گلگت بلتستان میں مقامی زبانیں - فہیم اختر

فہیم اختر ثقافت شعوری طرز زندگی کا نام ہے، اس میں وہ تمام عقائد شامل ہوتے ہیں جو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں. ماہرین مذہب کو بھی ثقافت کا جز قرار دیتے ہیں۔ ثقافت سے سے کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی، فن اور ہنر، اور علم و دانش کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جدید دور کو دنیا میں ثقافتوں کی جنگ بھی کہا جارہا ہے. مستقبل قریب میں دنیا میں انہی قوموں کا نام رہے گا جنہوں نے اپنی ثقافت کو محفوظ کیا ہو اور ان قوموں کا نام تاریخ بھول جائے گی جن کی ثقافت مغلوب ہوگئی ہو۔گلوبل ویلیج کے تصور کے بعد دنیا صرف ایک کلک کے فاصلے پر رہ گئی ہے. اب تمام عادات، رہن سہن کے طریقے، گھر بنانے کا انداز، اور ثقافت کے معاشرے پر اثرات و دیگر چیزیں لوگوں سے دور نہیں رہی ہیں، اسی وجہ سے ایک ثقافت کے دوسری ثقافت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے لگے ہیں. چیلنج یہی ہے کہ لوگ کیسے اپنی ثقافت دوسری ثقافتوں کی یلغار سے محفوظ رکھیں۔\n\nگلگت بلتستان کی ثقافت دنیا بھر میں ایک منفرد ثقافت ہے، اس علاقے کی پہچان کرانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہاں کی ثقافت میں تنوع پایا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں کے سفر میں نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پرگلگت بلتستان کی ثقافت بھی عالمی گائوں کی یلغار سے محفوظ نہیں ہے، خصوصی طور پر سی پیک کے منصوبے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ثقافت کو اس سے شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ چیزیں رفتہ رفتہ تبدیل ہو رہی ہیں۔ پرانے الفاظ کی جگہ نئے الفاظ لے رہے ہیں. شانٹی کا تصور آج کے دور میں کم ہوگیا ہے کیونکہ اب کیپ، ہیٹ اور ہیلمٹ جیسی چیزیں آ گئی ہیں۔ اس تناظر صوبائی حکومت کی جانب سےگلگت بلتستان کے ثقافت کو محفوظ کرنے اور اس کی ترویج کے لیے شانٹی کا دن منانا ایک مثبت اور لائق تحسین قدم ہے۔\n\nثقافت کے اہم پہلوئوں اور اس کے اہم اجزا میں ایک ’زبان ‘ہے۔ شانٹی کو محفوظ کرنے کے لیے جس طرح سے ایک دن مختص کیا گیا ہے، اسی انداز میں زبان کو محفوظ کرنے کے لیے بھی ایک دن کی ضرورت ہے یا اسی دن میں زبان کو شامل کرکے متفقہ دن منایا جائے۔ فورم فار لینگویج انیشیٹیوز (FLI) ایک ایسا ادارہ ہے جس میں چھوٹی زبانوں کی شاعری، لوک کہانیاں، اقوال زریں، اور ثقافتی ورثہ کو محفوظ کرتی ہے اور ان کے لغت کو مرتب کرنے، حروف تہجی تشکیل دینے سمیت ان زبانوں کو لکھائی پڑھائی کے لیے استعمال میں لانے کے لیے اقدامات کرتی ہے۔ اس ادارے نے ملک بھر میں 30 کے قریب ایسی زبانوں کی نشان دہی کی ہے جن کے وجود کو مستقبل میں بڑی زبانوں سے خطرہ ہے۔ اور ان زبانوں میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی 6 زبانیں بھی شامل ہیں جن میں شینا، بلتی، بروشسکی، ڈوماکی، وخی اور کھوار شامل ہیں (ڈوما زبان گلگت بلتستان کے ایک قبیلے کی زبان تھی، جسے موجودہ دور میں صرف چند لوگ ہی جانتے ہیں، اس کے الفاظ تک معدوم ہوگئے ہیں) چند ماہ قبل اس ادارے نے گلگت بلتستان میں 7روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں سیمپل کے طور پر شینازبان کو لیا گیا اور اس کے ریسرچ ایریا کے طور پر دنیور کا علاقہ منتخب کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں راقم بھی شریک تھا اور مطلوب سوالات کی بنیاد پر درجنوں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے یہی سوالات رکھے۔ اول تو لوگوں نے شینا زبان کو محفوظ کرنے کا مقصد ظاہر کرنے پر جس محبت کااظہار کیا، وہ الفاظ میں ناقابل بیان ہے۔ سوالنامے کے جوابات کی بنیاد پر یہ محسوس کیا گیا کہ اسے اردو اور انگریزی زبان سے خطرہ ہے، نوجوان نسل شینا کے کئی الفاظ سے ناآشنا ہے، مستقبل کے نوجوان شینا کے کئی الفاظ سے ناآشنا ہوں گے، ضروری ہے کہ شینا زبان کو ذریعہ تعلیم بنادیا جائے اور فوری طور پر نصاب، لٹریچر، اور مخصوص آوازوں کی نشان دہی کرکے مستقل دستاویزات تیار کی جائیں۔ جو لوگ شینا کی ترویج پر محنت کررہے ہیں، انھوں نے خطرے کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے مختلف فورمز پر بتایا کہ شینا زبان نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ کشمیر، انڈیا اور افغانستان میں بھی بولی جاتی ہے لہٰذا اس کے مستقبل کو کوئی خطرہ نہیں ہے. یہ بات سوچنے کی ہے کہ خطرے سے مراد یہ نہیں کہ یہ زبان یکدم معدوم ہوجائے گی یاکوئی انقلاب آئے گا۔ ہم جس علاقے میں سوالنامہ لے کر گئے وہاں پر دیگر اضلاع کے لوگوں کی بڑی تعداد کی رہائش پذیری کی وجہ سے شینا کم اور دیگر زبانیں زیادہ بولی جاتی تھیں۔ یہی حال گلگت شہر کا بھی ہے جس میں دیگر زبانیں بولنے والے زیادہ نظر آئیں گے۔ دیکھنا پڑے گا کہ کاروبار کی زبان، دفاتر کی زبان، سکول اور کالج کی زبان، ذریعہ تعلیم، روزمرہ کے معاملات میں کون سی زبان بولی جاتی ہے۔ بعد ازاں FLI نے پریس کلبگلگت میں بھی صحافیوں کے لیے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کرکے مقامی زبانوں کی ترویج اور مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔\n\nاسلامی تحریک پاکستان کی رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ریحانہ عبادی نے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں قرار داد پیش کی جس میں انہوں نے کہا کہ ”میں فخر کے ساتھ قرارداد پیش کر رہی ہوں کہ گلگت بلتستان کے طلبہ میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید تعلیم کے ساتھ اپنی نئی نسل کو علاقائی زبانوں سے بھی متعارف کرائیں. اس قرارداد کے ذریعے یہ مقتدر ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ جس طرح سندھ میں سندھی، پنجاب میں پنجابی اور بلوچستان میں بلوچی اور کے پی کے میں پشتوزبان (کے پی کے میں پشتو کے علاوہ دیگر مقامی زبانیں بھی ہیں) ان کے تعلیمی نصاب کا باقاعدہ حصہ ہے، اسی طرح گلگت بلتستان میں علاقائی زبانوں کو باقاعدہ تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 28 میں ادب ، ثقافت اور زبانوں کے ترویج اور اشاعت کی ضمانت موجود ہے۔“\n\nاس بکھرے ہوئے موضوع کا مقصد یہی ہے کہ جب آئین پاکستان کا آرٹیکل 28 ادب، ثقافت اور زبانوں کے ترویج اور اشاعت کی ضمانت دیتا ہے تو صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو بھی شانٹی کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ گلگت بلتستان کے مقامی زبانوں کے ترویج اور اشاعت کے لیے اقدامات کریں۔