نوازشریف کو کون ہٹائے گا؟ عبید اللہ عابد

عبید اللہ عابداگر کسی کے ہاں اولاد پیدا نہ ہو رہی ہو اور خرابی بھی اُس مرد میں‌ ہو تو کیا وہ اولاد پیدا کرنے کے لیے کسی دوسرے مرد کی خدمات مستعار لے گا؟ نہیں ناں! تو پھر یہ کیسے جائز ہوگیا کہ سیاست دان حکمران وقت سے نجات حاصل کرنے میں‌ ناکام ہوجائیں تو وہ فوج سے کہیں کہ ہٹائو اسے!\n\nپاکستان میں ایک مخصوص طبقہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو مشورے دیتا رہا کہ وہ ریٹائر نہ ہوں۔ جب انھوں نے اس طرز کے مشوروں پر توجہ نہ دی تو آرمی کے باقی جرنیلوں کو ”سمجھانے“ کی کوشش کی گئی کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ غلط ہوگی، انھیں توسیع ملنی چاہیے۔ اب قریبآ سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ میں‌ ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اور یہ مخصوص طبقہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر، تھک ہار کے بیٹھ گیا ہے۔\n\nہم اس طبقہ کو سمجھاتے تھے کہ بھائی ! پاکستانی فوج کے پاس جنرل راحیل ایسے جرنیلوں‌کی کمی نہیں۔ یہ مخصوص طبقہ یوں‌ ظاہر کر رہا تھا جیسے پاکستانی فوج کے پاس ایک ہی جنرل راحیل تھا۔ اس طرح کے مطالبے اور مہمات دراصل فوج کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔\n\nدوسری بات، پانی بہتا رہے تو پانی صاف رہتاہے ورنہ گندا جوہڑ بن جاتاہے۔ آرمی سمیت ہر ادارے میں لوگوں کو اپنی مدت کے خاتمے پر چلے جاناچاہیے، نئے لوگوں کو موقع\nملناچاہیے، اس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔\n\nرہی بات نوازشریف کی،\nنوازشریف معمولی صلاحیت کے حامل سیاست دان ہیں، ان کی کارکردگی سے ہم مطمئن نہیں ہیں لیکن انھیں ہٹانے کا کام فوج کا نہیں، عوام کا ہے۔ اگرکوئی سیاست دان سمجھتا ہے کہ نوازشریف کو مزید برسراقتدار نہیں رہناچاہیے تو وہ عوام کو تیار کرے۔ اگر وہ عوام کو تیار نہیں کرسکتا تو یہ اس سیاست دان کی سیاست پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے! بھائی! اپنے اندر صلاحیت پیدا کرو، یقین ہے کہ آپ اپنے مقاصد میں‌کامیاب ہوجائو گے۔