مجاہد سے دہشت گرد تک کا سفر (3) – مولوی روکڑا

نوے کی دہائی میں جہاں فرقہ واریت کی چنگاری پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے رہی تھی وہاںروس کو افغانستان میں شکست دینے کا صلہ ہمارے دیرینہ دوست امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیوں کی صورت میں دیا. جب پاکستان نے 1998ء میں انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جوہری دھماکے کیے تو امریکہ نے ایک دفعہ پھر اقتصادی پابندیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈال دیا جس کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں روپے نے ڈالر کے مقابلے میں 30 فیصد قدر کھو دی. روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ ہو گیا. کراچی اسٹاک ایکسچینج کی قدر 40 فیصد کم ہو گئی، چنانچہ اس وقت کے وزیراعظم جناب میاں نواز شریف مجبورا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قدموں میں جا بیٹھے. اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے والا ملک صرف سعودی عرب ہی تھا، جس نے پاکستان کو مفت تیل دیا، اور مالی امداد کی.\n\nپرویزمشرف نے مارشل لا لگایا تو پابندیوں کے باوجود شروع میں معیشت میں بہتری آئی مگر پھر نائن الیون جیسا سانحہ رونما ہو گیا. نائن الیون کیوں ہوا، کس نے کیا؟ اس کی حقیقت تو شاید کبھی معلوم نہ ہو، لیکن امریکہ کی اسامہ دشمنی کا آغاز اس سے نہیں ہوا تھا بلکہ اصل مسلہ تب شروع ہوا جب 1990ء میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی عرب کو شک ہوا کہ عراق کا اگلا ہدف سعودی عرب ہوگا، اسی خدشہ کی بنا پر سعودی حکومت نے امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین میں تعینات کرنے کی اجازت دی، جس پر اسامہ بن لادن نے تنقید کی کیوں کہ اسامہ نہیں چاہتا تھا کہ کفار کی افواج کے پاؤں مقدس سرزمین پر پڑیں، اسی بنا پر امریکہ کو اسامہ بن لادن ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا. امریکی پروپیگنڈے کی وجہ سے اسامہ کو سعودی عرب سے دربدر کر دیا گیا اور اسامہ یمن چلا گیا! لیکن پروپیگنڈا جاری رکھا. امریکی حکومت کے لیے اسامہ افغان جہاد کے دوران عظیم مجاہد، عظیم کمانڈر اور افغانستان کا رکھوالا تھا، کیوں کہ وہ روس کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا اور اس کا فائدہ کہیں نہ کہیں امریکا کو ہو رہا تھا، اسی لیے اسامہ بن لادن اور اس کے جنگجوئوں کوامریکی اور سعودی حکومتیں مالی امداد فراہم کرتی تھی. بعض تجزیہ کاروں نے یہاں تک کہا کہ اسامہ بن لادن نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے سی آئی اے سے سکیورٹی ٹریننگ لی تھی، اور اسامہ کو مقدس جنگ کا ہیرو قرار دیا گیا تھا.\n\nاسامہ اس وقت دہشت گرد بنا جب اس نے امریکی کی مڈل ایسٹ خاص کر سعودی عرب میں موجودگی پر تنقید کرنا شروع کی. اسامہ پہلا شخص نہیں تھا جسے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، نیلسن منڈیلا جیسا عظیم رہمنا بھی مغرب کی نظر میں کبھی دہشت گرد تھا، اسامہ اور نیلسن منڈیلا کی دہشت گردی اور ہیرو کی داستان میں فرق اتنا ہے کہ نیلسن منڈیلا پہلے انگلینڈ کی نظر میں کالا دہشت گرد اور بعد میں ہیرو ہوا جبکہ اسامہ امریکہ کی نظر میں پہلے ہیرو تھا اور بعد میں دہشت گرد بنا.\n\nنائن الیون میں ایک بھی افغانی ملوث نہیں تھا مگر افغانستان پر چڑھائی کر دی گئی کیوں کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار دیا، افغان حکومت نے امریکا سے اسامہ کے خلاف ثبوت مانگے لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا جس سے ثابت ہوتا کہ پھر نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ تھا. انھوں نے اسامہ کو ایک تیسرے فریق کے حوالے کرنے کی بھی پیشکش کی مگر اسے مسترد کر دیا گیا. آج پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک کے دشمنوں نے مغرب میں پناہ لے رکھی ہے، تو کیا مغرب ان دشمنوں کو پاکستان یا بنا ثبوت کے کسی دوسرے ممالک کے حوالے کرے گا؟ مغرب اپنے دفاع کے لیے انٹرنیشنل لا اور ہیومن رائٹس جیسی اصطلاحات کے پیچھے چھپ جاتا ہے لیکن اگر یہی پریکٹس کمزور ممالک کریں تو ان پر چڑھائی کر دی جاتی ہے. یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو پرویزمشرف کو بش کے ایک پیغام نے ڈھیر کر دیا ”تم ہمارا ساتھ کھڑے ہو یا ہمارے دشمن“\n(جاری ہے)\nپہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں\n\nدوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.