عمران خان کی بنیادی غلطی - عبید اللہ عابد

عبید اللہ عابد کہانی یہ ہے کہ سن 2008 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار چودھری ظفراقبال نے چیچہ وطنی کی نشست 162 سے 70 ہزار ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی. رائے فیملی کے رائے عزیزاللہ نے آزادامیدوار کی حیثیت سے 65 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔\n\nسن 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار رائے حسن نواز نے 88 ہزار ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ آزاد امیدوار حاجی ایوب جسے نوازلیگ کی حمایت حاصل تھی، نے 75 ہزار ووٹ حاصل کیا۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو محض ساڑھے 9 ہزار ووٹ ملے۔\n\nگزشتہ روز کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے طفیل جٹ 74 ہزار281 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ رائے مرتضیٰ اقبال 61 ہزار 836 ووٹ لے سکے۔ پیپلز پارٹی کے چودھری شہزاد چیمہ پندرہ ہزار873 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔\n\nاس ساری کہانی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سیٹ مسلم لیگ ن لے اڑی۔ پنجاب سے اس کی قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کم ہوگئی ہے۔ میں‌نے سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے نوجوانوں کا ”دھاندلی ٹرینڈ“ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن نہ ملا، آج کے اخبارات چھان مارے، تحریک انصاف کے کسی رہنما کی طرف سے دھاندلی کا الزام بھی نظر نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کے رہنما چودھری سرور کا بیان پڑھا کہ نتائج تسلیم کرتے ہیں کیونکہ یہ الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوئے ہیں۔\n\nہمارے دفتر میں ایک دوست صبح سے حساب کتاب کر رہے ہیں کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی کتنی سیٹیں باقی رہ گئی ہیں۔ عمران خان دو برس بعد ہونے والے انتخابات میں نوازلیگ کو شکست دینے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کل تحریک انصاف اپنی ہی سیٹ کیوں ہارگئی؟ پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے دوست بڑے پرامید تھے کہ وہ صوبہ خیبر میں اس قدر ”شاندار“ کارکردگی دکھا رہے ہیں کہ اگلے انتخابات میں نوازلیگ کو ایوان اقتدار سے آئوٹ کردیں گے لیکن میں‌ان سے اختلاف کرتا تھا۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگلے انتخابات میں صوبہ خیبر سے بھی پی ٹی آئی کو مئی 2013ء جتنی سیٹیں نہیں ملیں‌ گی۔ پی ٹی آئی کے دوست میرے خدشے کو مسترد کرتے تھے۔ کل کے ضمنی انتخاب نے بتادیا ہے کہ میرا خدشہ درست ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ پی ٹی آئی والے مختلف توجیہات پیش کرکے میرے اس خدشے سے اتفاق نہیں کریں گے، وہ ”سب اچھا“ کے اسیر ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنان کا کیا ذکر، ان کے چیئرمین عمران خان بھی اسی مخصوص ذہنیت کے حامل ہیں اور کبھی اپنی غلطی کا حساب کتاب نہیں‌ کرتے۔ وہ پاکستانی قوم کو بھی ”کرکٹ ٹیم“ ہی سمجھتے ہیں، وہ پاکستان کو بھی ”شوکت خانم“ یا ”نمل یونیورسٹی“ ہی خیال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی غلطی ہے جو انھیں نقصان سے دوچار کر رہی ہے۔