مترجم علم کا پٹواری ہے-وسعت اللہ خان

557857-WusatullahNEWNEW-1468605895-811-640x480\n\n(کل یعنی تیس ستمبر کو مترجمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ورلڈ ٹرانسلیشن ڈے منایا گیا۔یہ دن ویسے تو عالمی پیمانے پر انیس سو اکیانوے سے منایا جا رہا ہے تاہم پاکستان میں اس سال پہلی مرتبہ دو تقاریب ہوئیں۔اول گجرات یونیورسٹی میں علاقائی زبانوں اور تراجم کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس جس کا انعقاد پاکستان میں ٹرانسلیشن اسٹڈیز کے اکلوتے تدریسی شعبے نے کیا جس میں ترجمہ کے مضمون میں ایم اے اور پی ایچ ڈی تک کا انتظام ہے۔دوسری تقریب کراچی میں مترجمین کی خدمات کے اعتراف کے طور پر منعقد ہوئی۔ بطور صحافی میرا اور ترجمے کا ساتھ بھی چولی دامن کا ہے۔لہذا اس مضمون کی تلخیص قبول فرمائیے جو گجرات یونیورسٹی کی کانفرنس میں پڑھا گیا)\n\nاگر مترجم نہ میسر ہوتا تو برطانوی سامراجی ہندوستان میں نوے برس تو کیا شائد نوے دن بھی نہ ٹک پاتا۔ علم اور اجنبی کو جاننے کے لیے ترجمے کی وہی اہمیت ہے جو زندگی کے لیے سانس کی۔یوں سمجھئے کہ\n\nیہ ’’تراجم‘‘  کا کارخانہ ہے\nیاں وہی ہے جو اعتبار کیا\n\nاب سے پہلے  دو بار گجرات یونیورسٹی آ چکا ہوں اور دونوں بار مجھے کسی نے شبہ نہیں ہونے دیا کہ یہاں ترجمے کے فن کی باقاعدہ تدریس کا انتظام ہے۔ اگر یہ کانفرنس نہ ہوتی تو شائد تیسری بار بھی معلوم نہ ہوتا۔\n\nاب سے بارہ برس پہلے مجھے پٹیالہ یونیورسٹی  اور وہاں ترجمے کا کام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔شعبے کے انچارج گردیو اروڑا صاحب سے گفتگو میں پہلی بار اندازہ ہوا کہ کسی تہذیب کا رسم الخط تبدیل ہونا بسا اوقات کتنا بڑا المیہ بن جاتا ہے۔انچارج صاحب نے بتایا کہ نئی نسل چونکہ صرف گرمکھی سے واقف ہے لہذا وہ شاہ مکھی میں موجود پنجابی کے وسیع علمی خزانے سے محروم ہو چکی ہے۔\n\nپاکستان سے پنجابی میں بہت سی کتابیں آتی ہیں مگر ان کو پڑھ کے گرمکھی میں منتقل کرنے کا کام صرف وہ تین چار بزرگ ہی  کر سکتے ہیں جنہوں نے تقسیم سے پہلے عربی فارسی رسم الخط میں تعلیم حاصل کی۔اب یہ انتظام کیا گیا کہ پٹیالہ یونیورسٹی سے جو بھی طالبِ علم پنجابی میں ایم فل یا ڈاکٹریٹ کرتا ہے اسے پہلے سال میں شاہ مکھی سیکھنا پڑتی ہے۔تاکہ گلشنِ ترجمہ کا کاروبار آیندہ بھی چلتا رہے۔شکر ہے بلھے شاہ اور وارث شاہ گورمکھی میں منتقل ہو گیا ورنہ ہماری نئی نسل اس سے بھی جاتی۔\n\nمجھے اس وقت پراگ بھی یاد آ رہا ہے۔جہاں چار مہینے قیام کے دوران احساس ہوا کہ ترجمے کا فن اور اس کی سرکاری سرپرستی کتنا بڑا قومی خدمت کا کام ہے۔چیک ری پبلک کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ ہے اور دارلحکومت پراگ میں تین بڑے بک اسٹورز میں تازہ ترین عالمی فکشن اور نان فکشن بھرا پڑا ہے۔\n\nایک بک اسٹور کے مالک نے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ جو ہمیں درکار ہو وہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر چیک زبان میں منتقل نہ ہو جائے۔چیک ری پبلک میں جو لوگ ترجمے کا کام کرتے ہیں۔انھیں اس فن کے ہوتے اپنی مالی آسودگی برقرار رکھنے کے لیے کوئی اور کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔\n\nوہاں اچھا مترجم وہ مانا جاتا ہے جسے چیک کے علاوہ کم ازکم دو بڑی عالمی زبانیں آتی ہوں۔اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں کیونکہ اسکول کی سطح پر ہر بچے کو اہم یورپی زبانوں  میں سے کوئی ایک زبان ضرور پڑھنا پڑتی ہے۔\n\nمیں نے اسی بک اسٹور میں محمد حنیف کا ناول ’’اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘‘ کا چیک ترجمہ ایک بک شیلف  میں پڑا ہوا پایا۔حالانکہ اصل ناول انگریزی میں صرف تین ماہ پہلے شایع ہوا تھا۔اس کے بعد مجھے چیک ری پبلک کے ٹرانسلیشن کلچر کے بارے میں کسی سے مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔\n\nاگرچہ پاکستان ایک وفاق ہے مگر وفاقی اکائیوں کی باہمی اجنبیت کا ایک بنیادی سبب عدم ترجمہ بھی ہے۔مثلاً کتنے وفاق پرست جانتے ہیں کہ سندھی فکشن اور نان فکشن کس سطح کا اور کتنی مقدار میں ہے۔پچھلے ڈیڑھ سو برس میں ادب، شاعری، تاریخ اور سیاست پر سندھی زبان میں جتنا کچھ لکھا گیا۔ہم اس کے پانچ فیصد سے بھی واقف نہیں۔ اگر پچھلے ستر برس میں یہی کام ہو جاتا کہ پاکستان کی علاقائی زبانوں کا پچیس فیصذ حزانہ بھی اردو یا انگریزی میں منتقل ہوجاتا تو آج وفاق کے چار یونٹوں کے لوگ ایک دوسرے کے لیے ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو واقعی جان سکتے\n\nمیں پچھلے اڑتیس برس سے ذرایع ابلاغ سے منسلک ہوں۔اس عرصے میں غلط یا صحیح میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو کم ازکم ایک زبان پر دسترس ہو۔\n\nاگر آپ انگریزی سے اردو ترجمے کا کام کر رہے ہوں تو انگریزی بھلے اتنی اچھی نہ بھی ہو لیکن اردو کے لسانی و استعاراتی و علاقائی قواعد، محاورے، روزمرہ اور لہجوں سے آپ کو بنیادی واقفیت ضرور ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے خدانخواستہ اس فن کو آسان جانا اور یہ فرض کر لیا کہ ترجمہ کرنا کون سا مسئلہ ہے ڈکشنری سامنے رکھو اور ترجمہ کر لو۔بس یہیں سے آپ کی فنی بربادی شروع ہوجاتی ہے۔\n\nایک صحافتی اپرنٹس کوایک خبر ترجمے کے لیے دی گئی جس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ ’’ فارن منسٹر گوہر ایوب سیڈ پاکستان از ناٹ بنانا ری پبلک‘‘ ۔ غریب اپرنٹس نے اس کا ترجمہ کیا کہ ’’وزیرِ خارجہ گوہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کوئی کیلا جمہوریہ نہیں ہے‘‘\n\nڈکشنری زدہ نو وارد و نوزائدہ صحافیوں کو بعض اوقات یہ سمجھانا مشکل ہے کہ جملے کو پہلے دھیان سے پڑھا جائے۔ اگر سمجھ میں نہیں آ رہا تو کسی سے مفہوم پوچھ لیا جائے۔اگر ایک لفظ یا اصطلاح کے پانچ یا چھ مختلف معنی ہیں تو ان میں سے مناسب معنی کے بارے میں مشورہ لینے یا پوچھنے سے توہین ہرگز نہیں ہوتی بلکہ مترجم بعد میں بے در پے شرمندگی سے بچ جاتا ہے۔اور جب تک آپ عصری علوم اور لٹریچر سے کماحقہ نہ سہی واجبی واقف بھی نہ ہوں گے تو ڈکشنری کی تلوار آپ کو ہارا کاری کروانے کے لیے کافی ہے۔\n\nحالیہ برسوں میں میڈیا میں کام کرنے والے جواں سال مترجم کے ساتھ ایک ٹریجڈی یہ بھی ہوئی ہے کہ پہلے اے پی پی، پی پی آئی اور دیگر نیوز ایجنسیوں کی خبریں صرف انگریزی میں آتی تھیں لہذا چار و ناچار ان کا ترجمہ اردو یا کسی اور زبان میں کرنا ہی پڑتا تھا۔\n\nاس بہانے مترجم کے تحت الشعور میں ضروری انگریزی الفاظ و اصطلاحات کا ایک خزانہ ترتیب پاتا چلا جاتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس  کی ترجمہ کرنے کی صلاحیت رواں تر ہوتی جاتی۔لیکن جب سے نیوز ایجنسیوں نے انگریزی کے بجائے تمام خبریں اردو میں مہیا کرنی شروع کی ہیں تب سے ترجمہ کرنے اور سیکھنے کی رہی سہی مجبوری نے بھی ابلاغی کھڑکی سے کود کر جان دے دی ہے۔\n\nآج صورت یہ ہے کہ بولی اور زبان میں تمیز ختم ہو گئی ہے۔اکثر صحافیوں نے زبان کاغذ پر پڑھی نہیں بلکہ سنی ہے۔اس سنی ان سنی کے نتیجے میں اپنے بہت سے ابلاغی ساتھیوں کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ خدانخواستہ بہرے ہوتے تو جاہل ہوتے۔\n\nمیں یہ نہیں کہتا کہ ’’وی ول لیو نو اسٹون اَن ٹرنڈ‘‘ کا ترجمہ یہی کیا جائے کہ کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا۔اس کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ہم ہر ممکن کوشش کریں گے‘‘۔لیکن اگر مجھے ’’ وی ول لیو نو اسٹون ان ٹرنڈ‘‘  جیسے عام سے محاورے کا ترجمہ یہ ملے کہ ہم ہر پتھر اکھاڑ پھینکیں گے تو پھر مجھے بھی یہ حق دیں کہ یہی پتھر میں مترجم پر نہ سہی اپنے ہی سر پے مار لوں۔\n\nاور جنھیں اچھا ترجمہ آتا ہے ان میں سے بہت سوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملی جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے اسے اپنے تعصبات اور خواہشات میں ایسا رنگ دیتے ہیں کہ جملہ کہیں کا کہیں پہنچ کر اگر فوت نہ بھی ہو تو پاگل ضرور ہو جائے۔مثلاً ایک بار ایک نوجوان سب ایڈیٹر کو میں نے ایک نیوز ایجنسی کی ایک خبر دی جس میں ایک جملہ یہ تھا کہ ’’ وائہیل ایڈرینسگ اے گیدرنگ آف لیجسلیٹرز ان سری نگر، دی انڈین پرائم منسٹر مسٹر اٹل بہاری واجپائی ویہمنٹلی سیڈ دیٹ کشمیر از این انٹیگرل پارٹ آف انڈیا اینڈ وِِل رمین سو…\n\nاب ترجمہ ملاحظہ کیجیے ’’بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے سری نگر میں منتخب ارکانِ اسمبلی کے  اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹونگ انگ ہے اور رہے گا‘‘ اب بتائیے کہ آپ میری جگہ ہوتے تو حب الوطنی سے سرشار اس جوشیلے مترجم کا کیا کرتے۔\n\nترجمہ لفظ کا نہیں تحریر کا ہوتا ہے اور سب سے اچھا ترجمہ تحریر کا نہیں مصنف کا کیا جاتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */