مولاناالیاس گھمن پر الزامات اور مسلک دیوبند - تصورسمیع

مولاناالیاس گھمن کادوسال پرانا ”حالیہ“ ایشو شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مجھے مولانا کی طرف سے وضاحت آنے سے قبل فی الحال اس پر بات نہیں کرنی کہ اس کے پیچھے کس قدر سچائی اور حقیقت ہے یا کس قدر جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے یا اس کے پیچھے کون سےعناصر کارفرما ہیں۔\n\nمسئلہ یہ ہے کہ اس واقعے کو لے کر بعض نامعقول موقع پرست پرانے حساب چکتا کرنے یا مولوی اور اسلام دشمنی نکالنے کی غرض سے علمائے کرام کے پورے طبقے اور مدارس دینیہ پر کیچڑ اچھالنے اور بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ ایشو اتنا غیرضروری نہیں تھا کہ دلی بغض کی نذر کر دیا جاتا۔ مولانا گھمن صاحب پرلگائے گئے الزامات انتہائی سنگین سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جس پر صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کی جماعت کو مجموعی طور پر وضاحت پیش کرنی چاہیے اور اکابر علماء کو یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لےکر جھوٹ اور سچائی کو سامنے لانا چاہیے۔ ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں موجود ہیں، وہ بھی کارروائی کر سکتے ہیں اور الزامات لگانے والے فتاوی کے ساتھ وہاں سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ اب جبکہ معاملہ کھل گیا ہے تو عدالت جانے اور قانون سے جوع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ان الزامات میں اگر ذرہ برابر سچائی ہے تو یہ انتہائی گھناؤنا اور قابل نفرت عمل ہے جس پر ہم ان کا کسی طور بھی دفاع درست نہیں سمجھتے اور نہ ہی ابھی تک اکابرین میں سے کسی نےدفاعی رویہ اختیار کیا ہے بلکہ بعض مقتدر مذہبی حلقوں نے ان سے اظہار برات اور لاتعلقی کا بھی اعلان کیا ہے۔\n\nاس واقعے یا مولانا کے کردار کی آڑ میں پورے طبقہ علماء اور تمام مدارس کو مورد الزام ٹھہرا کرقابل گردن زدنی قرار دینا درست نہیں ہے۔ یہ ان کےذاتی افعال ہیں جو مذموم اور قابل گرفت ضرور ہیں لیکن اس کا ہمارےعقیدے، منہج اور علمیت سےکوئی تعلق نہیں کہ اس کی وجہ سے علمائے کرام کے خلاف محاذ کھولا جائے، فرقہ واریت پھیلائی جائے اور پورے مسلک کو کٹہرے میں کھڑا کر کے فیصلے سنائے جائیں۔ کسی فرد پر لگے الزامات کی وجہ سےعلمائے کرام اور مدارس دینیہ پر کیچڑ اچھالنا سراسر مذموم اور غیرشرعی رویہ ہے۔ اگر آپ کوکچہری سجانی ہے تو الیاس گھمن کے بارے سجائیے، ان پرجرح کیجیے، گواہ لائیے یا فیصلے سنائیے، ہمیں کوئی سروکارنہیں۔ لیکن اس آڑ میں اگر آپ پورے طبقے، گروہ یا مسلک و منہج کو زیربحث لائیں تو یہ کسی صورت قبول نہیں کہ یہ کسی کامذہبی، مسلکی یا جماعتی ایشو نہیں بلکہ انفرادی فعل ہے جس کی وجہ سے پورے طبقے یا نظریے کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔\n\nابھی تک چونکہ کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آئے، اس لیے اس کے جھوٹ ہونے کے امکان کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنا کہ اس کے سچ ہونے کو ہے۔ آپ حضرات کے پاس اگر ثبوت ہیں تو آپ ضرور مخالفتی تحریں لگائیے، انہیں برا بھلا کہیے اور سزا کا مطالبہ کیجیے لیکن اگر صرف سنی سنائی پر مشتعل ہوئے جاتے ہیں تو یاد رکھیے کل کو ایک ایسی عدالت قائم ہونے والی ہے جس کا منصف عادل اور عالم الغیب ہے جو کسی کے ذرہ برابر اچھے برے کو بھی میزان پر تولے گا اور اس کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے. یہاں فیصلہ نہ بھی ہوا تو اس عدالت میں ضرور الیاس گھمن کے بارے میں بھی فیصلہ ہو جائے گا اور ہم سب کے بارے میں بھی. اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین