طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، اسباب، محرکات اور تدارک - نعیم الدین جمالی

نکاح اور شادی جہاں ایک خوبصورت بندھن ہیں، وہاں عظیم عبادت، سنت انبیاء اور بقائے نسل انسانی بھی. یہ رشتہ جس قدر مضبوط لائق محبت ہے، اسی قدر نازک بھی، ہلکی ہلکی ضربیِں بھی اس کی مضبوط ڈور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیتی ہیں، اس لیے اس عظیم بندھن کو توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے.

ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا ناسور ”طلاق“ ہے، اگر چہ شریعت نے بوقت ضرورت اسے جائز اور مباح قرار دیا ہے، مگر اس کا شرعی طریقہ بھی بتلایا ہے کہ جلد بازی اور جذبات سے کام نہیں لینا، بلکہ ہوش و حواس میں رہتے اور سوچتے سمجھتے ہوئے وقفے وقفے سے ایک ایک طلاق دینی ہے. حلال ہونے کے باوجود عنداللہ یہ ایسا مبغوض ترین فعل ہے جس کی وجہ سے عرش الہی کانپ اٹھتا ہے، مگر آج جذبات سے بھرے ہوئے ناعاقبت اندیش لوگ بڑے آرام سے طلاق دے دیتے ہیں. آخر ایسا کیوں ہے؟ طلاق کیوں ہوتی ہے؟ وہ رشتہ جو اتنی خوشیوں سے طے کیا جاتا ہے، آخر اسے ختم کرنے کا منصوبہ کیوں بنا لیا جاتا ہے؟

چند سال پہلے ہمارے معاشرے میں طلاق ایک گالی سمجھی جاتی تھی، بلکہ ہر زمانے میں اسے برا سمجھا جاتا رہا ہے. پہلے زمانے میں اگر کسی خاندان میں طلاق کا سانحہ ہو جاتا تو پورا خاندان دہل جاتا تھا، طلاق کی خبر سننے والے حیرت و تاسف کے مارے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیتے تھے، مگر آج طلاق ایک فیشن اور کھیل بن چکی ہے. آئے دن طلاق کے قصے سننے میں آتے ہیں، دارالافتاء اور عدالتیں طلاق اور خلع کے مسائل سے بھرے پڑے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر طلاق ہو جانا عام سی بات ہو گئی ہے. طلاق کا یہ دن بدن بڑھتا ہوا تناسب ہمارے معاشرے کے چین و سکون کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے.

طلاق کے اسباب میں سے اہم سبب دین سے دوری ہے، جہاں والدین بچوں کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کی کوشش اور محنت کرتے ہیں وہاں والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرائیں تاکہ وہ اپنی زندگی شریعت طیبہ کے مطابق گزاریں اور اس عظیم رشتے کے حقوق کی پاسداری اور اس کی نزاکت کی نگہداشت کرسکیں. اس کے علاوہ طلاق کے اہم اسباب میں سے میاں بیوی کی بد اخلاقی، دوطرفہ رشتہ داروں کی میاں بیوی کے معاملات میں دخل اندازی، ایک دوسرے کی حق تلفی، مزاج میں ہم آہنگی کا فقدان، معیشت میں تفاوت، عمر میں غیر معمولی فرق،گھریلو ناچاکیاں، مشترکہ خاندانی نظام سے بغاوت، جسمانی نفسیاتی یا جذباتی زیادتی، بیوی یا شوہر کا شکی مزاج ہونا، انڈین ٹی وی ڈراموں کے غیر اخلاقی اثرات، شوہر کا نشہ کرنا، وٹہ سٹہ، خواتین کا این جی اوز کی طرف سے ”خواتین آگاہی“ یعنی بغاوت پر اکسانے کے پروگرامات میں شرکت کرنا، نیٹ اور موبائل پر ناجائز تعلقات، شامل ہیں. یہ مذکورہ اسباب طلاق اور خلع کی شرح میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہے ہیں.

طلاق کے نقصانات میں سے بڑا نقصان خانگی تباہی ہے. طلاق کی آگ دونوں خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جو آگے جا کر دائمی دشمنی کا سبب بنتی ہے، جس کی وجہ سے ہنستے مسکراتے خاندان جہنم کدہ بن جاتے ہیں. طلاق سب سے زیادہ اولاد کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ میاں بیوی کی محبت سے بچوں کی بہترین دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت ہوتی ہے. اگر یہ رشتہ منقطع ہوجائے تو بچے نفسیاتی اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں. ایدھی ہومز، نفسیاتی اور رفاہی اداروں میں ایسے بچوں کی اکثریت پائی جاتی ہے، جن کے ذہن میں انتقام کی آگ ہوتی ہے، پھر وہ سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوتے ہیں، اور معاشرے میں مسائل کا سبب بنتے ہیں.

اگرچہ زندگی میں ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے میاں بیوی کا باہمی نباہ نہیں ہو پاتا، ایسی کوئی صورت نظر آئے تو والدین، برادری کے بڑوں کو چاہیے کہ صلح و صفائی کروائیں، اگر یہ ناممکن نہ ہو توشرعی طریقے سے انہیں خلع یا طلاق دلوائیں، لیکن تجربہ یہ ہے کہ جذبات میں آکر غیر شرعی طریقے سے تین طلاقیں دے دیتے ہیں جس کے بعد کوئی سبیل نہیں پچتی سوائے پچھتاوے کے. یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پھر پچھتاوا کسی طرح سود مند ثابت نہیں ہوتا.

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */