رسیدیں نکالو! آصف محمود

آصف محمود اب تو احباب باقاعدہ گرہ لگاتے ہیں کہ عمران خان نے آصف محمود کے خواب توڑے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ بھائی توڑے ہیں، بالکل توڑے ہیں، ان کی کرچیاں راہوں ہی میں نہیں بکھری پڑیں وجود میں پیوست بھی ہو چکی ہیں لیکن اب کیا ہم سپنوں کا شہزادہ نواز شریف اور آصف زردای کو بنا لیں؟ یا ان کے ایسے ولی عہدوں کو دل میں مکیں کرلیں جو موروثی سیاست کے طفیل ’ قائد محترم‘ بنے پھرتے ہیں اور گاہے ’ جناب سپیکر‘ کے گال بھی تھپتھپا دیتے ہیں لیکن اگر وطن عزیز میں میرٹ ہو تو شایدیہ ایل ڈی اے میں گیارہویں گریڈ کی سرکاری نوکری بھی نہ لے سکیں؟\n\nعمران خان سے ہمارا شکوہ کچھ اور ہے۔ اس جماعت کو اور اس کے قائد کو ہم جہاں دیکھنا چاہتے ہیں، یہ وہاں نہیں ہے۔ اس کے اخلاقی وجود کو ہم جن آلائشوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں وہ لمحہ لمحہ یہاں سکہ رائج الوقت بنتی جا رہی ہیں۔ ہم نے پلکوں میں خواب بن لیے تھے لیکن ہمیں زمینی حقائق کا پیر ہن اوڑھایا جانے لگا ہے، صاف چلی شفاف چلی کو ہم نے مقدس آدرش جان لیا تھا لیکن ہمیں بتایا گیا یہ تو فقط ایک سیاسی نعرہ تھا، ہم نے چاہا تھا کہ سونامی اس ملک کو لاحق سب موذی روایات اڑا کے لے جائے، معلوم ہوا اس کی سرکش لہریں لال حویلی کے نیم سنجیدہ در و دیوار کو بوسے دے رہی ہیں۔ مخلص دوستوں کے بجائے جب عمران کو مسخروں اور ابن الوقتوں کے ہجوم میں گھرا دیکھتے ہیں تو دل اداس ہوتا ہے اور خواب ٹوٹتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری تنقید ہے اور ہمیں اس کا حق ہے۔ تخت لاہور کے نون غنے کس منہ سے تنقید کرتے ہیں۔ چھلنی تو بولے سو بولے چھاج کیوں بولے جس میں سو چھید؟\n\nساری خرابیاں ایک طرف، اور ان کا دفاع بلا شبہ ممکن ہی نہیں۔ تنقید کی ہے اور کرتے رہیں گے اور کسی تعلق خاطر کو خاطر میں لائے بغیر کرتے رہیں گے لیکن ٹوٹے خوابوں کے ملبے پر پڑی ساری خرابیوں کے باوجود عمران خان اور ان کی تحریک انصاف نون غنہ سوچ اور اس کے میمنہ میسرہ پر کھڑے جمہوریوں اور اہل جبہ و دستار سے بہت، بہت، بہت بہتر ہے۔ کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ کہاں راجہ بھوج، کہاں گنگوا تیلی۔\n\nیہ تصور تکلیف دہ ہی نہیں، شرف انسانی کی توہین بھی محسوس ہوتا ہے کہ حقوق انسانی کے اس عہد جدید میں ہماری آئندہ نسلوں کے قائد قبلہ بلاول زرداری اور عالی مرتبت حمزہ شہباز ہوں گے۔ کیا کبھی آپ نے ان عالی دماغوں کو خطاب کرتے سنا ہے؟ کیا لوگوں میں توہین کا احساس بھی جاتا رہا؟\n\nکرپشن، دھوکہ، نوسربازی، چوربازاری، شعبدہ بازی اور اس طرح کی جملہ بیماریوں کے خلاف ہمیں کسی جماعت کے کارکنان میں اضطراب ملتا ہے تو وہ تحریک انصاف ہے یا جماعت اسلامی۔ باقیوں نے تو، الا ماشاء اللہ، ان خرابیوں کو اپنی زلف دراز کا حسن قرار دے کر قبول کر لیا ہے۔ یہ اضطراب غنیمت ہے۔ یہ اس رومان کی آخری نشانی ہے جو تحریک انصاف سے وابستہ تھا۔ یہ اضطراب تحریک انصاف کو اپنی ساری خامیوں سمیت دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ اضطراب سیدنا عمرؓ کی اس فکر کی تذکیر بھی ہے کہ لوگو!تمہیں تمہاری ماؤں نے آزاد پیدا کیا تھا۔\n\nاس اضطراب کا خاتمہ سماج کی موت ہو گی۔ حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اہل اقتدار کا ایک شکنجہ ہے جس نے ریاستی اداروں کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ چودہ لاشیں گر جائیں تو مجرم دندناتے رہتے ہیں۔ امور کی تقسیم وزیراعظم اور وفاقی وزیر برائے اپوزیشن جناب خورشید شاہ کے ہاتھوں میں ہے۔ اب پتا چلا ہے کہ دیوانے ہی نہیں دو فرزانے بھی مل بیٹھیں تو خوب گزرتی ہے۔ اس’ جمہوری بانٹ‘ ( میں اسے بندر بانٹ نہیں کہوں گا کیونکہ میں بے زبان جانور کی توہین کا قائل نہیں) میں اگر کوئی حقیقی اپوزیشن یعنی عمران خان کی بات ہی نہ سنے اور اس کے جائز مطالبات کا تماشا بنا دے تو کیا وہ احتجاج بھی نہ کرے؟ یہ نظام ،ارتقائی عمل کے تحت تبدیلی چاہتا ہے۔ کیونکہ اس نظام کے خدوخال ایسے ہیں کہ جو اس کی برائیوں سے منہ کالا نہ کرے، یہ اس کے ہاتھ میں کاسہ انصاف پکڑا کے اسے رسوا کر دیتا ہے اور وہ بے چارہ ساری عمر انصاف کی تلاش میں دھکے کھاتا رہتا ہے اور انصاف پھر بھی اس کی دسترس میں نہیں آتا۔\n\nایسے میں آدمی کیا کرے؟\nگلے میں ارسطوئے زمانہ حمزہ شہباز شریف اور لقمان وقت بلاول زرداری کی غلامی کا طوق ڈال کے نسلیں ان کے ہاں گروی رکھوا دی جائیں یا آواز اٹھائی جائے؟\nجی ہاں، بے شک عمران نے میرے خواب توڑے ہیں، لیکن اس برفاب سماج میں آواز بھی صرف وہی اٹھا رہے ہیں۔ ہم اپنے خوابوں کا بھی پہرہ دیں گے لیکن عمران کی آواز میں آواز بھی ملائیں گے۔ عمران خان دیوتا نہیں انسان ہیں، ان کی غلطیوں پر ساری دیانت کے ساتھ تنقید بھی جاری رہے گی لیکن وہ اس سماج میں ایک صدائے حریت بھی ہیں:\n’’ لوگو اٹھو!تمہیں تمہاری ماؤں نے آزاد پیدا کیا ہے‘‘۔ اس سدا پر کان وہی بند کر سکتا ہے جو بہرہ ہو، یا غلامی پر رضامند۔\nپانامہ لیکس ہی نہیں، جملہ وارداتوں کا حساب تو مانگا جائے گا۔ یہ حساب تو دینا پڑے گا۔ عمران کی ایک ہزار ایک کامیاں آپ کی ایک واردات کا بھی جواز نہیں بن سکتیں۔\nرسیدیں نکالو!

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.