بلیک سوان اور نائن الیون - رضوان اسد خان

رضوان اسد خان جب تک آسٹریلیا میں سیاہ رنگ کے راج ہنس (بلیک سوان) دریافت نہیں ہوئے تھے، دنیا کا خیال تھا کہ ”سوانز“ صرف سفید رنگ کے ہی ہوتے ہیں اور ان کا سیاہ رنگ کا ہونا ناممکن ہے. بعینہ جب تک 9/11 کا واقعہ نہیں ہوا تھا، دنیا کا خیال تھا کہ دنیا کی واحد سپر پاور میں اس قسم کی کارروائی ناممکن ہے. 9/11 بلا مبالغہ طور پر جدید تاریخ میں ”بلیک سوان“ کی سب سے بڑی مثال کہی جا سکتی ہے.\n\n”بلیک سوان“ اب ایک اصطلاح ہے جس سے مراد کوئی بھی ایسا واقعہ ہے جو قطعی غیرمتوقع ہو پر اپنے اثرات کے اعتبار سے عظیم الشان اہمیت کا حامل بن جائے. کچھ لوگ نائن الیون کا مکمل کریڈٹ/الزام القاعدہ کو دیتے ہیں، کچھ کہتے ہیں امریکہ نے خود کروایا اور تیسری تھیوری یہ ہے کہ امریکہ کو اس کی خبر مل گئی تھی (بی بی سی؛ بذریعہ سابق طالبان وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل)، پر اس نے افغانستان اور مسلم دنیا پر چڑھائی کا بہانہ ملنے اور اس پر عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے اسے ہونے دیا. (البتہ پینٹاگان اور وہائٹ ہاؤس کو بچا لیا؟) اپنی نوعیت اور پراسراریت کے لحاظ سے بھی یہ واقعہ ایک بلیک سوان ہی ہے.\n\nطالبان حکومت نے اس حملے کی مذمت کی. پھر بعد میں انہوں نے امریکی جارحیت پر اس کو پیشکش کی کہ ہم اسامہ بن لادن پر او آئی سی کی نگرانی میں مقدمہ چلانے کو تیار ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر اسے کسی تیسرے ملک کے حوالے کر دیں گے یا خود سزا دیں گے.\n\nکیا یہ ”بلف“ تھا؟\nبش نے رعونت سے یہ پیشکش ٹھکرا دی.\nکیا صرف تکبر میں یا تحقیقات پر کچھ اور بھی سامنے آنے کا ڈر تھا؟\nبہرحال یہ ایسا بلیک سوان ہے جس کی اصل حقیقت شاید کبھی عیاں نہ ہو سکے.\n\nلیکن بلیک سوان کی تعریف کے دوسرے حصے پر یہ جس طرح پورا اترتا ہے، اس سے گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ اصطلاح بنائی ہی اس کے لیے گئی تھی؛ یعنی اپنی تاثیر اور نتائج کے اعتبار سے اس کا فقید الامثال ہونا. اس کی اثر پذیری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ تاریخ اب دنیا کو دو ادوار میں پیش کرتی ہے:\nنائن الیون سے قبل اور\nنائن الیون کے بعد\n\nنہ صرف عالمی تاریخ، بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو اس واقعے نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دو حصوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے. عالمی تعلقات، سیاست، مذہب، معاشرت، معیشت، تہذیب، ثقافت، فلسفہ، حتی کہ فقہ الواقع، اجتہاد اور جہاد پر بھی اس نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں.\nاور بات بس یہیں تک نہیں، اس ایک بلیک سوان نے مذید کئی بلیک سوانز کو جنم دیا ہے. مثلاً\n.. اس واقعے کے بعد امریکہ میں اسلام زیادہ تیزی سے پھیلا،\n.. دنیا کی معیشت کو انتہائی غیر معمولی دھچا لگا جس کے اثرات اب تک جاری ہیں،\n.. ”وار آن ٹیرر“ نامی بلیک سوان کے ذریعے اسلام کی بنیادی تعلیمات، مثل خلافت و جہاد، کو بھی ”دہشت گردی“، ”بنیاد پرستی“، ”انتہا پسندی“، ”ریڈیکل اسلام“ اور نجانے کیا کیا قرار دے کر ان سے جان چھڑانے کی باقاعدہ مہم میڈیا اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے چلا کر ”ماڈریٹ اسلام“ کا دین الٰہی ٹائپ تصور پیش کیا گیا اور غامدی فکر کو پذیرائی دلائی گئی،\n.. ادھر اس سب کے رد عمل میں ”داعش“ جیسا بلیک سوان سامنے آیا جس نے بالواسطہ طور پر نادان دوست کی طرح خود اسلام، جہاد اور خلافت کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا.\n\nالغرض اس دیوہیکل بلیک سوان کے اثرات سے نکلنے کے لیے ہمیں ایک اور عظیم بلیک سوان کی ضرورت ہے، جس کی تلاش میں امت کی نظریں اس وقت شام پر لگی ہیں.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.