دیسی لبرل اور عید قرباں - توقیر ماگرے

کئی سو سال پہلے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم کے بعد اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے لے جارہے تھے تو کئی جگہوں پر ابلیس نے انہیں بہکانے کی کوشش کی تھی. \nآج عید کے موقعے پر جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو کچھ اسی طرح کے لوگ نظر آتے ہیں جو عجیب سی منطقیں لاکر اہل ایمان کو بہکانے کی کوششیں کرتے ہیں جیسا کہ قربانی نہ کرو، اس سے تو بہتر ہے کسی یتیم بچی کی شادی کروا دو، کوئی اور فلاحی کام کردو، کسی غریب کا چولہا جلوا دو، ہوں خون بہانے سے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔\n\nایسے لوگوں کو کچھ مشورے دے رہا ہوں، ان پر عمل کرکے آپ معاشرے میں ان فلاحی کاموں کا آغاز تو کریں جو بنی نو انسان کی تاریخ میں آج تک نہیں ہوئے۔\n\nپہلا کام تو یہ کریں کہ آپ کے ہاتھ میں یہ جو پچاس ساٹھ ہزار کا سمارٹ فون ہے، اسے بیچ کر کسی بےروزگار غریب کا معاشی پہیہ چلا دیں.\n دوم یہ کریں کہ اپنے مہنگے کپڑے، براندڈ خوشبوئیں، بھی استعمال کرنا ترک کریں تاکہ کم از کم یہ گمان تو پیدا نہ ہو کہ آپ یہ سب غریبوں کی محبت میں نہیں بلکہ اسلام دشمنی میں کہہ رہے ہیں۔\n\nچلیں کچھ دیر کو مان لیا کہ آپ واقعی معاشرے کے لوئر مڈل کلاس طبقے کی محبت واقعی دل میں رکھتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ محبت تب کیوں نہیں دکھتی جب اربوں روپوں کی کوئی فلم بنتی ہے اور آپ اندسٹری کے ریوائول کا راگ الاپتے پاپ کارن کا ڈبہ بغل میں دبا کر سینما گھر میں گھس جاتے ہیں؟\n غریبوں کی غربت کا خیال تب کہاں جاتا ہے جب لاکھوں روبے آپ شادیوں، سالگرہ، سلور اور گولڈن جوبلیوں پہ لگا دیتے ہیں؟\nآپ کو فلاحی کاموں کا دورہ تب کیوں نہیں پڑتا جب تھر میں بھوک اور ناچ رہی ہوتی ہے، اور سندھ فیسٹیول کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہوتے ہیں؟\n\nجب آپ کے لبرل سیاستدان کروڑوں بلکہ اربوں روپے اپنی عیاشیوں پر لگا دیتے ہیں تب تو آپ اس شدومد سے معاشرے کے پستے ہوئے طبقے کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے؟\n\nیہ آواز تب ہی کیوں سنائی دیتی ہے جب کوئی قربانی کا جانور خرید لائے؟ حالانکہ اس جانور کو پالنے والا چرواہا بھی ایک غریب ہوتا ہے، اس کے لیے گھاس فراہم کرنے والا بھی ایک غریب، اسے سوزوکی/رکشہ میں لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والا بھی عام طور پر ایک مڈل کلاس شخص ہی ہوتا ہے، اور آخر میں قصائی بچ جاتا ہے تو اس کی دولت کا اندازہ لگانا میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔\n\nلیں جناب یہاں جانور کٹا اور وہاں لبرل دوستوں کے ہاں اسی جانور کے گوشت کا وہ حال ہوتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔\nمیرے نئے لبرل دوست ایک نئی تھیوری بھی لاتے ہیں کہ اس طرح ان جانورں کی نسل بھی تباہ ہوتی ہے۔ \nاے میرے بھولے بھالے لبرل بھائی! سینکڑوں سال ہوچکے ہیں اور ہر سال لاکھوں جانور قربان ہوتے ہیں مگر الحمداللہ آج تک دنیا کے کسی کونے میں قربانی کے جانوروں کی قلت نہیں ہوئی اور نہ ہو گی۔ ان شااللہ