میڈیا کے جرائم-سلیم صافی

saleem safi\n\nمیڈیا میرے رزق کا وسیلہ اور عزت کا ذریعہ ہے اور تادم تحریر اپنے بارے میں یہی فیصلہ ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اسی پیشے سے وابستہ رہوں گا۔ صحافت سے لگائو اپنی جگہ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور کام سیکھا ہے اور نہ کرسکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور ماں کی دعا سے اس شعبے میں تھکا نہ لگتا تو خاکم بدہن کہیں جنگی کمانڈر ہوتا یا پھر باپ دادا کی طرح کھیتوں میں ہی رزق تلاش کررہا ہوتا۔ یوں ڈرتا ہوں کہ اپنے وسیلہ رزق اور ذریعہ عزت پر تنقید کہیں ناشکری کے زمرے میں نہ آئے لیکن اب پانی سر سے گزرتا جارہا ہے۔ یہ احساس شدت سے اندر سے کھانے لگا ہے کہ اگر اس ملک میں خوداحتسابی کے کلچرکو رواج نہ دیا گیا تو جنت جیسا یہ ملک جہنم بن جائے گا اور ہم میڈیا والے اگر دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے نہ نکالیں تو ہماری رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔بدقسمتی سے میڈیا کے جس میڈیم یعنی الیکٹرانک میڈیا نے مجھ جیسے مزدوروں کو کمائی، شہرت اورعزت تینوں کے لحاظ سے راتوں رات زمین سے اٹھا کر آسما ن پر پہنچایا اور جسے ابتدا میں یہ قوم بڑی غنیمت سمجھنے لگی تھی، اب وہی مصیبت بن کرہماری بے وقعتی اور قوم کی مایوسی کا موجب بن رہا ہے۔ اس لئے مجبور ہوں کہ آج اپنے یعنی میڈیا کے جرائم میں سے چند کا اجمالی تذکرہ کرلوں۔\n\nالیکٹرانک میڈیا کے عروج کے ساتھ سب سے زیادہ زیادتی پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہونے لگی۔ وہ لوگ جنہوں نے قربانیاں دی تھیں اور جنہوں نے سالہا سال صحافت سیکھی اور ہم جیسے لوگوں کو سکھائی تھی، وہ بے چارے پس منظر میں چلے گئے۔ تنخواہوں، مراعات، شہرت اور اہمیت ہر حوالے سے وہ نظرانداز ہونے لگے اور صرف وہی لوگ میڈیا کی پہچان بننے لگے جنہوں نے ہم جیسے اپنے آپ کو ٹی وی اسکرین سے بھی جوڑ دیا اور یا پھر جو پیراشوٹ کے ذریعے اس میدان میں وارد ہوئے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ پاکستان ہو یا دنیا کے باقی ممالک، پرنٹ میڈیا کی ساکھ الیکٹرانک میڈیا سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسرا ظلم یہ ہوا کہ جائز ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے والے وہ لوگ میڈیا مالکان کی صورت میں اس میدان میں آئے جو صحافت کے الف ب سے واقف نہیں تھے اور جو سیٹھ کے ذہن کے ساتھ اہل صحافت کو بھی اس طرح ڈیل کرنے لگے جس طرح کسی کارخانے کا مالک اپنے مزدوروں کو یا پھر کوئی فلم پروڈیوسر اپنے اداکاروں کو ڈیل کرتا ہے۔ میڈیا کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ سیاست کے ساتھ ساتھ کھیل، شوبز، کاروبار اورغرض زندگی کے ہر شعبے پر نظر رکھے لیکن ہمارے ہاں اب شوبز، کھیل اور کاروبار تینوں،نیوز اور کرنٹ افیئرز کے ساتھ خلط ملط ہوئے۔\n\nبعض اوقات نیوز دیکھتے ہوئے یہ تفریق مشکل ہوجاتی ہے کہ میں نیوز دیکھ رہا ہوں یا پھر کوئی ڈرامہ۔ اسی طرح کاروبار ہی نیوز اور کرنٹ افیئر کے پروگراموں میں ترجیحات کا تعین کرتا ہے جبکہ کھیل کو ہم نے کھیل رہنے نہیں دیا بلکہ تمام اہم خبروں کو ان پر قربان کردیا اور پھر تما م کھیلوں کو کرکٹ پر قربان کرنے لگے۔ ایک اور جرم ہم سے یہ سرزد ہوگیا کہ نیوز، کرنٹ افیئرز، تفریح اور مذہب کو ہم نے خلط ملط کردیا۔ ایک ہی بندہ ایکٹر بھی ہے، کرنٹ افیئرز کا ماہر بھی، رپورٹرز کی طرح نیوز بریک کرنے والا بھی اور مذہبی پروگراموں کا میزبان بھی۔ نیوز اور کرنٹ افیئرز جو سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں، میں ہم گلیمر اور تفریح لے آئے اور انٹرٹینمنٹ کو سیاست زدہ کردیا۔ ایک اور جرم ہم سے یہ سرزد ہوا کہ مقبولیت کے زعم میں ہم اہل صحافت بڑے ظرف کا مظاہرہ کرکے اپنی حدود کے اندر نہیں رہے۔ کسی نے جج بننے کی کوشش کی، کوئی مفتی بننے لگا، کسی نے حب الوطنی اور غداری کے فتوے بانٹنے شروع کئے، کوئی لیڈر بننے میں مگن رہا۔ کوئی ججوں کی بحالی کا کریڈٹ لینے لگا اور کوئی اس زعم میں مبتلا ہوگیا کہ اس ملک میں جہوریت کی بحالی کا سہرا تو بس اس کے سر ہے۔ پھر کوئی ایک پارٹی کا ترجمان بن گیا، کوئی دوسری کا، کوئی فوج کا تو کوئی کسی ایجنسی کا۔\n\nہمارا کام خبر دینے اور تجزیہ کرنے تک محدود رہنا چاہئے تھا لیکن ہم حد سے آگے بڑھنے لگے حالانکہ کسی بھی زعم میں ہو اور کوئی بھی ادارہ ہو، وہ اگر حد سے نکل جائے تو اپنی عزت اور وقار کھوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایک اورظلم ہم میڈیا والوں نے یہ کیا کہ ہمارے بعض دوستوں نے اسے مناصب کے حصول کا ذریعہ بنا دیا۔ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ ایک انسان کوئی ایک پیشہ چھوڑ کر دوسرے میں چلا جائے لیکن دونوں کو ساتھ ساتھ چلانا یا پھر ایک پیشے میں رہتے ہوئے، غیرجانبداری کا تاثر دے کر اسے دوسرے میں جانے کے لئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرنا، سراسر ظلم ہے۔ موجودہ دور میں تویہ بیماری بہت عام ہوگئی ہے اور آپ کسی حکومتی اقدام کی توصیف کریںتو یہ شک کیا جاتا ہے کہ آپ بھی کسی حکومتی عہدے کے حصول کے متمنی ہیں اور آپ تنقید کریں تو حکومت یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ عہدہ یا مفاد نہ ملنے سے ناراض ہے یا پھر دوسری پارٹی میں جگہ بنانا چاہتا ہے۔ دو کشتیوں پر سوار ہمارے میڈیا کے دوستوں کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے جینوئن میڈیا پرسنز کا کام کتنا مشکل بنا دیا ہے۔ پھر ریٹنگ کے چکر میں تو ہم میڈیا نے مظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ ہم نے ٹاک شوز میں بلا بلا کر اور لڑا لڑا کر سیاست کے شعبے میں بدتمیزوں، چرب زبانوں، خوشامدیوں اور چمچوں کو سیاسی جماعتوں اور عوام کی نظروں میں اہم یا معتبر بنا دیا اور ہر سیاسی جماعت کے سمجھدار، سنجیدہ اور خاندانی لوگ پس منظر میں چلے گئے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) اس کی اچھی مثالیں ہیں کہ وہاں حلقوں اور سنجیدہ فورمز سے غائب رہنے والے ٹاک شوز کے چند ماہرین کیسے مشہور ہوئے اور اچھے بھلے تجربہ کار او رسنجیدہ سیاستدان پس منظر میں چلے گئے۔\n\nآج ہر اہم ایشو کے حوالے سے قوم کنفیوژ اس لئے ہے کہ وہی چند خوشامدی، چرب زبان بدتمیز ہیں کہ جو شام کے وقت ہمارے ٹاک شوز میں بیٹھ کرمعیشت پر بھی درس دے رہے ہوتے ہیں، نیشنل سیکورٹی پر بھی اور خارجہ پالیسی پر بھی۔ یوں تو ہمارے جرائم کی تفصیل اتنی لمبی ہے کہ اس پر ہزاروں صفحات لکھے جاسکتے ہیں لیکن تازہ ترین جرم جو نہایت شدت اختیار کرگیا ہے، وہ محروم پاکستانیوں کی محرومیوں کو مزید بڑھانے کا جرم ہے۔ اس قوم کو پہلے بھی یہ پیغا م دیا جارہا تھا کہ یہاں پر وردی والا اہم اور بغیر وردی والا غیراہم ہے، یہاں ایک ادارہ تنقید سے بالاتر ہے تو دوسرے سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ میاں نوازشریف کی حکومت میں یہ محرومیاں یوں بھی بڑھ گئی ہیں کہ وہ پوری قوم کو اپنے عمل کے ساتھ یہ پیغا م دے رہے ہیں کہ پاکستان صرف ایک خطہ زمین کانام ہے لیکن اب نیوز چینلز بھی اپنے رویے سے یہ پیغام دینے لگے ہیں کہ اس ملک میں صرف کراچی اور لاہور کے لوگ اہم ہیں اور باقی شاید انسان یا پھر ان جتنے اہم نہیں ہیں۔ ہمارے رویے سے ان کو یہ پیغام تواتر کے ساتھ مل رہا ہے کہ کرکٹ کے کسی میچ میں کسی کھلاڑی کی کارکردگی اہم ہے لیکن کوئٹہ میں سوسائٹی کے درجنوں سرداروںکی موت کا المیہ اہم نہیں ہے۔ کراچی میں کسی سیاسی جماعت کا سیاسی ڈرامہ اہم ترین ہے لیکن مہمند ایجنسی میں تین درجن سے زائد انسانوںکی زندگیوں کا خاتمہ غیراہم ہے۔ کراچی یا لاہور میں کسی کھیل تماشے کا تو دنوں تک فالو اپ کیا جاتا ہے لیکن مہمند ایجنسی کے بارے میں کوئی فالواپ نہیں کیا جاتا کہ ان لوگوں کو کیسے دفن کیا گیا، زخمیوں کے ساتھ کیا ہوا اور کس طرح اگلے روز گورنر خیبر پختونخوا کے دورے کے ڈرامے کے لئے دو تحصیلوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تاکہ لوگ فاتحہ خوانی کے لئے بھی نہ جاسکیں۔\n\nمحرومی کا یہ پیغام صرف فاٹا اور بلوچستان کو نہیں بلکہ اندرون سندھ،خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور حتیٰ کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں کے لوگوں کو بھی تسلسل کے ساتھ مل رہا ہے۔ پھر سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی آڑ میں کچھ لوگ اداروں کے مابین نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں اور کچھ پنجاب کے خلاف۔ بعض ظالم اور کچھ بیرونی اشاروں پر سرگرم لوگ تو اسے پاکستان کے خلاف نفرت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں ان محروم لوگوں کی شکایات سن سن کر تنگ آگیا ہوں۔ گوادر گیا تو وہاں کے جوانوں اور سیاستدانوں نے بالاتفاق میڈیا کے اس رویے پر ہمیں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا ور چونکہ ان کی ہر شکایت بجا تھی، اس لئے کوئی جواب دینے کی بجائے میں نے ان سے میڈیا کا حصہ ہونے کے ناطے معافی مانگی۔ پچھلے دنوں گلگت بلتستان گیا تو وہاں پر میڈیا سے متعلق شکایتوں کے انبار لگ گئے اور میرے پاس سر جھکاکر سننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیونکہ انکی ایک ایک شکایت جائز تھی۔ فاٹا میں تو مجھے جانے کی اجازت نہیں لیکن گزشتہ روز میرے باپ دادا کی سرزمین یعنی مہمند ایجنسی کے محروموں کی محرومیوں کو جس طرح میڈیا نے مزید بڑھا دیا، اس رویے پر تو میں خود اپنے آپ کو کوستا رہا۔کیا ہم اس دن کا انتظار کررہے ہیں کہ کوئی اس معاملے میںبھی ڈنڈا اٹھا کر پاکستانی میڈیا کو حقیقی معنوں میں پاکستانی میڈیا بنانے کے لئے اٹھے۔ اگر فوج جیسے ڈسلپن اداروں میں تمام علاقوں کی نمائندگی پر زور دیا جاتا ہے تو پاکستان کے قومی میڈیا میں بلوچستان، گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، آزاد کشمیر، پختونخوا اور فاٹا کی نمائندگی پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ رات کے وقت ٹی وی چینلز پر قوم کو اخلاقیات کا سبق دینے والے اینکرز، تجزیہ کاروںاور کالم نگاروں میں ان محروم علاقوں کی نمائندگی کتنی ہے ؟