چوروں کی مختلف اقسام - عمار راجپوت

مختلف اشیاء کی طرح ذاتی لحاظ سے انسان بھی کئی اقسام کا واقع ہوا ہے اور پھر انسان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے پروفیشن کی بھی مختلف اقسام موجود ہیں. اب چونکہ چور بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور چوری ان کا پروفیشن ہوتی ہے تو ظاہر ہے ان کی بھی کئی اقسام ہوں گی. ذیل میں ان کا اقسام کا اجمالی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔\n\nپروفیشنل چور:\nپروفیشنل چور کا لفظ سن کر اگر آپ کی ذہنی گاڑی رائیونڈ کی سڑک پر چل نکلی ہے تو غلط آپ بھی نہیں مگر فی الوقت میرا مقصد گلی محلوں میں چھوٹے لیول پر ہاتھ صاف کرنے والے چوروں کی نشاندہی کرنا ہے نہ کہ بڑے پیمانہ پر ملکی خزانے کو دونوں ہاتھ سے لوٹنے والے اشرافیہ کی غیبت کرنا . پروفیشنل چور وہ ہوتے ہیں جن کی زندگی کا پہیہ چلتا ہی کسی نہ کسی کی گاڑی کا پہیہ چوری کر کے ہے، چوری ان کےلیے عشق اور جنون بن چکی ہوتی ہے، جب تک چوری نہ کر لیں، انہیں گرم گرم روٹی کی خالص دیسی گھی میں بنی ہوئی چوری بھی ہضم نہیں ہوتی اور ایسے چوروں کی اصلاح قدرے مشکل ہوتی ہے.\n\nاتفاقی چور: \nیہ وہ چور ہوتے ہیں جو کسی خاص ذہن اور پلاننگ کے ساتھ چوری نہیں کرتے مگر اگر راہ چلتے موقع مل جائے تو اسے ضائع بھی نہیں کرتے. مثال کے طور پر جیسے گلی میں چلتے ہوئے انہیں کسی کی کھلی بیٹھک میں یا آفس ٹیبل پر پڑا موبائل دکھائی دے اور پھر یہ آہستہ سے ماڈل چیک کرنے کے بہانے موبائل اٹھا کر رفو چکر ہو جائیں. ایسے چور چونکہ کبھی کبھار ہی اپنا فن دکھاتے ہیں، اس لیے اکثر منظر پر آنے اور بدنامی کمانے سے بچے رہتے ہیں۔\n\nنشئ چور: \nیہ لوگوں کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی ٹیکے لگانے والے بےچارے شریف چور ہوتے ہیں اور دراصل یہ چوری بھی اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے ہی کرتے ہیں. یہ اس قدر ایماندار ہوتے ہیں کہ ان کے ہاتھ جتنا بھی مال غنیمت لگ جائے، یہ اس میں سے اتنا ہی اٹھاتے ہیں جتنے سے ان کا اک وقت کا نشہ پورا ہو سکے۔ اور ایسے لوگ جو دنیا کمانا ہی اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں، ان کو چوروں سے کچھ سبق سیکھنا چاہیے۔\n\nغریب چور: \nیہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ماں کی گود سے افلاس اور بھوک کا دودھ پی کر پلتے بڑھتے ہیں. اک عرصہ تک محنت مزدوری اور حق حلال کی کمائی سے اپنے بوڑھے والدین اور بال بچوں کا پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کے بعد بالآخر مہنگائی سے تنگ آ کر خود کو اس ماڑ تاڑ والی راہ پر گامزن کر لیتے ہیں۔ اگر آپ کی نظر میں کوئی ایسا چور آئے تو بجائے لعن طعن کرنے کے اس کی کچھ مالی امداد کر دی جائے تو بہتر ہے. قوی امید ہے کہ ایسا کرنے سے مجبوری کے سبب چوری جیسا قبیح فعل کرنے والا وہ بھٹکتا راہی ان شاءاللہ راہ راست پر آ جائے گا.