عورت اور پردے! ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بچپن میں کزن نے چھیڑا، ماں نے سمجھایا پردہ رکھو، بھائی ہے، ماموں کا بیٹا ہے، چچا زاد ہے. \nکچھ سال گزرے تو سکول کالج کے رستے میں کھڑے لڑکوں نے آوازے کسے. ماں کو شکایت کی تو ماں نے کہا پردہ رکھو. بھائیوں کو پتہ لگا تو ایسا نہ ہو کہ غیرت میں کوئی مسئلہ بن جائے. پردہ رکھو.\n\nاگر باپ بھائی تک بات چلی بھی گئی تو گلی کے نکڑ پر کھڑے مجنوں تو غائب ہوئے یا نہیں، لڑکی ضرور پردے کے نام پر گھر میں بٹھا دی جائے گی. تعلیم سے ہاتھ دھوئے گی. کسی کے جرم کی قیمت اپنی تعلیم اور کیرئیر سے محرومی کی صورت میں چکا ئے گی. اور اگر تعلیمی سلسلہ بحال رہا، تب بھی خدا جانے کتنے پردوں کی امانت کا بوجھ اٹھائے تعلیم جاری رکھے گی.\n\nشادی ہو گی تو میکے کے مان سلامت رکھنے کے لیے ادھر کے پردے رکھے گی اور میکے میں سسرال کی عزت بنانے کے لیے سسرالیوں کے پردے رکھتی رہے گی.\n\nچند سال بعد شوہر کہیں متوجہ ہو جائے گا تو میکے اور سسرال کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اپنی وقعت بنائے رکھنے کے لیے شوہر کے پردے رکھے گی.\nکام زیادہ تھا، اوور ٹائم کر رہے تھے، میٹنگ تھی، ایک مسکراہٹ کے ساتھ سارے پردے سنبھال سنبھال کر رکھتی عورت کبھی جب اپنی ذات کے اندر جھانکتی ہے تو تہہ در تہہ پردہ بن چکی ہوتی ہے.\n\nحق کے لیے آواز اٹھائے تو مار کھائے، نہ اٹھائے تو حق گوائے. مار کھا کر زخم چھپاتی عورت، نیل پر ہنس کر ”گر گئی تھی“ کہتی عورت، پردے دار عورت، پردہ شعار عورت، دوسروں کے پردے رکھتی رکھتی اپنے آپ سے پردے رکھنے لگتی ہے. دوسروں سے زیادہ خود کو فریب دے رہی ہوتی ہے. یہ سب حقیقت سے فرار ہے. اگر پردے نہ رکھے تو ایک ایک کر کے ہر رشتہ کھو دے، زندہ نہ رہ پائے. اور صرف عورت ہی رشتے نہ کھوئے، اس کا شوہر اور بچے بھی رشتوں سے محروم ہو جائیں.\n\nیہ جو جوائنٹ فیملی کو اکثر مرد فخر سے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کہ عورتوں کے آپس کے اختلافات کے باوجود ہم بھائی اکٹھے رہ رہے ہیں. دراصل اس کی بنیاد اس جوائنٹ فیملی کی ایک ایک عورت کے سنبھال کر رکھے پردوں نے فراہم کی ہوتی ہے. کوئی ایک عورت اپنے زباں کے تالے کھول دے تو خاندان کا شیرازہ بکھر جائے. اور مرد کی گردن کا سریا ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا ہو جائے.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com