والدین کے نام، دل سے نکلی صدا - بنت طاہر قریشی

یقینا آپ جانتے ہیں کہ اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن ساتھ ہی بہت بڑی آزمائش بھی ہے.\nبحیثیت افضل المخلوقات والدین پر اولاد کی بہترین پرورش، اور ان کی اچھی تربیت کی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے. کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ رب العزت نے صرف انسان کو ہی کیوں حکم دیا کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کرے؟ جانوروں کو کیوں نہیں فرمایا کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں، ان کو دین اور دنیا کی مناسب تعلیم دلوائیں، ان کو مہذب بنائیں، اعلی اخلاق سکھائیں، معاشرے کا کار آمد فرد بنائیں وغیرہ وغیرہ؟ حالانکہ ماں باپ تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں.لیکن ہم دیکھتے ھیں کہ جانور اپنے بچے پیدا کرکے چھوڑدیتے ہیں، ان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے. مگر انسان بحیثیت افضل الخلائق کے ایسا نہیں کرسکتا. اس پر فرض قرار دیا گیا کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین دینی ودنیاوی تربیت کرے، ان کو اسلامی معاشرے کا بہترین شہری بنائے اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو یقینا عنداللہ جوابدہ اور سزاوار ہوں گے.\n\nہمارے مشاہدے میں مسلمان والدین کی دو قسمیں سامنے آتی ہیں.\n1:وہ والدین جو اولاد کی محبت میں اس قدر مجبور ہوتے ہیں کہ غلط کام پر بھی بچوں کو سرزنش گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں، نتیجتا ان کے بچے ضدی، ہٹ دھرم اور خود سر ہوجاتے ہیں، اور معاشرے کے کارآمد افراد کیا، بد ترین افراد بن جاتے ہیں.\n2:دوسری قسم ان والدین کی ہے جن کے نزدیک بچوں کو آزادی اور ڈھیل دینا تو دور کی بات وہ بچوں سے پیار محبت کو ہی اکبر الکبائر سمجھتے ہیں. ہر وقت بچوں سے ایسا رویہ رکھتے ہیں گویا بچے کوئی خطرناک مجرم ہیں اور وہ ان کے پہرے دار، نتیجتا ان کے بچے بےاعتمادی، خود ترسی اور تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسے شہری بنتے ہیں جو معاشرے پر صرف بوجھ ہوتے ہیں.\n\nوالدین کی یہ دونوں قسمیں افراط و تفریط کا شکار ہیں، بہت کم ایسے ہیں جو واقعی والدین ہونے کے فرائض صحیح معنوں میں سرانجام دے رہے ہیں. خدارا اپنے بچوں کو سنبھالیے، والدین ہونے کا حق ادا کیجیے. بچوں کی ایسی پرورش کریں جیسا کہ اللہ رب العزت اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں. یاد رکھیں کہ اگر آپ نے اولاد کی اچھی تربیت نہ کی تو وہ دنیا میں تو نقصان کا باعث ہے ہی، آخرت میں بھی آپ کے لیے باعث خسارہ ہے. نہ آپ کی دنیا اچھی رہے گی نہ آخرت. توجہ نہیں دیں گے اور حق ادا نہیں کریں گے تو اولاد دنیا میں آپ کو ذلیل کروائے گی اور آخرت میں رسوا. دنیا میں آپ کو گھر سے دھکا دے گی اور آخرت میں جہنم میں دھکیلے گی.\n\nابھی وقت ھے. والدین کی جس بھی قسم میں داخل ہیں، اس سے نکلیں اور اپنے طرز عمل کو بدل لیں. تھوڑا مشکل ہوگا مگر ناممکن نہیں. تھوڑی محنت زیادہ لگے گی مگر پھل بڑا میٹھا ہوگا. زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھالیں. کہیں آخرت میں کف افسوس نہ ملتے رہ جائیں. وہاں تو بس پھر صرف خسارہ ہی رہ جائے گا.