بنگلہ دیش پھانسیاں کیوں؟ ڈاکٹر طارق رمضان

%d8%b7%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d8%b1%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%86بنگلہ دیش میں پچھلے کچھ عرصے سے انصاف کا جس طریقے سے خون کرکے بے گناہوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، وہ مہذب دنیا کے منہ پر ایک طمانچہ ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے روز اول سے ان پھانسیوں کو سیاسی پھانسیاں قرار دیا ہے اور ان فیصلوں کو غیرمنصفانہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے. اس پہلو کو تو قانون اور انصاف کے ماہرین بہتر سمجھ اور بیان کر سکتے ہیں. اس تحریر کا مقصد تو ان واقعات کے ایک دوسرے زاویے کو ہائی لائٹ کرنا ہے.\n\nبہت سے لوگوں کے مطابق ان لوگوں کا جرم پاکستان سے محبت اور وفاداری ہے، دو قومی نظریے اور جغرافیائی سرحدات کی حفاظت ان کا جرم عظیم قرار پایا گیا، مکتی باہنی کے خلاف پاک فوج کا ساتھ دینا ان لوگوں کا جرم ہے اور اس کی وجہ سے سزائے موت ان کو دی جا رہی ہے. یقیناً ایسا ہے، اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سید مودودی کے کارکنان نے ہر مشکل وقت میں وطن عزیز کے لیے ان گنت قربانیاں دی ہیں اور دیتے رہیں گے.\n\nلیکن بنگال کا معاملہ صرف یہاں تک نہیں ہے کیونکہ اگر واقعی صرف یہی جرم تھا تو چالیس سال تک تک اس جرم پر کیوں گرفت نہیں ہوئی اور کوئی سزا کیوں نہیں دی گئی؟ جماعت اسلامی کے رہنما جو اب غدار قرار دیے جا رہے ہیں، ان میں سےاکثر حکومتی مشینری کا حصہ رہے ہیں اور آدھ صدی تک بنگلہ دیش کی تعمیر و ترقی میں سب سے آگے آگے رہے ہیں. اس تناظر میں واللہ معاملہ ہی دوسرا ہے. بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی حیران کن گروتھ، وہاں کی سب سے مظبوط اور موثر اسلامی قوت بننا اور سیکولرازم اور لبرلز کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آنا.\n\nحسینہ واجد کے سیکولر فاشزم کے خلاف سب سے مظبوط آواز ہونا اور بنگلہ دیش کو اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کا خواب ان لوگوں کا جرم ہے. آج کی سیکولر دنیا میں اللہ کی حاکمیت کی بات کرنا سب سے بڑا جرم ہے، کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں، اس کی سزا یہی ہے کہ دیواروں میں چنوایا جائے، تختہ دار پر چڑھایا جائے.\n\nسید قطب نے اپنی معرکتہ الآراء کتاب معالم فی الطریق میں اس کشمکش کو اصحاب الاخدود کے تناظر میں بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ یہ جنگ عقیدے کی جنگ ہے لیکن باطل اس کو نام مختلف دے رہا ہے. ان مومنوں کا جرم ایک ہی ہے اور وہ یہی ہے کہ وہ اللہ کی حاکمیت کا نعرہ لگا رہے ہیں. ان آشفتہ سروں سے ان کی دشمنی کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے.\n\nیاد رہے کہ باطل کے پاس بہانے بےشمار ہیں. چلو مان لیا کہ بنگال کا اسلامسٹ مجرم ہے تو کوئی ذرا مجھے سمجھائے کہ حسن البناء اور سید قطب نے مصر کے خلاف کس کا ساتھ دیا تھا؟ ان لوگوں کا جرم صرف یہی ہے کہ آج کے دور میں رب کی حاکمیت کا اعلان، جدید دور کے ٹرمینالوجی میں جس کو پولیٹیکل اسلام کہتے ہیں اور یہ نعرہ جس طرح فرعون و نمرود اور ابوجہل کے لیے ناقابل قبول تھا، بالکل اسی طرح آج حسینہ واجد سے سیسی تک استعماری حواریوں کے لیے ناقابل برداشت ہے. مگر اگر ظالم ظلم سے باز نہیں آتے تو اسلام کے یہ پروانے اسی طرح اسلام کی شمع پر قربان ہوتے رہیں گے. میرے پیارے رسول کی پیشن گوئیاں میرے لیے کافی ہے کہ اسلام ہی غالب رہے گا اور پوری دنیا پر رب کے نور کا اتمام ہوگا. ان شاءاللہ. تکبیر

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بجا کہا ڈاکٹر صاب مقصود وہی ہے جو فرعون و ابوجہل کا تھا۔ بس فرق یہ ہے کہ اہل حق اج بھی اپنی آپ کو اہل ایمان سے موسوم کرتے ہیں۔ جبکہ اہل بوجہل و فرعون میں دم نہیں کہ اپنی حقیقی اجداد کی طرف اپنی نسبت کریں۔۔