پیپلزپارٹی کا جےیوآئی سے ہاتھ - فیض اللہ خان

فیض اللہ خان’اسٹیبلشمنٹ مخالف‘ پیپلز پارٹی نے ’اسٹیبلشمنٹ مخالف‘ جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہاتھ کرتے ہوئے اسے اعتماد میں لیے بغیر مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے نیا مسودہ منظور کرلیا ہے. ممکن ہے کہ کل سے شروع ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈے پہ بھی لایا جائے. جے یو آئی کے دعوے کے مطابق گزشتہ دنوں تین لاکھ کارکنان نے تبت سینٹر پہ دھرنا دیا تھا، ہمیشہ کی طرح انہیں بیوقوف بنانے کے لیے جے یو آئی کی طلبہ تنظیم جمعیت طلبہ اسلام کے سابق رہنما اور اب آصف زرداری کے قریبی ساتھی قیوم سومرو اور مرحومہ فوزیہ وہاب کے صاحبزادے و صوبائی مشیر قانون مرتضی وہاب اس دھرنے میں پہنچے اور یقین دلایا کہ جے یو آئی کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر مذاکرات ہوں گےاور ان کی تجاویز کو نئی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ مسودہ منظور ہو چکا اور جے یو آئی کو ہوا بھی لگنے نہیں دی گئی نہ ہی قیوم سومرو اینڈ کمپنی نے جے یو آئی کو ایسے کسی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔\n\nجے یو آئی نے دوبارہ لاکھوں کارکنوں کو کراچی میں جمع کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ دینی مدارس کے اتحاد نے جمعرات کو اپنا ہنگامی اجلاس بھی کراچی میں طلب کرلیا ہے۔\nاسٹیبلشمنٹ مخالف سندھ حکومت نے انتہائی چالاکی سے قیوم سومرو کو استعمال کیا اور سندھ بھر کے کارکنوں کو وزیراعلی ہائوس جانے سے روک دیا. ان دونوں حضرات نے سوائے علامہ خالد محمود سومرو کے مقدمے کو فوجی عدالت بھجوانے کے، کوئی دوسرا تحریری معاہدہ نہیں کیا اور اپنے سر سے بلا ٹال دی. باقی یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سائیں زرداری کی نظر میں معاہدوں کی کتنی وقعت ہے؟\n\nنئی صورتحال میں کیا ہوگا؟ اس کا زیادہ پتہ قیوم سومرو کو ہی ہوگا جو ہر بار اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے نام پر پوری جے یو آئی کو چونا لگا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا جاتے ہیں. حکمت، فہم و فراست اور قدیم ترین جماعت ہونے کے باوجود تنہا قیوم سومرو جے یو آئی کی پوری قیادت کو کیسے استعمال کر جاتے ہیں یہ معمہ وہی حل کرسکتے ہیں۔\nتو ساتھی تیار ہیں دوبارہ دھرنے کے لیے؟

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.