اشفاق احمد اور ادبی دہشت گردی - کبیر علی

%d8%a7%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7 اشفاق احمد صاحب کی برسی گزری۔ ان کے کام کے بار ے تو سبھی لوگ آگاہ ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی، ڈرامہ نگاری، صداکاری، زاویہ پروگرام، افسانہ نگاری، تدریس، لغت سازی، روحانیت وغیرہ کی جہتوں پہ پھیلا ہوا ہے۔ تاہم اس تحریر کا مقصد، اشفاق صاحب اور ان کے قریبی دوستوں کے بارے پڑھنے والوں کی دو متضاد آرا کا جائزہ لینا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو اشفاق صاحب کو صوفی اور ”بابا“ سمجھتے ہیں، واصف علی واصف کو پہنچا ہوا پیر اور قدرت اللہ شہاب کو ولی اللہ جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ہیں جن کے خیال میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب وغیرہ لوگوں کا ایک گروہ تھا جو ایک دوسرے کی مدح سرائی میں مصروف رہتے۔ من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو۔\n\nان حضرات کو صوفی اور بابا سمجھنے والے کسی خاص فکری گروہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یعنی نہ وہ لازمی طور پہ رائٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی لیفٹ سے۔ یہ لوگ فقط ان سبھی لکھنے والوں کے قاری ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے دوست ہیں جو مندرجہ بالا ادیبوں کا نام انتہائی ادب سے لیتے ہیں، بلکہ شنید ہے کہ واصف علی واصف صاحب کی قبر پہ تو عرس بھی ہونے لگا ہے۔ یہ تمام وہ قارئین ہیں جنہوں نے بانو قدسیہ اور اشفاق صاحب کے تحریر کردہ ٹی وی ڈرامے دیکھے اور ان میں موجود کرداروں سے خود کو جڑا ہوا محسوس کیا۔ معروف گلوکار ہنس راج ہنس پاکستان میں ایک تقریب میں گانے کے لیے آئے تو کہنے لگے کہ وہ شدید بےچینی کا شکار تھے کہ انہوں نے اشفاق صاحب کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ”من چلے کا سودا“ دیکھا اور پھر وہ سکون اور چین سے بیٹھ کے گانے لگ گئے۔ ناقدین شاید اس ڈرامے کے مواد پہ اعتراض کریں مگر اس پوری ٹیم نے جس قدر جاندار اداکاری کی ہے، اشفاق صاحب کے لکھے ہوئے مشکل مکالموں کو فطری طریقوں سے ادا کیا ہے، یعنی یوں نہیں محسوس ہوا کہ ”جملے پڑھے جار ہے ہیں“ بلکہ یہی محسوس ہوا کہ کردار آپس میں مکالمہ کر رہے ہیں، قابل تحسین ہے۔ اور پھر اشفاق صاحب نے جس طریقے سے ”روحانیت“ کے موضوع کو اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہے، وہ شاید آج کے دور میں ممکن نہ ہو۔\n\nدوسری طرف کچھ دوست ایسے ہیں جو مندرجہ بالا لکھنے والوں کو ”مفاد پرست“سمجھتے ہیں۔ ان دوستوں کا خیال ہے کہ ان لکھنے والوں نے آمریت کو تحفظ دیا، اپنے تحریروں میں جانے بغیر مان لینے، چپ کر کے رہنے، حکمرانوں کے بجائے اپنے اعمال پر توجہ دینے اور اپنے من کو صاف کرنے کی بات کی ہے اور اس کے نتیجے میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کچھ مراعات لیں، پی ٹی وی اور پاکستان ریڈیو پر انہیں خوب ”نوازا“ گیا۔ اپنی تحریروں میں بابوں کا ذکر کر کے لوگوں کو اس وہم میں ڈالا کہ لکھنے والا خود بھی کوئی بابا ہے اور پھر ایک دوسرے کے ”مقام ولایت“ کی تصدیق بھی کرتے رہے۔ مفتی صاحب کے نزدیک شہاب صاحب پہنچے ہوئے بزرگ ہیں، بانو قدسیہ اشفاق احمد کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتیں اور اشفاق صاحب تو ہیں ہی اپنی انا کے اسیر۔ راجہ گدھ میں عجب غیر سائنسی انداز میں حلال حرام کے عقدے سلجھائے گئے ہیں۔ انہی معترض دوستوں میں سے کئی ایسے ہیں جو آگے بڑھ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل میں یہ تمام لکھنے والے ادب کے نام پہ کچرا لکھتے رہے، ان کا لکھا ہوا نہ صرف جھوٹ ہے اور آمریت کو تقویت پہنچاتا ہے بلکہ سرے سے اسے ادب ہی شمار نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح نسیم حجازی نے اسلامی تاریخ کا منجن بیچا، اسی طرح ان لوگوں نے بھی جعلی تصوف کا چورن خوب بیچا۔\n\nصاحب! آپ ہی بتائیے کہ یہ فکری و ادبی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ یعنی آپ صرف اس لیے ایک لکھنے والے کو مکمل طور پہ لایعنی قرار دے رہے ہیں کہ اس نے ”آپ کے ادبی معیار“ کے مطابق ادب تخلیق نہیں کیا، پس اس کی لکھت کو سرے سے ادب ہی نہ مانا جائے۔ ویسے تو ہر زبان ہی کسی نہ کسی درجے میں لشکری ہوتی ہے تاہم اردو زبان کے ساتھ تو خاص طور پر یہ معاملہ ہے کہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر آسانی سے سمولیتی ہے۔ اگر کوئی شاعر/متشاعر اپنی نظم کے اندر دو چار انگریزی کے الفاظ جڑ دے تو آپ واہ واہ کرنے لگتے ہیں اور اشفاق صاحب نے بیسیوں پنجابی الفاظ کو اردو تحریروں میں سمو کر نہ صرف اردو کے دامن کو وسیع کیا ہے بلکہ یوں محسوس ہونے لگتا ہےگویا دبستان دہلی و لکھنؤ کے بعد کوئی ”دبستان ِ پنجاب“ بھی قائم ہوگیا ہے۔ پنجاب کی مٹی سے جڑے الفاظ اور اظہار کے انداز کو اردو میں اس طرح بھر دینا کہ پنجاب کی مٹی کی خوشبو محسوس ہونے لگے، ایک کارنامہ نہیں تو اور کیا ہے؟\n\nکیا لازمی طور پہ ایک ادیب کو جدوجہد اور انقلاب کا پروپیگنڈہ ہی کرنا چاہیے؟ ہمارے ان انقلابی دوستوں نے اس نام نہاد انقلاب کی جدوجہد کر کے کون سا تیر مارا ہے؟ کیا ان کی انقلابی تحریروں سے غربت اور بےبسی کی چکی میں پستے ہوئے لوگوں کی زندگی میں کچھ بہتر ی آ گئی ہے؟ جبکہ دوسری طرف اگر دیکھیں تو ستر، اسی اور نوے کی دہائی کے لوگ آج کے نوجوانوں کی طرح اکہری شخصیت کے حامل نہ تھے، اس کی ایک وجہ یہ ”ٹولہ“ بھی تھا۔ آج جبکہ ہمارے میڈیا گروپس کے پاس کروڑوں کے بجٹ ہیں، کیا ہم سوچ بھی سکتے ہیں کہ زندگی سے اتنے قریب اور اتنے بھرپور ڈرامے بنائے جا سکیں جتنے پی ٹی وی کے اس دور میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے پاکستان کو دیے؟ مستنصر حسین تارڑ اردو کے ایک بڑے ناول نگار اور سفرنامہ لکھنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد وہ شدید مغموم تھے۔ دل اداس، آنکھیں نم اور طبیعت بےچین، کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا ہوگیا اور آئندہ کیا ہوگا۔ ایسے میں اشفاق احمد نے اپنا ریڈیو ڈرامہ تلقین شاہ نشر کیا تو اسی سانحے کو موضوع بنایا، ان کا ہر ہر لفظ گویا ایک پھاہا تھا جو تارڑ صاحب اور دیگر سننے والوں کے زخموں پہ لگتا گیا، امید کی ایک جوت جوگی، زخمی دلوں کو کچھ قرار آیا اور دوبارہ سے جی اٹھنے کی امنگ جاگی۔ دوسری طرف ہمارے یہ معترض دوست ہیں جو آج بھی اس طرح کے مواقع پہ زخموں پہ نمک چھڑکنے سے باز نہیں آتے۔ یقین نہ آئے تو پاکستان کے مختلف قومی ایام پر ان دوستوں کی تحریروں اور سوشل میڈیا پوسٹس پر ایک نگاہ دوڑا کے دیکھ لیجیے۔\n\nجناب! ہم یہ نہیں کہتے کہ ان سبھی لکھنے والوں کو صوفی، بابا یا کوئی پیر مان لیا جائے اور ان کی تحریروں کو ”ملفوظات“ سمجھ لیا جائے مگر انصاف کی بات ضرور کہیں گے۔ پاکستانی معاشرے پر ان لکھنے والوں کے”بورژائی“ اثرات تو ہمارے یہ سیکولر دوست بھی تسلیم کرتے ہیں. اب یہ بھی تسلیم کر لیں کہ یہ بھی”ادب“ ہے چاہے یہ ہمارے ان دوستوں کے ”طے کردہ“ دائرہ ادب یا ان کی ”فہم رسا“ میں نہیں آتا۔ تاہم اگر افسانے کے نام پہ ایک بےسروپا تحریر میں مزدور کا ذکر کر دینا ہی تحریر کو ”سند ادب“ فراہم کرتا ہے تو واقعی ان لکھنے والوں نے ادب کی کوئی خدمت نہیں کی۔