وہ اپنی وحشی فطرت کو قابو کرنے میں قدرے کامیاب ہوا ۔پھر لوہے کے ہتھیاروں کا استعمال بھی بڑھا ۔اور اس کے استعمال میں بھی بہت جدت اختیار کی گئی۔ لیکن جب دنیاوی سفر کو آسمانی ضابطے عطا ہوئے ،تو یہی آسمانی ضابطے ،انسانی اخلاقیات کو قانونی اور آئینی شقوں میں ڈھالنے میں کامیاب ہوئے اور انسان کو انسان سے اماں ملی۔\n\nکہتے ہیں انسانی ماس جب کسی کے منہ کو لگ جائے تو اس کی لت کبھی چھٹتی نہیں، وقتاً فوقتاً مختلف روپ میں ڈھل کر اس کی ہوس کو تسکین دے ہی لیتی ہے۔گو کہ وقت کے پنے بدلتے رہے۔ انسانی اخلاقیات کے ضابطے روز بروز نکھرتے رہے۔ انسان نے علم اور شعور کی منازل بھی بڑی سرعت سے طے کیں۔ وہ اپنے فلسفے اور خیال کی ندرت کے ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔اس کے افکار کو انوکھے پر لگ گئے ۔دریافت کا زمانہ آیا اور انسان اپنے ہنر اور بے پایاں صلاحیتوں کے عوض اس دنیا کی افضل ترین مخلوق بن گیا۔ لیکن انسان اپنی جبلت نہ بھول سکا۔ وہ محفوظ ہو کر بھی غیر محفوظ ہی رہا۔ وہ معاشرت کے انسانی جنگلوں میں بھی وحشت کے سبق کو قصہءماضی نہ بنا پایا۔ وہ بربریت کے اصولوں کو اخلاقی ضابطوں کے صحیفوں سے بدل نہیں پایا۔ وہ” آدم خوری “جیسے قبیہہ فعل کو آزماتا ہی رہا۔ اس کی ہوس اور وحشت، کامیابی کے زعم، انا کی تسکین اور طاقت کے حصول جیسے عناصر میں ڈھل گئی۔ انسان اپنی خونی جبلت کی تسکین خونی جنگوں سے کرتا رہا۔ کبھی مذہب اور سیاست کے نام پر ،کبھی فلسفے اور نظریے کے دام میں آ کر تو کبھی جمہوریت و آزادی کے حصول کی جدوجہد میں وہ جنگیں لڑتا رہا۔ اور اپنے جیسے لاکھوں انسانوں کے وجود نوچتا رہا اوربارود سے اس کی دھجیاں اڑاتا رہا۔ انسان نے تین ہزار سالوں میں پانچ ہزار جنگیں لڑیں۔ تیرھویں صدی عیسوی میں منگولوں کی قتل و غارت گری بحرالکاہل کے قریب سے اٹھی اور موت و ہلاکت کا یہ سلسلہ بحیرہ روم کے کناروں تک پھیل گیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں لاکھوں کروڑوں انسانی وجود نگل گئیں۔ کئی خوبرو اور با صلاحیت ،غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انسان بڑی بے دردی سے قبروں میں اتار دیے گئے۔ میدانوں میں لاشیں مکئی کی کٹی فصلوں کے ڈھیر کا نظارہ پیش کرنے لگیں۔ آسمان سے بارود مون سون کی بارش بن کر برستا رہا۔ ہیرو شیما میں 66 ہزار ،اور ناگا ساکی میں 39ہزار جیتے جاگتے انسان آن ہی آن میں لقمہءاجل بن گئے۔ ہٹلر کی مردم خوری کی جبلت 6 ملین انسان نگل گئی۔ انسان جیت گیا انسانیت ہار گئی۔ ان جنگوں کے علاوہ فلسطین میں 50 لاکھ اور کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کا قتل، عراق میں2003ء سے اب تک پانچ لاکھ انسانوں کا قتل، شام میں چار لاکھ ستر ہزار بے گناہ شہریوں کا قتل انسان کی انسانیت کا منہ چڑاتا رہا۔ کون کہاں ،کیسے اور کس قدر انسانی خون اور لوتھڑوں کا تماشا برپا کیے ہوئے ہے یہ ایک طویل داستان ہے۔ لیکن کیا عالمی طاقتیں، عالمی ادارے مردم خور نہیں؟ جو اپنے مفادات کی خاطر غریب اور بے بس انسانوں کو لڑاتے اور مرواتے ہیں اور خود چپ سادھے رہتے ہیں۔ دل دھلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ جدید نیوکلئیر ہتھیار ان ہتھیاروں سے طاقت میں اس قدر مہلک ہیں کہ محض 50 ہتھیار استعمال کر کے 2 ارب لوگ ہلاک کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے آئن سٹائن سے جب کسی نے پوچھا کہ تیسری عالمی جنگ کیسی ہوگی تو اس نے جواب دیا ”تیسری عالمی جنگ کا تو مجھے علم نہیں لیکن چوتھی جنگ تلواروں اور ڈنڈوں سے ہو گی۔“ یعنی تیسری عالمی جنگ کی ہولناکی کی لپیٹ ایسی شدید ہو گی کہ انسانی تہذیب و تمدن کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے گی۔\n\nاب پہلی کہانی کے باقی حصے کی طرف آئیں، دونوں بھائی بہت محنت اور ریاضت کے بعد اس لاش کو باہر نکال پائے۔ وہ بہت عجلت سے کفن کو کھول کر لاش کا جائزہ لینے لگے۔وہ11,12 سال کے ایک معصوم بچے کی لاش تھی۔ دونوں کے منہ سے رال ٹپکنے لگی وہ سوچنے لگے کہ اس لاش کو بوری میں بھر کر اطمینان سے اس کے پارچے بنا کر پکائیں گے۔ یکایک وہاں پولیس پہنچ گئی۔ شاید ان کے فرار سے پہلے ہی مخبری ہو چکی تھی۔ وہ یہ واردات پہلے بھی لاتعداد مرتبہ ڈال چکے تھے اور کم سے کم 40 انسانی لاشوں کو اپنی خوراک بنا چکے تھے۔ لیکن اس بار کامیاب نہ ہو سکے۔ ان پر مقدمہ چلا اور انہیں سزا بھی ہوئی لیکن انہیں کوئی پشیمانی نہ ہوئی۔ ان کی ہر پیشی پر لوگوں کا ہجوم بےقابو رہتا اور ہر کوئی اس مکروہ دھندے کو چلانے والے ذہنی بیمار درندوں کے منہ پر تھوکنا ، یا انہیں زدوکوب کرنا چاہتا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ لاشوں کو کیوں کھاتے تھے؟ وہ کہنے لگے ”بھوک مٹانے کو“. کسی نے سوال داغا کہ کیا انہیں ایسا کرنے پر خود اپنے آپ سے نفرت محسوس نہیں ہو رہی؟ لیکن وہ کہہ رہے تھے۔”کون مردم خور نہیں۔ یہاں سب مردم خور ہیں۔ ہاں ہم میں اور ان میں انسانیت کا کچھ فرق ہے، لوگ زندہ انسانوں کا شکار کرتے ہیں اور ہم مردہ لوگوں کا۔“ کس کا فعل زیادہ قبیح ہے، اس کا فیصلہ مشکل تو نہیں۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */